ghazalKuch Alfaaz

ساقیا ایک نظر جام سے پہلے پہلے ہم کو جانا ہے کہی شام سے پہلے پہلے نو گرفتار وفا سعی رہائی ہے عبث ہم بھی الجھ تھے بے حد دام سے پہلے پہلے خوش ہوں اے دل کہ محبت تو نبھا دی تو نے لوگ اجڑ جاتے ہیں انجام سے پہلے پہلے اب تری ذکر پہ ہم بات بدل دیتے ہیں کتنی رغبت تھی تری نام سے پہلے پہلے سامنے عمر پڑی ہے شب تنہائی کی حقیقت مجھے چھوڑ گیا تو شام سے پہلے پہلے کتنا اچھا تھا کہ ہم بھی زیا کرتے تھے فراز غیر معروف سے گمنام سے پہلے پہلے

Related Ghazal

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

اپنی آنکھوں ہے وہ ہے وہ بھر کر لے جانے ہیں مجھ کو ا سے کے آنسو کام ہے وہ ہے وہ لانے ہے دیکھو ہم کوئی وحشی نہیں دیوانے ہیں جاناں سے بٹن کھلواتے نہیں لگواتے ہیں ہم جاناں اک دوجے کی سیڑھی ہے جاناں باقی دنیا تو سانپوں کے خانے ہیں پاکیزہ چیزوں کو پاکیزہ لکھو مت لکھو ا سے کی آنکھیں مے خانے ہیں

Varun Anand

63 likes

جام سگریٹ کش اور ب سے کچھ دھواں آخرش اور ب سے موت تک زندگی کا سفر رات دن کش مکش اور ب سے پی گیا تو پیڑ آندھی م گر گر پڑا کھا کے نور صفا اور ب سے زندگی جلتی سگریٹ ہے صرف دو چار کش اور ب سے سوختے پیڑ کی لکڑیاں آخری پیشکش اور ب سے

Sandeep Thakur

50 likes

More from Ahmad Faraz

کیا ایسے کم سخن سے کوئی گفتگو کرے جو مستقل سکوت سے دل کو لہو کرے اب تو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی ترک مراسم کا دکھ نہیں پر دل یہ چاہتا ہے کہ آغاز تو کرے تری بغیر بھی تو غنیمت ہے زندگی خود کو گنوا کے کون تری جستجو کرے اب تو یہ آرزو ہے کہ حقیقت زخم کھائیے تا زندگی یہ دل لگ کوئی آرزو کرے تجھ کو بھلا کے دل ہے حقیقت شرمندہ نظر اب کوئی حادثہ ہی تری رو برو کرے چپ چاپ اپنی آگ ہے وہ ہے وہ جلتے رہو فراز دنیا تو عرض حال سے بے آبرو کرے

Ahmad Faraz

8 likes

دل بدن کا شریک حال ک ہاں ہجر پھروں ہجر ہے وصال ک ہاں عشق ہے نام انتہاؤں کا ا سے سمندر ہے وہ ہے وہ اعتدال ک ہاں ایسا نشاط و زہر ہے وہ ہے وہ بھی لگ تھا اے غم دل تری مثال ک ہاں ہم کو بھی اپنی پائمالی کا ہے م گر ا سے دودمان ملال کہا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نئی دوستی کے موڑ پہ تھا آ گیا تو ہے ترا خیال کہا دل کہ خوش فہم تھا سو ہے ور لگ تری ملنے کا احتمال ک ہاں وصل و ہجران ہیں اور دنیاہیں ان زمانوں ہے وہ ہے وہ ماہ و سال ک ہاں تجھ کو دیکھا تو لوگ حیران ہیں آ گیا تو شہر ہے وہ ہے وہ غزال ک ہاں تجھ پہ لکھی تو سج گئی ہے غزل آ ملا خواب سے خیال ک ہاں اب تو شہ مات ہوں رہی ہے فراز اب بچاؤ کی کوئی چال ک ہاں

Ahmad Faraz

1 likes

کروں لگ یاد م گر ک سے طرح بھلاؤں اسے غزل بہانا کروں اور گنگناؤں اسے حقیقت بچھاؤ بچھاؤ ہے شاخ گلاب کی مانند ہے وہ ہے وہ ہے وہ زخم زخم ہوں پھروں بھی گلے لگاؤں اسے یہ لوگ تذکرے کرتے ہیں اپنے لوگوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیسے بات کروں اب ک ہاں سے لاؤں اسے م گر حقیقت زود فراموش زود رنج بھی ہے کہ روٹھ جائے ا گر یاد کچھ دلاؤں اسے وہی جو دولت دل ہے وہی جو راحت جاں تمہاری بات پہ اے ناصحوں گنواؤں اسے جو ہم سفر سر منزل بچھڑ رہا ہے فراز غضب نہیں ہے ا گر یاد بھی لگ آؤں اسے

Ahmad Faraz

3 likes

خاموش ہوں کیوں داد کہوں کیوں نہیں دیتے بسم اللہ ہوں تو قاتل کو دعا کیوں نہیں دیتے وحشت کا سبب روزن زنداں تو نہیں ہے مہر و مہ و انجم کو بجھا کیوں نہیں دیتے اک یہ بھی تو انداز علاج غم جاں ہے اے چارگرو درد بڑھا کیوں نہیں دیتے منصف ہوں ا گر جاناں تو کب انصاف کروگے مجرم ہیں ا گر ہم تو سزا کیوں نہیں دیتے رہزن ہوں تو حاضر ہے متا دل و جاں بھی رہبر ہوں تو منزل کا پتا کیوں نہیں دیتے کیا بیت گئی اب کے فراز اہل چمن پر یاران قف سے مجھ کو صدا کیوں نہیں دیتے

Ahmad Faraz

4 likes

وحشتیں بڑھتی گئیں ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم بات بھی کرتے نہیں غم خوار کے ساتھ ہم نے اک عمر بسر کی ہے غم یار کے ساتھ میر دو دن لگ جیے ہجر کے آزار کے ساتھ اب تو ہم گھر سے نکلتے ہیں تو رکھ دیتے ہیں طاق پر عزت سادات بھی دستار کے ساتھ ا سے دودمان خوف ہے اب شہر کی گلیوں ہے وہ ہے وہ کہ لوگ چاپ سنتے ہیں تو لگ جاتے ہیں دیوار کے ساتھ ایک تو خواب لیے پھرتے ہوں گلیوں گلیوں ا سے پہ تکرار بھی کرتے ہوں خریدار کے ساتھ شہر کا شہر ہی ناصح ہوں تو کیا جون ایلیا ور لگ ہم رند تو بھیڑ جاتے ہیں دو چار کے ساتھ ہم کو ا سے شہر ہے وہ ہے وہ تعمیر کا سودا ہے ج ہاں لوگ معمار کو چن دیتے ہیں دیوار کے ساتھ جو شرف ہم کو ملا کوچہ جاناں سے فراز سو مقتل بھی گئے ہیں اسی پندار کے ساتھ

Ahmad Faraz

3 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ahmad Faraz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ahmad Faraz's ghazal.