milna tha ittifaq bichhadna nasib tha vo utni duur ho gaya jitna qarib tha main us ko dekhne ko tarasti hi rah gai jis shakhs ki hatheli pe mera nasib tha basti ke saare log hi atish-parast the ghar jal raha tha aur samundar qarib tha mariyam kahan talash kare apne khuun ko har shakhs ke gale men nishan-e-salib tha dafna diya gaya mujhe chandi ki qabr men main jis ko chahti thi vo ladka ghharib tha milna tha ittifaq bichhadna nasib tha wo utni dur ho gaya jitna qarib tha main us ko dekhne ko tarasti hi rah gai jis shakhs ki hatheli pe mera nasib tha basti ke sare log hi aatish-parast the ghar jal raha tha aur samundar qarib tha mariyam kahan talash kare apne khun ko har shakhs ke gale mein nishan-e-salib tha dafna diya gaya mujhe chandi ki qabr mein main jis ko chahti thi wo ladka gharib tha
Related Ghazal
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ و ہاں روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پر کتنے احسان ہے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہے کے میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گر یوں جاری کو بھی ایک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا
Tehzeeb Hafi
85 likes
ا سے طرح سے لگ آزماؤ مجھے ا سے کی تصویر مت دکھاؤ مجھے عین ممکن ہے ہے وہ ہے وہ پلٹ آؤں ا سے کی آواز ہے وہ ہے وہ بلاؤ مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا تھا یاد مت آنا جھوٹ بولا تھا یاد آؤ مجھے
Ali Zaryoun
64 likes
More from Anjum Rehbar
جاناں کو بھلا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ زہر کھا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے کل مری ایک پیاری سہیلی کتاب ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک خط چھپا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ا سے سمے نواہ جاں مری سونے سہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ خوشبو لٹا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے ایمان جانیے کہ اسے کفر جانیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سر جھکا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے کل شام چھت پہ میر تقی میر کی غزل ہے وہ ہے وہ ہے وہ گنگنا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے انجم تمہارا شہر جدھر ہے اسی طرف اک ریل جا رہی تھی کہ جاناں یاد آ گئے
Anjum Rehbar
15 likes
ملنا تھا اتفاق اندھیرا نصیب تھا حقیقت اتنی دور ہوں گیا تو جتنا قریب تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو دیکھنے کو مشین ہی رہ گئی ج سے بے وجہ کی ہتھیلی پہ میرا نصیب تھا بستی کے سارے لوگ ہی آتش پرست تھے گھر جل رہا تھا اور سمندر قریب تھا مریم ک ہاں تلاش کرے اپنے خون کو ہر بے وجہ کے گلے ہے وہ ہے وہ نشان صلیب تھا دفنا دیا گیا تو مجھے چان گرا کی قبر ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کو چاہتی تھی حقیقت لڑکا غریب تھا
Anjum Rehbar
15 likes
جن کے آنگن ہے وہ ہے وہ بیگا لگ غم کا شجر لگتا ہے ان کا ہر عیب زمانے کو ہنر لگتا ہے چاند تارے مری قدموں ہے وہ ہے وہ بچھے جاتے ہیں یہ بزرگوں کی دعاؤں کا اثر لگتا ہے ماں مجھے دیکھ کے ناراض لگ ہوں جائے کہی سر پہ آنچل نہیں ہوتا ہے تو ڈر لگتا ہے
Anjum Rehbar
17 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Anjum Rehbar.
Similar Moods
More moods that pair well with Anjum Rehbar's ghazal.







