ghazalKuch Alfaaz

nae des ka rang naya tha dharti se akash mila tha duur ke dariyaon ka sona hare samundar men girta tha chalti nadiyan gaate nauke nokon men ik shahr basa tha nauke hi men rain-basera nauke hi men din katta tha nauka hi bachchon ka jhula nauka hi piiri ka asa tha machhli jaal men tadap rahi thi nauka lahron men uljha tha hansta paani rota paani mujh ko avazen deta tha tere dhyan ki kashti le kar main ne dariya paar kiya tha nae des ka rang naya tha dharti se aakash mila tha dur ke dariyaon ka sona hare samundar mein girta tha chalti nadiyan gate nauke nokon mein ek shahr basa tha nauke hi mein rain-basera nauke hi mein din katta tha nauka hi bachchon ka jhula nauka hi piri ka asa tha machhli jal mein tadap rahi thi nauka lahron mein uljha tha hansta pani rota pani mujh ko aawazen deta tha tere dhyan ki kashti le kar main ne dariya par kiya tha

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے

Shabeena Adeeb

232 likes

مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری

Ali Zaryoun

70 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

More from Nasir Kazmi

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے

Nasir Kazmi

2 likes

शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ

Nasir Kazmi

1 likes

دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

Nasir Kazmi

11 likes

ہے وہ ہے وہ نے جب لکھنا سیکھا تھا پہلے تیرا نام لکھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل پامال سمیم ہوں ج سے نے بار امانت سر پہ لیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت اسم عظیم ہوں ج سے کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا تو نے کیوں میرا ہاتھ لگ پکڑا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب رستے سے بھٹکا تھا جو پایا ہے حقیقت تیرا ہے جو کھویا حقیقت بھی تیرا تھا تجھ بن ساری عمر گزاری لوگ کہی گے تو میرا تھا پہلی بارش بھیجنے والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری درشن کا پیاسا تھا

Nasir Kazmi

9 likes

تری آنے کا دھوکہ سا رہا ہے دیا سا رات بھر جلتا رہا ہے غضب ہے رات سے آنکھوں کا عالم یہ دریا رات بھر چڑھتا رہا ہے سنا ہے رات بھر برسا ہے بادل م گر حقیقت شہر جو پیاسا رہا ہے حقیقت کوئی دوست تھا اچھے دنوں کا جو پچھلی رات سے یاد آ رہا ہے کسے ڈھونڈو گے ان گلیوں ہے وہ ہے وہ ناصر چلو اب گھر چلیں دن جا رہا ہے

Nasir Kazmi

11 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nasir Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.