nigahon ka markaz bana ja raha huun mohabbat ke hathon luta ja raha huun main qatra huun lekin ba-aghhosh-e-dariya azal se abad tak baha ja raha huun mubarak mubarak miri ye fanaen do-alam pe chhaya chala ja raha huun vahi husn jis ke hain ye sab mazahir usi husn men hal hua ja raha huun ye kis ki taraf se ye kis ki taraf ko main ham-dosh mauj-e-fana ja raha huun na jaane kahan se na jaane kidhar ko bas ik apni dhun men uda ja raha huun mujhe rok sakta ho koi to roke ki chhup kar nahin barmala ja raha huun mere paas aao ye kya samne huun miri samt dekho ye kya ja raha huun nigahon men manzil miri phir rahi hai yunhi girta padta chala ja raha huun tiri mast nazren ghhazab dha rahi hain ye aalam hai jaise uda ja raha huun kidhar hai tu ai ghhairat-e-husn khud men mohabbat ke hathon bika ja raha huun na aurak-e-hasti na ehsas-e-masti jidhar chal pada huun chala ja raha huun na surat na maani na paida na pinhan ye kis husn men gum hua ja raha huun nigahon ka markaz bana ja raha hun mohabbat ke hathon luta ja raha hun main qatra hun lekin ba-aghosh-e-dariya azal se abad tak baha ja raha hun mubarak mubarak meri ye fanaen do-alam pe chhaya chala ja raha hun wahi husn jis ke hain ye sab mazahir usi husn mein hal hua ja raha hun ye kis ki taraf se ye kis ki taraf ko main ham-dosh mauj-e-fana ja raha hun na jaane kahan se na jaane kidhar ko bas ek apni dhun mein uda ja raha hun mujhe rok sakta ho koi to roke ki chhup kar nahin barmala ja raha hun mere pas aao ye kya samne hun meri samt dekho ye kya ja raha hun nigahon mein manzil meri phir rahi hai yunhi girta padta chala ja raha hun teri mast nazren ghazab dha rahi hain ye aalam hai jaise uda ja raha hun kidhar hai tu ai ghairat-e-husn khud mein mohabbat ke hathon bika ja raha hun na aurak-e-hasti na ehsas-e-masti jidhar chal pada hun chala ja raha hun na surat na mani na paida na pinhan ye kis husn mein gum hua ja raha hun
Related Ghazal
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
تیری مشکل لگ چھپاؤں گا چلا جاؤں گا خوشی آنکھوں ہے وہ ہے وہ آؤں گا چلا جاؤں گا اپنی دہلیز پہ کچھ دیر پڑا رہنے دے چنو ہی ہوش ہے وہ ہے وہ لگاؤں گا چلا جاؤں گا خواب لینے کوئی آئی کہ لگ آئی کوئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو آواز رلاؤں گا چلا جاؤں گا چند یادیں مجھے بچوں کی طرح پیاری ہیں ان کو سینے سے لگاؤں گا چلا جاؤں گا مدتوں بعد ہے وہ ہے وہ آیا ہوں پرانی گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ خود کو جی بھر کے نیت شوق چلا جاؤں گا ا سے جزیرے ہے وہ ہے وہ زیادہ نہیں رہنا اب تو آجکل ناو بناؤں گا چلا جاؤں گا تہذیب کی طرح لوٹ کے آؤںگا حسن ہر طرف پھول کھلاؤں گا چلا جاؤں گا
Hasan Abbasi
235 likes
اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے
Mehshar Afridi
173 likes
پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا
Fahmi Badayuni
96 likes
حقیقت تو اچھا ہے غزل تیرا سہارا ہے مجھے ور لگ فکروں نے تو ب سے گھیر کے مارا ہے مجھے ج سے کی تصویر ہے وہ ہے وہ کاغذ پہ بنا بھی لگ سکا ا سے نے مہن گرا سے ہتھیلی پہ اتارا ہے مجھے غیر کے ہاتھ سے مرہم مجھے جھمکے نہیں جاناں م گر زخم بھی دے دو تو بے شرط ہے مجھے
Abrar Kashif
54 likes
More from Jigar Moradabadi
حقیقت جو روٹھیں یوں منانا چاہیے زندگی سے روٹھ جانا چاہیے ہمت قاتل بڑھانا چاہیے زیر خنجر مسکرانا چاہیے زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیے ہے انہی دھوکے سے دل کی زندگی جو حسین دھوکہ ہوں خا لگ چاہیے لذتیں ہیں دشمن اوج غصہ کلفتوں سے جی لگانا چاہیے ان سے ملنے کو تو کیا کہیے ج گر خود سے ملنے کو زما لگ چاہیے
Jigar Moradabadi
1 likes
کیا ت غضب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مری ن غموں کی زبان تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھروں خدا جانے یہ ہنگامہ ک ہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے لگ آئی لگ زبان تک پہنچے بات ج سے کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو ج ہاں پر تھا بے حد پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفا سے ک ہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں حقیقت برے کاش یہ بات تری گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مری حال پریشاں پہ بے حد طنز لگ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ ک ہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے حقیقت اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے ج ہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے ہے وہ ہے وہ کہی آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے رکے بیتاب تھے جو پردہ فطرت ہے وہ ہے وہ ج گر خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے
Jigar Moradabadi
1 likes
عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھہی کو خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہوں چکا جو عتاب ہونا تھا کوچہ عشق ہے وہ ہے وہ نکل آیا ج سے کو خا لگ خراب ہونا تھا مست جام شراب خاک ہوتے غرق جام شراب ہونا تھا دل کہ ج سے پر ہیں نقش رنگا رنگ ا سے کو سادہ کتاب ہونا تھا ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا آخرش کامیاب ہونا تھا ہاں یہ حقیقت لمحہ سکون کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا نگہ یار خود تڑپ اٹھتی شرط اول خراب ہونا تھا کیوں لگ ہوتا ستم بھی بے پایاں کرم بے حساب ہونا تھا کیوں نظر حیرتوں ہے وہ ہے وہ ڈوب گئی موج صد اضطراب ہونا تھا ہوں چکا روز اولیں ہی ج گر ج سے کو جتنا خراب ہونا تھا
Jigar Moradabadi
1 likes
اب تو یہ بھی نہیں رہا احسا سے درد ہوتا ہے یا نہیں ہوتا عشق جب تک لگ کر چکے رسوا آدمی کام کا نہیں ہوتا ٹوٹ پڑتا ہے دفعۃً جو عشقبیش تر دیر پا نہیں ہوتا حقیقت بھی ہوتا ہے ایک سمے کہ جب ما سوا ما سوا نہیں ہوتا ہاں یہ کیا ہوں گیا تو طبیعت کو غم بھی راحت فضا نہیں ہوتا دل ہمارا ہے یا تمہارا ہے ہم سے یہ فیصلہ نہیں ہوتا ج سے پہ تیری نظر نہیں ہوتی ا سے کی جانب خدا نہیں ہوتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ بے زار عمر بھر کے لیے دل کہ دم بھر جدا نہیں ہوتا حقیقت ہمارے قریب ہوتے ہیں جب ہمارا پتا نہیں ہوتا دل کو کیا کیا سکون ہوتا ہے جب کوئی آسرا نہیں ہوتا ہوں کے اک بار سامنا ان سے پھروں کبھی سامنا نہیں ہوتا
Jigar Moradabadi
4 likes
بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پےہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دولت ہے غم زکات دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجبوری غصہ محبت تو دیکھنا جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل ک ہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے مجبوریاں ہیں ساتھ دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے شراب آب و زیست تھی اب آب و زیست ہے شراب کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Jigar Moradabadi
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jigar Moradabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Jigar Moradabadi's ghazal.







