mitti men mila de ki juda ho nahin sakta ab is se ziyada main tira ho nahin sakta dahliz pe rakh di hain kisi shakhs ne ankhen raushan kabhi itna to diya ho nahin sakta bas tu miri avaz se avaz mila de phir dekh ki is shahr men kya ho nahin sakta ai maut mujhe tu ne musibat se nikala sayyad samajhta tha riha ho nahin sakta is khak-e-badan ko kabhi pahuncha de vahan bhi kya itna karam bad-e-saba ho nahin sakta peshani ko sajde bhi ata kar mire maula ankhon se to ye qarz ada ho nahin sakta darbar men jaana mira dushvar bahut hai jo shakhs qalandar ho gada ho nahin sakta mitti mein mila de ki juda ho nahin sakta ab is se ziyaada main tera ho nahin sakta dahliz pe rakh di hain kisi shakhs ne aankhen raushan kabhi itna to diya ho nahin sakta bas tu meri aawaz se aawaz mila de phir dekh ki is shahr mein kya ho nahin sakta ai maut mujhe tu ne musibat se nikala sayyaad samajhta tha riha ho nahin sakta is khak-e-badan ko kabhi pahuncha de wahan bhi kya itna karam baad-e-saba ho nahin sakta peshani ko sajde bhi ata kar mere maula aankhon se to ye qarz ada ho nahin sakta darbar mein jaana mera dushwar bahut hai jo shakhs qalandar ho gada ho nahin sakta
Related Ghazal
چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا
Waseem Barelvi
103 likes
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے
Anand Raj Singh
526 likes
مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا
Tehzeeb Hafi
456 likes
کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا
Javed Akhtar
371 likes
More from Munawwar Rana
مجھ کو گہرائی ہے وہ ہے وہ مٹی کی اتر جانا ہے زندگی باندھ لے سامان سفر جانا ہے گھر کی دہلیز پہ روشن ہیں حقیقت بجھتی آنکھیں مجھ کو مت روک مجھے لوٹ کے گھر جانا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ذائقہ ہے وہ ہے وہ اطراف ہوا اک بچہ ہوں جس کے ماں باپ کو روتے ہوئے مر جانا ہے زندگی تاش کے پتوں کی طرح ہے میری اور پتوں کو بہر حال بکھر جانا ہے ایک بے نام سے رشتے کی تمنا لے کر اس کا کا کبوتر کو کسی چھت پہ اتر جانا ہے
Munawwar Rana
5 likes
چھاؤں مل جائے تو کم دام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے اب تھکن تھوڑے سے آرام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے آپ کیا مجھ کو نوازیںگے آسام سلطنت تک مری انعام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے شعر جیسا بھی ہوں ا سے شہر ہے وہ ہے وہ پڑھ سکتے ہوں چائے جیسی بھی ہوں کوچہ بد نام ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے حقیقت سیاست کا علاقہ ہے ادھر مت جانا رکھ سجدہ گزاری ہے وہ ہے وہ بک جاتی ہے
Munawwar Rana
5 likes
دنیا تری رونق سے میں اب اوب رہا ہوں تو چاند مجھے کہتی تھی میں ڈوب رہا ہوں اب کوئی شناسا بھی دکھائی نہیں دیتا برسوں میں اسی شہر کا محبوب رہا ہوں میں خواب نہیں آپ کی آنکھوں کی طرح تھا میں آپ کا لہجہ نہیں اسلوب رہا ہوں رسوائی مری نام سے بادہ آشامی رہی ہے میں خود کہاں رسوائی سے بادہ آشامی رہا ہوں سچائی تو یہ ہے کہ تری فسوں گروں میں اک وہ بھی زمانہ تھا کہ میں خوب رہا ہوں اس شہر کے پتھر بھی گواہی مری دیں گے صحرا بھی بتا دےگا کہ مجبوب رہا ہوں دنیا مجھے ساحل سے کھڑی دیکھ رہی ہے میں ایک جزیرے کی طرح ڈوب رہا ہوں شہرت مجھے ملتی ہے تو چپ چاپ کھڑی رہ رسوائی میں تجھ سے بھی تو بادہ آشامی رہا ہوں پھینک آئے تھے مجھ کو بھی مری بھائی کوئیں میں میں دل پامال میں بھی حضرت ایوب رہا ہوں
Munawwar Rana
1 likes
پھروں سے بدل کے مٹی کی صورت کروں مجھے عزت کے ساتھ دنیا سے رخصت کروں مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تو جاناں سے کی ہی نہیں کوئی آرزو پانی نے کب کہا تھا کہ شربت کروں مجھے کچھ بھی ہوں مجھ کو ایک نئی شکل چاہیے دیوار پر ٹوٹو مجھے چھت کروں مجھے جنت پکارتی ہے کہ ہے وہ ہے وہ ہوں تری لیے دنیا ب زید ہے مجھ سے کہ جنت کروں مجھے
Munawwar Rana
5 likes
جدا رہتا ہوں ہے وہ ہے وہ تجھ سے تو دل بے تاب رہتا ہے چمن سے دور رہ کے پھول کب شاداب رہتا ہے اندھیرے اور اجالے کی کہانی صرف اتنی ہے ج ہاں محبوب رہتا ہے وہیں مہتاب رہتا ہے مقدر ہے وہ ہے وہ لکھا کر لائے ہیں ہم بوریا نشینوں لیکن تصور ہے وہ ہے وہ ہمیشہ ریشم و کم خواب رہتا ہے ہزاروں بستیاں آ جائیں گی طوفان کی زد ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ اب آنسو نہیں سیلاب رہتا ہے بھلے لگتے ہیں سکولوں کی یونیفارم ہے وہ ہے وہ بچے کنول کے پھول سے چنو بھرا تالاب رہتا ہے یہ بازار ہوں سے ہے جاناں ی ہاں کیسے چلے آئی یہ سونے کی دکانیں ہیں ی ہاں تیزاب رہتا ہے ہماری ہر پریشانی انہی لوگوں کے دم سے ہے ہمارے ساتھ یہ جو حلقہ احباب رہتا ہے بڑی مشکل سے آتے ہیں سمجھ ہے وہ ہے وہ چھوڑنا والے دلوں ہے وہ ہے وہ فاصلے لب پر م گر صاحب کردار رہتا ہے
Munawwar Rana
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Munawwar Rana.
Similar Moods
More moods that pair well with Munawwar Rana's ghazal.







