ghazalKuch Alfaaz

لوگ کہتے ہیں کہ تو اب بھی خفا ہے مجھ سے تیری آنکھوں نے تو کچھ اور کہا ہے مجھ سے ہاں یہ ا سے سمے کو کوسوں کہ دعا دوں یاروں ج سے نے ہر درد میرا چھین لیا ہے مجھ سے دل کا یہ حال کہ دھڑکے ہی چلا جاتا ہے ایسا لگتا ہے کوئی جرم ہوا ہے مجھ سے کھو گیا تو آج ک ہاں رزق کا دینے والا کوئی روٹی جو کھڑا مانگ رہا ہے مجھ سے اب مری قتل کی تلخی تقریر تو کرنی ہوں گی کون سا راز ہے تیرا جو چھپا ہے مجھ سے

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

More from Jaan Nisar Akhtar

اے درد عشق تجھ سے مکرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو سنبھال حد سے گزرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے اوی سے ہی سے زار تھا اور اب ایک آدھ بات فرض بھی کرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر آن ٹوٹتے یہ عقیدوں کے سلسلے لگتا ہے چنو آج گزرا لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اے چشم یار میرا سدھرنا محال تھا تیرا غصہ ہے کہ سُدھرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ مہر و ماہ عرض و سما مجھ ہے وہ ہے وہ کھو گئے اک کائنات بن کے ابھرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اتنوں کا پیار مجھ سے سنبھالا لگ جائےگا لوگوں تمہارے پیار سے ڈر لگ لگا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دہلی ک ہاں گئیں تری کوچوں کی رونقیں گلیوں سے سر جھکا کے گزرنے لگا ہوں ہے وہ ہے وہ

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئے کون دیتا ہے یہ گلیوں ہے وہ ہے وہ صدا رات گئے یہ حقائق کی چٹانوں سے تراشی دنیا اوڑھ لیتی ہے طلسموں کی ردا رات گئے چبھ کے رہ جاتی ہے سینے ہے وہ ہے وہ بدن کی خوشبو کھول دیتا ہے کوئی بند قبا رات گئے آؤ ہم جسم کی شمعوں سے اجالا کر لیں چاند نکلا بھی تو نکلےگا ذرا رات گئے تو لگ اب آئی تو کیا آج تلک آتی ہے سیڑھیوں سے تری قدموں کی صدا رات گئے

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے سر سے پا تک حقیقت سماں ہے کہ نظر لگتی ہے ہم نے ہر گام پہ سجدوں کے جلائے ہیں چراغ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری گلی گھبرائیے لگتی ہے لمحے لمحے ہے وہ ہے وہ بسی ہے تری یادوں کی مہک آج کی رات تو خوشبو کا سفر لگتی ہے جل گیا تو اپنا نشمن تو کوئی بات نہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب آگ کدھر لگتی ہے ساری دنیا ہے وہ ہے وہ غریبوں کا لہو بہتا ہے ہر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو مری خون سے تر لگتی ہے کوئی آسودہ نہیں اہل سیاست کے سوا یہ ص گرا دشمن ارباب ہنر لگتی ہے واقعہ شہر ہے وہ ہے وہ کل تو کوئی ایسا لگ ہوا یہ تو ذائقہ کے دفترون کی خبر لگتی ہے چھوڑنا کیا تری گلیوں کا مقدر تھا یہی ہر گلی آج تری خاک بسر لگتی ہے

Jaan Nisar Akhtar

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.