muskurao ki eid ho jaae gungunao ke eid ho jaae apne chhote badon ki sab ghhalati bhuul jaao ki eid ho jaae be-dili se na yuun gale se lago dil milao ki eid ho jaae gar tumhen koi apna kah de to maan jaao ki eid ho jaae ja ke apne badon ke qadmon men sar jhukao ki eid ho jaae yuun to ghar men tamam mehman hain aap aao ki eid ho jaae muskurao ki eid ho jae gungunao ke eid ho jae apne chhote badon ki sab ghalati bhul jao ki eid ho jae be-dili se na yun gale se lago dil milao ki eid ho jae gar tumhein koi apna kah de to man jao ki eid ho jae ja ke apne badon ke qadmon mein sar jhukao ki eid ho jae yun to ghar mein tamam mehman hain aap aao ki eid ho jae
Related Ghazal
یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری
Umair Najmi
59 likes
کسے خبر ہے کہ عمر ب سے ا سے پہ غور کرنے ہے وہ ہے وہ کٹ رہی ہے کہ یہ اداسی ہمارے جسموں سے ک سے خوشی ہے وہ ہے وہ لپٹ رہی ہے عجیب دکھ ہے ہم ا سے کے ہوکر بھی ا سے کو چھونے سے ڈر رہے ہیں عجیب دکھ ہے ہمارے حصے کی آگ اوروں ہے وہ ہے وہ بٹ رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کو ہر روز ب سے یہی ایک جھوٹ سننے کو فون کرتا سنو ی ہاں کوئی م سے’ألا ہے تمہاری آواز کٹ رہی ہے مجھ ایسے پیڑوں کے سوکھنے اور سبز ہونے سے کیا کسی کو یہ بیل شاید کسی مصیبت ہے وہ ہے وہ ہے جو مجھ سے لپٹ رہی ہے یہ سمے آنے پہ اپنی اولاد اپنے اضداد بیچ دےگی جو فوج دشمن کو اپنا سالار گروی رکھ کر پلٹ رہی ہے سو ا سے تعلق ہے وہ ہے وہ جو غلط فہ میاں تھیں اب دور ہوں رہی ہیں رکی ہوئی گاڑیاں کے چلنے کا سمے ہے دھند چھٹ رہی ہے
Tehzeeb Hafi
88 likes
مجھ ایسے بے وجہ سے رشتہ نہیں نکال سکا حقیقت اپنے حسن کا صدقہ نہیں نکال سکا ہے وہ ہے وہ ہے وہ مل رہا تھا اسے بعد ایک مدت کے سو ا سے سے کوئی بھی رشتہ نہیں نکال سکا تری لیے تو مجھے زندگی بھی کم تھی م گر مری لیے تو تو لمحہ نہیں نکال سکا تو دیکھ پائی نہیں مجھ کو ختم ہوتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیری آنکھ کا کچرا نہیں نکال سکا اک ایسی بات کا غصہ ہے مری لہجے ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت بات جس کا ہے وہ ہے وہ غصہ نہیں نکال سکا
Vikram Gaur Vairagi
33 likes
ٹھہراؤ تو ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھا ہی نہیں رکتی تھی نکل لیا کرتی تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کپڑے بدلتے سوچتا تھا حقیقت مرد بدل لیا کرتی تھی مجھے اپنے بنائے راستوں پر بھی جوتے پہننا پڑتے تھے حقیقت لوگوں کے سینے پر بھی جوتے اتار کر چل لیا کرتی تھی مری ہاتھ خیرو ہوں جاتے تھے مری چشمے سیاہ ہوں جاتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اس کا کو نقاب کا کہتا تھا حقیقت کالکھ مل لیا کرتی تھی ا سے عورت نے بیزار کیا اک بار نہیں سو بار کیا گانوں پہ چھری اچھل نہیں پاتی تھی باتوں پہ چھری اچھل لیا کرتی تھی تاریک محل کو شہزا گرا نے روشن رکھا کنیزوں سے کبھی ان کو جلا لیا کرتی تھی کبھی ان سے جل لیا کرتی تھی آداب تجارت سے بھی نا واقف تھی شعر و ادب کی طرح مجھے ویسا پیار نہیں دیتی تھی جیسی غزل لیا کرتی تھی
Muzdum Khan
30 likes
تمہارے غم سے توبہ کر رہا ہوں ت غضب ہے ہے وہ ہے وہ ایسا کر رہا ہوں ہے اپنے ہاتھ ہے وہ ہے وہ اپنا گریبان لگ جانے ک سے سے جھگڑا کر رہا ہوں بے حد سے بند تالے کھل رہے ہیں تری سب خط اکٹھا کر رہا ہوں کوئی تتلی نشانے پر نہیں ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے رنگوں کا پیچھا کر رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رسمًا کہ رہا ہوں پھروں ملیںگے یہ مت سمجھو کہ وعدہ کر رہا ہوں مری احباب سارے شہر ہے وہ ہے وہ ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گاؤں ہے وہ ہے وہ کیا کر رہا ہوں مری ہر اک غزل اصلی ہے صاحب کئی برسوں سے دھندا کر رہا ہوں
Zubair Ali Tabish
38 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hanif Danish Indori.
Similar Moods
More moods that pair well with Hanif Danish Indori's ghazal.







