ghazalKuch Alfaaz

موج گل موج صبا موج سحر لگتی ہے سر سے پا تک حقیقت سماں ہے کہ نظر لگتی ہے ہم نے ہر گام پہ سجدوں کے جلائے ہیں چراغ اب ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری گلی گھبرائیے لگتی ہے لمحے لمحے ہے وہ ہے وہ بسی ہے تری یادوں کی مہک آج کی رات تو خوشبو کا سفر لگتی ہے جل گیا تو اپنا نشمن تو کوئی بات نہیں دیکھنا یہ ہے کہ اب آگ کدھر لگتی ہے ساری دنیا ہے وہ ہے وہ غریبوں کا لہو بہتا ہے ہر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھ کو مری خون سے تر لگتی ہے کوئی آسودہ نہیں اہل سیاست کے سوا یہ ص گرا دشمن ارباب ہنر لگتی ہے واقعہ شہر ہے وہ ہے وہ کل تو کوئی ایسا لگ ہوا یہ تو ذائقہ کے دفترون کی خبر لگتی ہے چھوڑنا کیا تری گلیوں کا مقدر تھا یہی ہر گلی آج تری خاک بسر لگتی ہے

Related Ghazal

کیا کہےگا کبھی ملنے بھی ا گر آئےگا حقیقت اب وفاداری کی ق سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو نہیں کھائےگا حقیقت ہم سمجھتے تھے کہ ہم اس کا کو بھلا سکتے ہیں حقیقت سمجھتا تھا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھول نہیں پائے گا حقیقت کتنا سوچا تھا پر اتنا تو نہیں سوچا تھا یاد بن جائےگا حقیقت خواب نظر آئےگا حقیقت سب کے ہوتے ہوئے اک روز حقیقت تنہا ہوگا پھروں حقیقت ڈھونڈےگا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور نہیں پائے گا حقیقت اتفاقاً جو کبھی سامنے آیا اجمل اب حقیقت تنہا تو لگ ہوگا جو ٹھہر جائےگا حقیقت

Ajmal Siraj

50 likes

چل دیے پھیر کر نظر جاناں بھی غیر تو غیر تھے م گر جاناں بھی یہ گلی مری دلربا کی ہے دوستوں خیریت ادھر جاناں بھی مجھ پہ لوگوں کے ساتھ ہنستے ہوں لوگ روئیںگے خاص کر جاناں بھی مجھ کو ٹھکرا دیا ہے دنیا نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو مر جاؤں گا ا گر جاناں بھی ا سے کی گاڑی تو جا چکی تابش اب اٹھو جاؤ اپنے گھر جاناں بھی

Zubair Ali Tabish

58 likes

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ ہے وہ ہے وہ میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے جاناں مدد کروگے بدن کے ملبے سے ا سے کو زندہ نکالنا ہے نظر ہے وہ ہے وہ رکھنا کہی کوئی غم شنا سے گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب ا سے پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تی سے برسوں سے کچھ بر سے پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزا نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا تو ا سے شجر کا شجرہ نکالنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے

Umair Najmi

33 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

ویسے ہے وہ ہے وہ نے دنیا ہے وہ ہے وہ کیا دیکھا ہے جاناں کہتے ہوں تو پھروں اچھا دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو اپنی وحشت تحفے ہے وہ ہے وہ دوں ہاتھ اٹھائے ج سے نے صحرا دیکھا ہے بن دیکھے ا سے کی تصویر بنا لوں گا آج تو ہے وہ ہے وہ نے ا سے کو اتنا دیکھا ہے ایک نظر ہے وہ ہے وہ منظر کب کھلتے ہیں دوست تو نے دیکھا بھی ہے تو کیا دیکھا ہے عشق ہے وہ ہے وہ بندہ مر بھی سکتا ہے ہے وہ ہے وہ نے دل کی دستاویز ہے وہ ہے وہ لکھا دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آنکھیں دیکھ کے ہی بتلا دوں گا جاناں ہے وہ ہے وہ سے ک سے ک سے نے دریا دیکھا ہے آگے سیدھے ہاتھ پہ ایک ترائی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پہلے بھی یہ رستہ دیکھا ہے جاناں کو تو ا سے باغ کا نام پتا ہوگا جاناں نے تو ا سے شہر کا نقشہ دیکھا ہے

Tehzeeb Hafi

80 likes

More from Jaan Nisar Akhtar

تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا یہ کم نہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جینے کا حوصلہ تو رہا گزر ہی آئی کسی طرح تری دیوانے قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا چلو لگ عشق ہی جیتا لگ عقل ہار سکی تمام سمے مزے کا مقابلہ تو رہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری ذات ہے وہ ہے وہ گم ہوں سکا لگ تو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے حد قریب تھے ہم پھروں بھی فاصلہ تو رہا یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لا ابالی تھی تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

ذرا سی بات پہ ہر رسم توڑ آیا تھا دل تباہ نے بھی کیا مزاج پایا تھا گزر گیا تو ہے کوئی لمحہ شرر کی طرح ابھی تو ہے وہ ہے وہ اسے پہچان بھی نہ پایا تھا معاف کر نہ سکی میری زندگی مجھ کو حقیقت ایک لمحہ کہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے تنگ آیا تھا شگفتہ پھول سمٹ کر کلی بنے چنو کچھ ای سے کمال سے تو نے بدن چرایا تھا پتا نہیں کہ مری بعد ان پہ کیا گزری ہے وہ ہے وہ ہے وہ چند خواب زمانے ہے وہ ہے وہ چھوڑ آیا تھا

Jaan Nisar Akhtar

2 likes

چونک چونک اٹھتی ہے محلوں کی فضا رات گئے کون دیتا ہے یہ گلیوں ہے وہ ہے وہ صدا رات گئے یہ حقائق کی چٹانوں سے تراشی دنیا اوڑھ لیتی ہے طلسموں کی ردا رات گئے چبھ کے رہ جاتی ہے سینے ہے وہ ہے وہ بدن کی خوشبو کھول دیتا ہے کوئی بند قبا رات گئے آؤ ہم جسم کی شمعوں سے اجالا کر لیں چاند نکلا بھی تو نکلےگا ذرا رات گئے تو لگ اب آئی تو کیا آج تلک آتی ہے سیڑھیوں سے تری قدموں کی صدا رات گئے

Jaan Nisar Akhtar

1 likes

ہر ایک بے وجہ پریشان و در بدر سا لگے یہ شہر مجھ کو تو یاروں کوئی بھنور سا لگے اب ا سے کے طرز تجاہل کو کیا کہے کوئی حقیقت بے خبر تو نہیں پھروں بھی بے خبر سا لگے ہر ایک غم کو خوشی کی طرح برتنا ہے یہ دور حقیقت ہے کہ جینا بھی اک ہنر سا لگے نشاط صحبت رنداں بے حد غنیمت ہے کہ لمحہ لمحہ پرآشوب و پرخطر سا لگے کسے خبر ہے کہ دنیا کا حشر کیا ہوگا کبھی کبھی تو مجھے آدمی سے ڈر سا لگے حقیقت تند سمے کی رو ہے کہ پاؤں ٹک لگ سکیں ہر آدمی کوئی اکھڑا ہوا شجر سا لگے جہان نو کے مکمل سنگار کی خاطر ص گرا ص گرا کا زما لگ بھی بڑھوا سا لگے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوں گی کسی قاتل کا داماں ہم لگ کہتے تھے اکارت جائےگا خون شہیداں ہم لگ کہتے تھے علاج چاک پیرہن ہوا تو ا سے طرح ہوگا سیا جائےگا کانٹوں سے گریباں ہم لگ کہتے تھے ترانے کچھ دیے لفظوں ہے وہ ہے وہ خود کو قید کر لیںگے غضب انداز سے پھیلےگا زندان ہم لگ کہتے تھے کوئی اتنا لگ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے انہی سڑکوں پہ مر جائےگا انساں ہم لگ کہتے تھے نظر لپٹی ہے شعلوں ہے وہ ہے وہ لہو تپتا ہے آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اٹھا ہی چاہتا ہے کوئی طوفاں ہم لگ کہتے تھے چھلکتے جام ہے وہ ہے وہ بھیگی ہوئی آنکھیں اتر آئیں ستائےگی کسی دن یاد یاراں ہم لگ کہتے تھے نئی برزخ کیسے چھوڑنا کو را سے آوےگی عشق دل اجڑ جائےگا یہ شہر غزالاں ہم لگ کہتے تھے

Jaan Nisar Akhtar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Jaan Nisar Akhtar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Jaan Nisar Akhtar's ghazal.