چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئے کون دیتا ہے یہ گلیوں ہے وہ ہے وہ صدا رات گئے یہ حقائق کی چٹانوں سے تراشی دنیا اوڑھ لیتی ہے طلسموں کی ردا رات گئے چبھ کے رہ جاتی ہے سینے ہے وہ ہے وہ بدن کی خوشبو کھول دیتا ہے کوئی بند قبا رات گئے آؤ ہم جسم کی شمعوں سے اجالا کر لیں چاند نکلا بھی تو نکلےگا ذرا رات گئے تو لگ اب آئی تو کیا آج تلک آتی ہے سیڑھیوں سے تری قدموں کی صدا رات گئے
Related Ghazal
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
ایک اور بے وجہ چھوڑ کر چلا گیا تو تو کیا ہوا ہمارے ساتھ کون سا یہ پہلی مرتبہ ہوا ازل سے ان ہتھیلیوں ہے وہ ہے وہ ہجر کی لکیر تھی تمہارا دکھ تو چنو مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑا ہوا مری خلاف دشمنوں کی صف ہے وہ ہے وہ ہے حقیقت اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد برا لگوںگا ا سے پر تیر کھینچتا ہوا
Tehzeeb Hafi
183 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
مری دل ہے وہ ہے وہ یہ تری سوا کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے ہم محبت ہے وہ ہے وہ ہارے ہوئے لوگ ہیں اور محبت ہے وہ ہے وہ جیتا ہوا کون ہے مری پہلو سے اٹھ کے گیا تو کون ہے تو نہیں ہے تو تیری جگہ کون ہے تو نے جاتے ہوئے یہ بتایا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا کون ہوں تو میرا کون ہے
Tehzeeb Hafi
145 likes
کوئی حسین تو کوئی دردناک سمجھےگا میرا مزاج وہی ٹھیک ٹھاک سمجھےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے ساتھ کئی راتوں سے ہوں ا سے کا نام بتا تو دوں گا م گر تو مزاق سمجھےگا حقیقت ج سے حساب سے گاتا ہے ا سے سے لگتا ہے کہ مری دکھ کو تو ب سے لڑکھڑاتے پراک سمجھےگا
Kushal Dauneria
36 likes
More from Jaan Nisar Akhtar
ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گی کسی قاتل کا داماں ہم لگ کہتے تھے اکارت جائےگا خون شہیداں ہم لگ کہتے تھے علاج چاک پیرہن ہوا تو ا سے طرح ہوگا سیا جائےگا کانٹوں سے گریباں ہم لگ کہتے تھے ترانے کچھ دیے لفظوں ہے وہ ہے وہ خود کو قید کر لیںگے غضب انداز سے پھیلےگا زندان ہم لگ کہتے تھے کوئی اتنا لگ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے انہی سڑکوں پہ مر جائےگا انساں ہم لگ کہتے تھے نظر لپٹی ہے شعلوں ہے وہ ہے وہ لہو تپتا ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اٹھا ہی چاہتا ہے کوئی طوفاں ہم لگ کہتے تھے چھلکتے جام ہے وہ ہے وہ بھیگی ہوئی آنکھیں اتر آئیں ستائےگی کسی دن یاد یاراں ہم لگ کہتے تھے نئی برزخ کیسے چھوڑنا کو را سے آوےگی عشق دل اجڑ جائےگا یہ شہر غزالاں ہم لگ کہتے تھے
Jaan Nisar Akhtar
0 likes
ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے
Jaan Nisar Akhtar
0 likes
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا
Jaan Nisar Akhtar
1 likes
جاناں پہ کیا بیت گئی کچھ تو بتاؤ یاروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی غیر نہیں ہوں کہ گلشن زیبا یاروں ان اندھیروں سے نکلنے کی کوئی راہ کروں خون دل سے کوئی مشعل ہی جلاؤ یاروں ایک بھی خواب لگ ہوں جن ہے وہ ہے وہ حقیقت آنکھیں کیا ہیں اک لگ اک خواب تو آنکھوں ہے وہ ہے وہ بساؤ یاروں بوجھ دنیا کا اٹھاوں گا اکیلا کب تک ہوں سکے جاناں سے تو کچھ ہاتھ بٹاؤ یاروں زندگی یوں تو لگ بان ہوں ہے وہ ہے وہ چلی آوےگی عشق دل غم دوراں کے ذرا ناز اٹھاؤ یاروں عمر بھر قتل ہوا ہوں ہے وہ ہے وہ تمہاری خاطر آخری سمے تو سولی لگ چڑھاؤ یاروں اور کچھ دیر تمہیں دیکھ کے جی لوں ٹھہرو مری بالیں سے ابھی اٹھ کے لگ جاؤ یاروں
Jaan Nisar Akhtar
3 likes
ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا دل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھا گزر گیا تو ہے کوئی لمحہ شرر کی طرح ابھی تو ہے وہ ہے وہ اسے پہچان بھی نہ پایا تھا معاف کر نہ سکی میری زندگی مجھ کو حقیقت ایک لمحہ کہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے تنگ آیا تھا شگفتہ پھول سمٹ کر کلی بنے چنو کچھ ای سے کمال سے تو نے بدن چرایا تھا پتا نہیں کہ مری بعد ان پہ کیا گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند خواب زمانے ہے وہ ہے وہ چھوڑ آیا تھا
Jaan Nisar Akhtar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.







