ghazalKuch Alfaaz

رات ہے وہ ہے وہ ا سے کش مکش ہے وہ ہے وہ ایک پل سویا نہیں کل ہے وہ ہے وہ جب جانے لگا تو ا سے نے کیوں روکا نہیں یوں ا گر سوچوں تو اک اک نقش ہے سینے پہ نقش ہاں یہ حقیقت چہرہ کہ پھروں بھی آنکھ ہے وہ ہے وہ بنتا نہیں کیوں اڑاتی پھروں رہی ہے در بدر مجھ کو ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اک شاخ سے ٹوٹا ہوا پتہ نہیں آج تنہا ہوں تو کتنا اجنبی ماحول ہے ایک بھی رستے نے تری شہر ہے وہ ہے وہ روکا نہیں حرف برگ خشک بن کر ٹوٹتے گرتے رہے غنچہ عرض تمنا ہونٹ پر پھوٹا نہیں درد کا رستہ ہے یا ہے ساعت روز حساب سیکڑوں لوگوں کو روکا ایک بھی ٹھہرا نہیں استعمال آنکھوں کے جگنو کانپتے ہونٹوں کے پھول ایک لمحہ تھا جو امجد آج تک گزرا نہیں

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

More from Amjad Islam Amjad

आईनों में अक्स न हों तो हैरत रहती है जैसे ख़ाली आँखों में भी वहशत रहती है हर दम दुनिया के हंगा में घेरे रखते थे जब से तेरे ध्यान लगे हैं फ़ुर्सत रहती है करनी है तो खुल के करो इंकार-ए-वफ़ा की बात बात अधूरी रह जाए तो हसरत रहती है शहर-ए-सुख़न में ऐसा कुछ कर इज़्ज़त बन जाए सब कुछ मिट्टी हो जाता है इज़्ज़त रहती है बनते बनते ढह जाती है दिल की हर तामीर ख़्वाहिश के बहरूप में शायद क़िस्मत रहती है साए लरज़ते रहते हैं शहरों की गलियों में रहते थे इंसान जहाँ अब दहशत रहती है मौसम कोई ख़ुशबू ले कर आते जाते हैं क्या क्या हम को रात गए तक वहशत रहती है ध्यान में मेला सा लगता है बीती यादों का अक्सर उस के ग़म से दिल की सोहबत रहती है फूलों की तख़्ती पर जैसे रंगों की तहरीर लौह-ए-सुख़न पर ऐसे 'अमजद' शोहरत रहती है

Amjad Islam Amjad

0 likes

اوروں کا تھا نقص تو موج صدا رہے خود عمر بھر اسیر لب مدعا رہے مثل حباب بہر غم حوادث ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم زیر بار منت آب و ہوا رہے ہم اس کا سے اپنی بات کا مانگے اگر جواب لہروں کا پیچ و خم حقیقت کھڑا دیکھتا رہے آیا تو اپنی آنکھ بھی اپنی نہ بن سکی ہم سوچتے تھے اس کا سے کبھی سامنا رہے گلشن ہے وہ ہے وہ تھے تو رونق رنگ چمن بنے جنگل ہے وہ ہے وہ ہم امانت باد صبا رہے سرخی بنے تو خون شہیداں کا رنگ تھے روشن ہوئے تو مشعل راہ بقا رہے امجد در نگار پہ دستک ہی دیجیے اس کا کا بے کراں سکوت ہے وہ ہے وہ کچھ غلغلا رہے

Amjad Islam Amjad

0 likes

غصہ حسن ہے حسن غصہ سے باہر ازل کا رنگ ہے چنو مثال سے باہر تو پھروں حقیقت کون ہے جو ماورا ہے ہر اجازت سے نہیں ہے کچھ بھی ی ہاں گر خیال سے باہر یہ کائنات سرپا جواب ہے ج سے کا حقیقت اک سوال ہے پھروں بھی سوال سے باہر ہے یاد اہل وطن یوں کہ ریگ ساحل پر گری ہوئی کوئی مچھلی ہوں جال سے باہر عجیب سلسلہ رنگ ہے تمنا بھی حد عروج سے آگے زوال ہے باہر لگ ا سے کا انت ہے کوئی لگ استعارہ ہے یہ داستان ہے ہجر و وصال سے باہر دعا بزرگوں کی رکھتی ہے زخم الفت کو کسی علاج کسی اندیمال سے باہر بیاں ہوں ک سے طرح حقیقت کیفیت کہ ہے امجد مری طلب سے فراواں مجال سے باہر

Amjad Islam Amjad

1 likes

در کائنات جو وا کرے اسی آگہی کی تلاش ہے مجھے روشنی کی تلاش تھی مجھے روشنی کی تلاش ہے غم زندگی کے فشار ہے وہ ہے وہ تری آرزو کے غمدیدہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسی بے حسی کے حصار ہے وہ ہے وہ مجھے زندگی کی تلاش ہے یہ جو بچھڑنا سی نشاط ہے یہ تو چند لمحوں کی بات ہے مری روح تک جو اتر سکے مجھے ا سے خوشی کی تلاش ہے یہ جو آگ سی ہے دبی دبی نہیں دوستو مری کام کی حقیقت جو ایک آن ہے وہ ہے وہ پھونک دے اسی شعلگی کی تلاش ہے یہ جو ساختہ سے ہیں قہقہے مری دل کو لگتے ہیں بوجھ سے حقیقت جو اپنے آپ ہے وہ ہے وہ مست ہوں مجھے ا سے ہنسی کی تلاش ہے یہ جو میل جول کی بات ہے یہ جو مجلسی سی حیات ہے مجھے ا سے سے کوئی غرض نہیں مجھے دوستی کی تلاش ہے

Amjad Islam Amjad

0 likes

न आसमाँ से न दुश्मन के ज़ोर ओ ज़र से हुआ ये मोजज़ा तो मिरे दस्त-ए-बे-हुनर से हुआ क़दम उठा है तो पाँव तले ज़मीं ही नहीं सफ़र का रंज हमें ख़्वाहिश-ए-सफ़र से हुआ मैं भीग भीग गया आरज़ू की बारिश में वो अक्स अक्स में तक़्सीम चश्म-ए-तर से हुआ सियाही शब की न चेहरों पे आ गई हो कहीं सहर का ख़ौफ़ हमें आईनों के डर से हुआ कोई चले तो ज़मीं साथ साथ चलती है ये राज़ हम पे अयाँ गर्द-ए-रहगुज़र से हुआ तिरे बदन की महक ही न थी तो क्या रुकते गुज़र हमारा कई बार यूँँ तो घर से हुआ कहाँ पे सोए थे 'अमजद' कहाँ खुलीं आँखें गुमाँ क़फ़स का हमें अपने बाम-ओ-दर से हुआ

Amjad Islam Amjad

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Amjad Islam Amjad.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Amjad Islam Amjad's ghazal.