ghazalKuch Alfaaz

صحرا سے آنے والی ہواؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے ہجرت کروں گا گاؤں سے گاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے اے قی سے تری دشت کو اتنی دعائیں دیں کچھ بھی نہیں ہے مری دعاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے صحرا سے ہوں کے باغ ہے وہ ہے وہ آ ہوں سیر کو ہاتھوں ہے وہ ہے وہ پھول ہیں مری پاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے مدت سے مری آنکھ ہے وہ ہے وہ اک خواص ہے مقیم پانی ہے وہ ہے وہ پیڑ پیڑ کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے مجھ سا کوئی مختلف نہیں ہے کہ ج سے کے پا سے کشکول ریت کا ہے صداؤں ہے وہ ہے وہ ریت ہے

Tehzeeb Hafi15 Likes

Related Ghazal

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو

Jaun Elia

355 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

More from Tehzeeb Hafi

خوشی ضائع ہوں رہے تھے دیکھ کر روتا لگ تھا ج سے جگہ بنتا تھا رونا ہے وہ ہے وہ ادھر روتا لگ تھا صرف تیری چپ نے مری گال گیلے کر دیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو حقیقت ہوں جو کسی کی موت پر روتا لگ تھا مجھ پہ کتنے سانحے گزرے پر ان آنکھوں کو کیا میرا دکھ یہ ہیں کہ میرا ہم سفر روتا لگ تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کے وصل ہے وہ ہے وہ بھی ہجر کاٹا ہے کہی حقیقت مری کندھے پہ رکھ لیتا تھا سر روتا لگ تھا پیار تو پہلے بھی ا سے سے تھا م گر اتنا نہیں تب ہے وہ ہے وہ اس کا کو چھو تو لیتا تھا م گر روتا لگ تھا گریہ و زاری کو بھی اک خاص موسم چاہیے مری آنکھیں دیکھ لو ہے وہ ہے وہ سمے پر روتا لگ تھا

Tehzeeb Hafi

44 likes

جب ا سے کی تصویر بنایا کرتا تھا کمرہ رنگوں سے بھر جایا کرتا تھا پیڑ مجھے حسرت سے دیکھا کرتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جنگل ہے وہ ہے وہ پانی لایا کرتا تھا تھک جاتا تھا بادل سایہ کرتے کرتے اور پھروں ہے وہ ہے وہ بادل پہ سایہ کرتا تھا بیٹھا رہتا تھا ساحل پہ سارا دن دریا مجھ سے جان چھڑایا کرتا تھا بنت صحرا روٹھا کرتی تھی مجھ سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ صحرا سے ریت چرایا کرتا تھا

Tehzeeb Hafi

24 likes

اک ترا ہجر دائمی ہے مجھے ور لگ ہر چیز عارضی ہے مجھے ایک سایہ مری تعاقب ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک آواز ڈھونڈتی ہے مجھے مری آنکھوں پہ دو مقد سے ہاتھ یہ اندھیرا بھی روشنی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سخن ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے جگہ کہ ج ہاں سان سے لینا بھی شاعری ہے مجھے ان پرندوں سے بولنا سیکھا پیڑ سے خموشی ملی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اسے کب کا بھول بھال چکا زندگی ہے کہ رو رہی ہے مجھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ کاغذ کی ایک کشتی ہوں پہلی بارش ہی آخری ہے مجھے

Tehzeeb Hafi

25 likes

تو نے کیا قندیل جلا دی شہزا گرا سرخ ہوئی جاتی ہے وا گرا شہزا گرا شیش محل کو صاف کیا تری کہنے پر آئینوں سے گرد ہٹا دی شہزا گرا اب تو خواب کدے سے باہر پاؤں رکھ لوٹ گئے ہے سب فریا گرا شہزا گرا تری ہی کہنے پر ایک سپاہی نے اپنے گھر کو آگ لگا دی شہزا گرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری دشمن لشکر کا شہزادہ کیسے ممکن ہے یہ شا گرا شہزا گرا

Tehzeeb Hafi

16 likes

شور کروں گا اور لگ کچھ بھی بولوںگا خموشی سے اپنا رونا رو لوں گا ساری عمر اسی خواہش ہے وہ ہے وہ گزری ہے دستک ہوں گی اور دروازہ کھولوںگا تنہائی ہے وہ ہے وہ خود سے باتیں کرنی ہیں مری منا ہے وہ ہے وہ جو آئےگا بولوںگا رات بے حد ہے جاناں چاہو تو سو جاؤ میرا کیا ہے ہے وہ ہے وہ دن ہے وہ ہے وہ بھی سو لوں گا جاناں کو دل کی بات بتانی ہے لیکن آنکھیں بند کروں تو مٹھی کھولوںگا

Tehzeeb Hafi

84 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Tehzeeb Hafi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Tehzeeb Hafi's ghazal.