لگ پوچھ کیوں مری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آ گئے آنسو جو تری دل ہے وہ ہے وہ ہے ا سے بات پر نہیں آئی وفا عہد ہے یہ منزل دلکش تو نہیں ٹھہر گیا تو کہ مری ہم سفر نہیں آئی لگ چھیڑ ان کو خدا کے لیے کہ اہل وفا بھٹک گئے ہیں تو پھروں راہ پر نہیں آئی ابھی ابھی حقیقت گئے ہیں م گر یہ عالم ہے بے حد دنوں سے حقیقت چنو نظر نہیں آئی کہی یہ سمجھاتے کی ابتدا تو نہیں حقیقت مجھ کو یاد کبھی ا سے دودمان نہیں آئی عجیب ب رنگ د گر عدم کی منزل ہے مسافران عدم لوٹ کر نہیں آئی عرو سے بہار کب ا نہیں دیکھا نہیں چارہ درد آشنائی عرو سے بہار کب حقیقت چارہ درد آشنائی نہیں آئی
Related Ghazal
ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے
Zubair Ali Tabish
140 likes
کیا بادلوں ہے وہ ہے وہ سفر زندگی بھر ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر بنایا لگ گھر زندگی بھر سبھی زندگی کے مزے لوٹتے ہیں لگ آیا ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ہنر زندگی بھر محبت رہی چار دن زندگی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رہا چار دن کا اثر زندگی بھر
Anwar Shaoor
95 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
ہاتھ خالی ہیں تری شہر سے جاتے جاتے جان ہوتی تو مری جان لٹاتے جاتے اب تو ہر ہاتھ کا پتھر ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہچانتا ہے عمر گزری ہے تری شہر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے اب کے مایو سے ہوا یاروں کو رخصت کر کے جا رہے تھے تو کوئی زخم لگاتے جاتے رینگنے کی بھی اجازت نہیں ہم کو ور لگ ہم جدھر جاتے نئے پھول کھلاتے جاتے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو جلتے ہوئے صحراؤں کا اک پتھر تھا جاناں تو دریا تھے مری پیا سے بجھاتے جاتے مجھ کو رونے کا سلیقہ بھی نہیں ہے شاید لوگ ہنستے ہیں مجھے دیکھ کے آتے جاتے ہم سے پہلے بھی مسافر کئی گزرے ہوں گے کم سے کم راہ کے پتھر تو ہٹاتے جاتے
Rahat Indori
102 likes
کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ حقیقت ہوں گے جو ا سے کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش ی ہاں کے مری پا سے آ جاتے ہیں مری بجھنے کا نہظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے حقیقت جو لگ آنے والا ہے نا ا سے سے مجھ کو زار تھا آنے والوں سے کیا زار آتے ہیں آتے ہوں گے ا سے کی یاد کی باد صبا ہے وہ ہے وہ اور تو کیا ہوتا ہوگا یوںہی مری بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گے یاروں کچھ تو ذکر کروں جاناں ا سے کی خوشگوار بان ہوں کا حقیقت جو سمٹتے ہوں گے ان ہے وہ ہے وہ حقیقت تو مر جاتے ہوں گے میرا سان سے اکھڑتے ہی سب بین کریںگے روئیںگے زبان مری بعد بھی زبان سان سے لیے جاتے ہوں گے
Jaun Elia
88 likes
More from Hafeez Hoshiarpuri
آج ا نہیں کچھ ا سے طرح جی کھول کر دیکھا کیے ایک ہی لمحے ہے وہ ہے وہ چنو عمر بھر دیکھا کیے دل ا گر بیتاب ہے دل کا مقدر ہے یہی ج سے دودمان تھی ہم کو توفیق نظر دیکھا کیے خود فروشا لگ ادا تھی مری صورت دیکھنا اپنے ہی رکے بانداز د گر دیکھا کیے نا شنا سے غم فقط داد ہنر دیتے رہے ہم متاع غم کو رسوا ہنر دیکھا کیے دیکھنے کا اب یہ عالم ہے کوئی ہوں یا لگ ہوں ہم جدھر دیکھا کیے پہروں ادھر دیکھا کیے حسن کو دیکھا ہے ہے وہ ہے وہ نے حسن کی خاطر عرو سے بہار ور لگ سب اپنا ہی معیار نظر دیکھا کیے
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
نرگس پہ تو الزام لگا بے بصری کا ارباب گلستاں پہ نہیں کم نظری کا توفیق رفاقت نہیں ان کو سر منزل رستے ہے وہ ہے وہ جنہیں پاس رہا ہم سفری کا اب خانقاہ و مدرسہ و مے کدہ ہیں ایک اک سلسلہ ہے قافلہ بے خبری کا ہر نقش ہے آئینہ نیرنگ تماشا دنیا ہے کہ حاصل مری حیران نظری کا اب خو سے تا عرش زبوں حال ہے فطرت اک معرکہ در پیش ہے عزم بشری کا کب ملتی ہے یہ دولت بیدار کسی کو اور ہے وہ ہے وہ ہوں کہ رونا ہے اسی دیدہ وری کا بے واسطہ عشق بھی رنگ رکھ پرویز عنوان ہے فرہاد کی خونی جگری کا آخر تری در پہ مجھے لے آئی محبت دیکھا نہ گیا تو حال مری در بدری کا دل ہے وہ ہے وہ ہوں فقط جاناں ہی جاناں آنکھوں پہ نہ جاؤ آنکھوں کو تو ہے روگ پریشاں نظری کا بے پیروی میر عروس بہار اپنی رویش ہے ہم پر کوئی الزام نہیں کم ہنری کا
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
روشنی سی کبھی کبھی دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل بے نشاں سے آتی ہے لوٹ کر نور کی کرن چنو سفر لا مکان سے آتی ہے نو انسان ہے گوش بر آواز کیا خبر ک سے ج ہاں سے آتی ہے اپنی پڑنا بازگشت لگ ہوں اک صدا آ سماں سے آتی ہے تختہ دار ہے کہ تختہ گل بو خوں گلستاں سے آتی ہے دل سے آتی ہے بات لب پہ عرو سے بہار بات دل ہے وہ ہے وہ ک ہاں سے آتی ہے
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
कुछ इस तरह से नज़र से गुज़र गया कोई कि दिल को ग़म का सज़ा-वार कर गया कोई दिल-ए-सितम-ज़दा को जैसे कुछ हुआ ही नहीं ख़ुद अपने हुस्न से यूँँ बे-ख़बर गया कोई वो एक जल्वा-ए-सद-रंग इक हुजूम-ए-बहार न जाने कौन था जाने किधर गया कोई नज़र कि तिश्ना-ए-दीदार थी रही महरूम नज़र उठाई तो दिल में उतर गया कोई निगाह-ए-शौक़ की महरूमियों से ना-वाक़िफ़ निगाह-ए-शौक़ पे इल्ज़ाम धर गया कोई अब उन के हुस्न में हुस्न-ए-नज़र भी शामिल है कुछ और मेरी नज़र से सँवर गया कोई किसी के पाँव की आहट कि दिल की धड़कन थी हज़ार बार उठा सू-ए-दर गया कोई नसीब-ए-अहल-ए-वफ़ा ये सुकून-ए-दिल तो न था ज़रूर नाला-ए-दिल बे-असर गया कोई उठा फिर आज मिरे दिल में रश्क का तूफ़ाँ फिर उन की राह से बा-चश्म-ए-तर गया कोई ये कह के याद करेंगे 'हफ़ीज़' दोस्त मुझे वफ़ा की रस्म को पाइंदा कर गया कोई
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
لفظ ابھی ایجاد ہوں گے ہر ضرورت کے لیے گھبرائیے مجبوری کے لیے غم کی صراحت کے لیے اب میرا چپ چاپ رہنا چشم و گوش و لب صحیح ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کھولی ہی زبان کب تھی شکایت کے لیے مری سخت کوشی سے پوچھ لو سب کچھ یہیں مجھ کو مری سامنے لاؤ شہادت کے لیے علالت سخت جانی کی طرف لائی مجھے مجھ کو یہ فرصت غنیمت ہے شبستان عناصر کے لیے آکسیجن سے زی نف سے تابناک مضطرب ہر زی نف سے ا سے کی رفاقت کے لیے مر گئے کچھ لوگ جینے کا مدوا سوچ کر اور کچھ جیتے رہے جینے کی عادت کے لیے آہ مرگ آدمیت پر آدمی روئے بے حد کوئی بھی رویا لگ رفع کدورت کے لیے کوئی موقع زندگی کا آخری موقع نہیں ا سے دودمان تعجیل کیوں دیر آشنا غم گسار کے لیے استقامت اے مری حسن ندامت ایک آنسو ہے بے حد مے ترنگ کے لیے کوئی ناصر کی غزل کوئی وقار کی شام عیادت چاہیے کچھ تو مری گلشن آباد ج ہاں کے لیے بے چارگی حسرت دیدار ہے وہ ہے وہ صورت شبنم عرو سے بہار ہم ا گر روئے بھی تو رونے کی فرصت کے لیے
Hafeez Hoshiarpuri
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Hoshiarpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Hoshiarpuri's ghazal.







