ghazalKuch Alfaaz

نئے کپڑے بدل کر جاؤں کہاں اور بال بناؤں کس کے لیے وہ شخص تو شہر ہی چھوڑ گیا میں باہر جاؤں کس کے لیے جس دھوپ کی دل میں ٹھنڈک تھی وہ دھوپ اسی کے ساتھ گئی ان جلتی بلتی گلیوں میں اب خاک اڑاؤں کس کے لیے وہ شہر میں تھا تو اس کے لیے اوروں سے بھی ملنا پڑتا تھا اب ایسے ویسے لوگوں کے میں ناز اٹھاؤں کس کے لیے اب شہر میں اس کا بدل ہی نہیں کوئی ویسا جان غزل ہی نہیں ایوان غزل میں لفظوں کے گلدان سجاؤں کس کے لیے مدت سے کوئی آیا نہ گیا سنسان پڑی ہے گھر کی فضا ان خالی کمروں میں ناصرؔ اب شمع جلاؤں کس کے لیے

Related Ghazal

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

یہ سات آٹھ پڑوسی ک ہاں سے آئی مری تمہارے دل ہے وہ ہے وہ تو کوئی لگ تھا سوائے مری کسی نے پا سے بٹھایا ب سے آگے یاد نہیں مجھے تو دوست و ہاں سے اٹھا کے لائے مری یہ سوچ کر لگ کیے اپنے درد ا سے کے سپرد حقیقت لالچی ہے اساسے لگ بیچ کھائے مری ادھر کدھر تو نیا ہے ی ہاں کہ پاگل ہے کسی نے کیا تجھے قصے نہیں سنائے مری حقیقت آزمائے مری دوست کو ضرور م گر اسے کہو کہ طریقے لگ آزمائے مری

Umair Najmi

59 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے

Khumar Barabankvi

95 likes

ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا

Tehzeeb Hafi

241 likes

More from Nasir Kazmi

دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

Nasir Kazmi

11 likes

मुसलसल बेकली दिल को रही है मगर जीने की सूरत तो रही है मैं क्यूँँ फिरता हूँ तन्हा मारा मारा ये बस्ती चैन से क्यूँँ सो रही है चले दिल से उम्मीदों के मुसाफ़िर ये नगरी आज ख़ाली हो रही है न समझो तुम इसे शोर-ए-बहाराँ ख़िज़ाँ पत्तों में छुप कर रो रही है हमारे घर की दीवारों पे 'नासिर' उदासी बाल खोले सो रही है

Nasir Kazmi

2 likes

शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ

Nasir Kazmi

1 likes

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے

Nasir Kazmi

2 likes

حقیقت ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے حقیقت کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے حقیقت صبح آتے آتے رہ گئی ک ہاں جو بندھو تھے آنے والے کیا ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر حقیقت روشنی دکھانے والے کیا ہوئے یہ کون لوگ ہیں مری ادھر ادھر حقیقت دوستی نبھانے والے کیا ہوئے حقیقت دل ہے وہ ہے وہ خوبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں حقیقت ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے عمارتیں تو جل کے راکھ ہوں گئیں عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

Nasir Kazmi

5 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nasir Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.