na jhatko zulf se paani ye moti tuut jaenge tumhara kuchh na bigdega magar dil tuut jaenge ye bhigi raat ye bhiga badan ye husn ka aalam ye sab andaz mil kar do jahan ko luut jaenge ye nazuk lab hain ya aapas men do lipti hui kaliyan zara in ko alag kar do tarannum phuut jaenge hamari jaan le lega ye nichi aankh ka jaadu chalo achchha hua mar kar jahan se chhut jaenge na jhatko zulf se pani ye moti tut jaenge tumhaara kuchh na bigdega magar dil tut jaenge ye bhigi raat ye bhiga badan ye husn ka aalam ye sab andaz mil kar do jahan ko lut jaenge ye nazuk lab hain ya aapas mein do lipti hui kaliyan zara in ko alag kar do tarannum phut jaenge hamari jaan le lega ye nichi aankh ka jadu chalo achchha hua mar kar jahan se chhut jaenge
Related Ghazal
تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے
Tehzeeb Hafi
262 likes
کب پانی گرنے سے خوشبو فوٹی ہے مٹی کو بھی علم ہے بارش جھوٹی ہے ایک رشتے کو لاپرواہی لے ڈوبی ایک رسی ڈھیلی پڑھنے لگیں پر ٹوٹی ہے ہاتھ ملانے پر بھی ا سے پہ کھلا نہیں یہ انگلی پر زخم ہے یا انگوٹھی ہے ا سے کا ہنسنا ناممکن تھا یوں سمجھو سیمنٹ کی دیوار سے کوپل فوٹی ہے ہم نے ان پر شعر نہیں لکھے حافی ہم نے ان پیڑوں کی عزت لوٹی ہے یوں لگتا ہے دین و دنیا چھوٹ گئے مجھ سے تری شہر کی ب سے کیا چھوٹی ہے
Tehzeeb Hafi
90 likes
ہر اک ہزار ہے وہ ہے وہ ب سے پانچ سات ہیں ہم لوگ نصاب عشق پہ واجب زکات ہیں ہم لوگ دباؤ ہے وہ ہے وہ بھی جماعت کبھی نہیں جستجو دل شکستہ شروع دن سے محبت کے ساتھ ہیں ہم لوگ جو سیکھنی ہوں زبان سکوت بسم اللہ خموشیوں کی مکمل لغات ہیں ہم لوگ کہانیوں کے حقیقت کردار جو لکھے لگ گئے خبر سے حذف شدہ واقعات ہیں ہم لوگ یہ انتظار ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دیکھ کر بنایا گیا تو ظہور ہجر سے پہلے کی بات ہیں ہم لوگ کسی کو راستہ دے دیں کسی کو پانی لگ دیں کہی پہ نیل کہی پر فرات ہیں ہم لوگ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جلا کے کوئی شب گزاری سکتا ہے سڑک پہ بکھرے ہوئے کاغذات ہیں ہم لوگ
Umair Najmi
10 likes
فون تو دور وہاں خط بھی نہیں پہنچیں گے اب کے یہ لوگ تمہیں ایسی جگہ بھیجیں گے زندگی دیکھ چکے تجھ کو بڑے پردے پر آج کے بعد کوئی فلم نہیں سر و ساماں مسئلہ یہ ہے ہے وہ ہے وہ دشمن کے قریں پہنچوں گا اور کبوتر مری تلوار پہ آ بیٹھیں گے ہم کو اک بار کناروں سے نکل جانے دو پھروں تو سیلاب کے پانی کی طرح پھیلیں گے تو حقیقت دریا ہے اگر جلدی نہیں کی تو نے خود سمندر تجھے ملنے کے لیے آئیں گے سیغا راز ہے وہ ہے وہ رکھیں گے نہیں عشق ترا ہم تری نام سے خوشبو کی دکان کھولیں گے
Zia Mazkoor
13 likes
زمین دل اک عرصے بعد جل تھل ہوں رہی ہے کوئی بارش میرے اندر مسلسل ہوں رہی ہے لہو کا رنگ پھیلا ہے ہمارے کینوس پر تیری تصویر اب جا کر مکمل ہوں رہی ہے ہوا تازہ کا جھونکا چلا آیا کہاں سے کہ مدت بعد سی پانی ہے وہ ہے وہ ہلچل ہوں رہی ہے تجھے دیکھے سے ممکن مغفرت ہوں جائے اس کا کی تیرے بیمار کی بس آج اور کل ہوں رہی ہے حقیقت صاحب آ ہی گئی بند قبا کھولنے لگے ہیں پہیلی تھی جو اک الجھي ہوئی حل ہوں رہی ہے
Azhar Iqbal
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Rajendera Krishan.
Similar Moods
More moods that pair well with Rajendera Krishan's ghazal.







