ghazalKuch Alfaaz

شام غم کچھ ا سے نگاہ ناز کی باتیں کروں بے خو گرا بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کروں یہ سکوت ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا خموشی ہے وہ ہے وہ کچھ شکست ساز کی باتیں کروں نکہت زلف پریشاں داستان شام غم صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کروں ہر رگ دل وجد ہے وہ ہے وہ آتی رہے پھوڑی رہے یوںہی ا سے کے جا و بیجا ناز کی باتیں کروں جو عدم کی جان ہے جو ہے پیام زندگی ا سے سکوت راز ا سے آواز کی باتیں کروں عشق رسوا ہوں چلا بے کیف سا بیزار سا آج ا سے کی نرگ سے غماز کی باتیں کروں نام بھی لینا ہے ج سے کا اک جہان رنگ و بو دوستو ا سے نو بہار ناز کی باتیں کروں ک سے لیے عذر ت غافل ک سے لیے الزام عشقآج چرخ تفرقہ پرواز کی باتیں کروں کچھ قف سے کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نور سا کچھ فضا کچھ حسرت پرواز کی باتیں کروں جو حیات جاوداں ہے جو ہے مرگ ناگ ہاں آج کچھ ا سے ناز ا سے انداز کی باتیں کروں عشق بے پروا بھی اب کچھ ناشکیبا ہوں چلا شوخی حسن کرشمہ ساز کی باتیں کروں ج سے کی فرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراق آج ا سے عیسیٰ نف سے دم ساز کی با

Related Ghazal

ا گر تو بےوفا ہے دھیان رکھنا مجھے سب کچھ پتا ہے دھیان رکھنا بچھڑتے سمے ہم نے کہ دیا تھا ہمارا دل دکھا ہے دھیان رکھنا خدا ج سے کی محبت ہے وہ ہے وہ بنی ہوں حقیقت کئیوں کا خدا ہے دھیان رکھنا جسے جاناں دوست کیول جانتی ہوں حقیقت جاناں کو چاہتا ہے دھیان رکھنا

Anand Raj Singh

54 likes

عقل نے اچھے اچھوں کو بہکایا تھا شکر ہے ہم پر کچھ وحشت کا سایہ تھا جاناں نے اپنی گردن اونچی ہی رکھی ورنا ہے وہ ہے وہ تو جپا لے کر آیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب تک ا سے کے ہی رنگ ہے وہ ہے وہ رنگا ہوں ج سے نے سب سے پہلے رنگ لگایا تھا مری رائے سب سے پہلے لی جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سب سے پہلے دھوکہ کھایا تھا سب کو علم ہے پھول اور خوشبو دونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سب سے پہلے ک سے نے ہاتھ چھڑایا تھا اک لڑکی نے پھروں مجھ کو بہکایا ہے اک لڑکی نے اچھے سے سمجھایا تھا

Zubair Ali Tabish

48 likes

کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا

Tehzeeb Hafi

435 likes

اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے

Waseem Barelvi

107 likes

بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے بچا ہے جو تجھ ہے وہ ہے وہ میرا حصہ نکالنا ہے یہ روح برسوں سے دفن ہے جاناں مدد کروگے بدن کے ملبے سے ا سے کو زندہ نکالنا ہے نظر ہے وہ ہے وہ رکھنا کہی کوئی غم شنا سے گاہک مجھے سخن بیچنا ہے خرچہ نکالنا ہے نکال لایا ہوں ایک پنجرے سے اک پرندہ اب ا سے پرندے کے دل سے پنجرہ نکالنا ہے یہ تی سے برسوں سے کچھ بر سے پیچھے چل رہی ہے مجھے گھڑی کا خراب پرزا نکالنا ہے خیال ہے خاندان کو اطلاع دے دوں جو کٹ گیا تو ا سے شجر کا شجرہ نکالنا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک کردار سے بڑا تنگ ہوں قلمکار مجھے کہانی ہے وہ ہے وہ ڈال غصہ نکالنا ہے

Umair Najmi

42 likes

More from Firaq Gorakhpuri

हाथ आए तो वही दामन-ए-जानाँ हो जाए छूट जाए तो वही अपना गरेबाँ हो जाए इश्क़ अब भी है वो महरम-ए-बे-गाना-नुमा हुस्न यूँँ लाख छुपे लाख नुमायाँ हो जाए होश-ओ-ग़फ़लत से बहुत दूर है कैफ़िय्यत-ए-इश्क़ उस की हर बे-ख़बरी मंज़िल-ए-इरफ़ाँ हो जाए याद आती है जब अपनी तो तड़प जाता हूँ मेरी हस्ती तिरा भूला हवा पैमाँ हो जाए आँख वो है जो तिरी जल्वा-गह-ए-नाज़ बने दिल वही है जो सरापा तिरा अरमाँ हो जाए पाक-बाज़ान-ए-मोहब्बत में जो बेबाकी है हुस्न गर उस को समझ ले तो पशेमाँ हो जाए सहल हो कर हुई दुश्वार मोहब्बत तेरी उसे मुश्किल जो बना लें तो कुछ आसाँ हो जाए इश्क़ फिर इश्क़ है जिस रूप में जिस भेस में हो इशरत-ए-वस्ल बने या ग़म-ए-हिज्राँ हो जाए कुछ मुदावा भी हो मजरूह दिलों का ऐ दोस्त मरहम-ए-ज़ख़्म तिरा जौर-पशेमाँ हो जाए ये भी सच है कोई उल्फ़त में परेशाँ क्यूँँ हो ये भी सच है कोई क्यूँँकर न परेशाँ हो जाए इश्क़ को अर्ज़-ए-तमन्ना में भी लाखों पस-ओ-पेश हुस्न के वास्ते इनकार भी आसाँ हो जाए झिलमिलाती है सर-ए-बज़्म-ए-जहाँ शम्अ-ए-ख़ुदी जो ये बुझ जाए चराग़-ए-रह-ए-इरफ़ाँ हो जाए सर-ए-शोरीदा दिया दश्त-ओ-बयाबाँ भी दिए ये मिरी ख़ूबी-ए-क़िस्मत कि वो ज़िंदाँ हो जाए उक़्दा-ए-इश्क़ अजब उक़्दा-ए-मोहमल है 'फ़िराक़' कभी ला-हल कभी मुश्किल कभी आसाँ हो जाए

Firaq Gorakhpuri

1 likes

اب دور آسمان ہے لگ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ ا پیش کائنات ہے حیرت سرا عشق ہے وہ ہے وہ دن ہے لگ رات ہے جینا جو آ گیا تو تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو خیرو بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہا ہوش کو کہتے ہیں بے خو گرا خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو ج سے نے زلزلہ ساماں بنا دیا حقیقت دل قرار پائے مقدر کی بات ہے یہ مشگافیاں ہیں گراں خا لگ ب خا لگ پر ک سے کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے توڑا ہے لا مکان کی حدوں کو بھی عشق نے زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے گم ہوں کے ہر جگہ ہیں ز خود نشینی رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے ہستی بجز فنا مسلسل کے کچھ نہیں پھروں ک سے لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے ا سے جان دوستی کا خلوص ن ہاں لگ پوچھ ج سے کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب جاناں دل دکھاؤ سمے مصیبت تو بات ہے عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہوں یا وصال ب

Firaq Gorakhpuri

1 likes

آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھروں ترا غم وہی رسوا ج ہاں ہے کہ جو تھا پھروں فسا لگ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزرں ہے کہ جو تھا کرنےوالے و نور ہے وہ ہے وہ کچھ بھی لگ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا یوں تو ا سے دور ہے وہ ہے وہ بے کیف سی ہے بزم حیات ایک ہنگامہ سر رتل گراں ہے کہ جو تھا لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرم تجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا آج پھروں عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہے آستینوں ہے وہ ہے وہ لیے کون و مکان ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بے حد وہی کم کم اثر سوز لگ ہاں ہے کہ جو تھا نظر آ جاتے ہیں جاناں کو تو بے حد چھوؤں گا بال دل میرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوں سے والے بھی پھروں وہی مرحلہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا آج بھی صید گہ عشق ہے وہ ہے وہ حسن سفاک لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا پھروں تری چشم سخن س

Firaq Gorakhpuri

1 likes

دیدار ہے وہ ہے وہ اک طرفہ دیدار نظر آیا ہر بار چھپا کوئی ہر بار نظر آیا چھالوں کو شایاں بھی دل ناشاد نظر آیا جب چھیڑ پر آمادہ ہر بچھاؤ نظر آیا بیاباں کی حقیقت صبح شب ہجراں اک چاک گریباں ہر تار نظر آیا ہوں دل پامال کہ بے تابی امید کہ بیتابی مایوسی بھی بے کار نظر آیا جب چشم سیاہ تیری تھی چھائی ہوئی دل پر ا سے ملک کا ہر نیرنگ محبت خطہ نظر آیا تو نے بھی تو دیکھی تھی حقیقت جاتی ہوئی دنیا کیا آخری لمحوں ہے وہ ہے وہ بیمار نظر آیا نور صفا کھا کے گرے موسی غش بیتابی ہلکا سا حقیقت پردہ بھی دیوار نظر آیا ذرہ ہوں کہ اللہ ری ہوں قطرہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ مخمور نظر آیا مخمور نظر آیا کیا کچھ لگ ہوا غم سے کیا کچھ لگ کیا غم نے اور یوں تو ہوا جو کچھ بے کار نظر آیا اے عشق قسم تجھ کو سرشار کی کوئی غم فرقت ہے وہ ہے وہ غم خوار نظر آیا شب کٹ گئی فرقت کی دیکھا لگ فراق آخر غم خوار بھی بے کار نظر آیا

Firaq Gorakhpuri

1 likes

فراق اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے طول غم ہجراں ا سے آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہے تری خیال کو کچھ چپ سی لگ گئی ور لگ کہانیوں سے شب غم بہل تو سکتی ہے بقول چلے کھا کے ٹھوکریں لیکن قدم قدم پہ جوانی عرو سے دہر تو سکتی ہے پلٹ پڑے لگ کہی ا سے نگاہ کا جادو کہ ڈوب کر یہ ابل کچھ چھری اچھل تو سکتی ہے بجھے ہوئے نہیں اتنے بجھے ہوئے دل بھی فسردگی ہے وہ ہے وہ طبیعت مچل تو سکتی ہے ا گر تو چاہے تو غم والے شادماں ہوں جائیں نگاہ یار یہ حسرت نکل تو سکتی ہے اب اتنی بند نہیں غم کدوں کی بھی راہیں ہوا کوچ محبوب چل تو سکتی ہے کڑے ہیں کو سے بے حد منزل محبت کے ملے لگ چھاؤں م گر دھوپ ڈھل تو سکتی ہے حیات لو تہ دامان مرگ دے اٹھی ہوا کی راہ ہے وہ ہے وہ یہ شمع جل تو سکتی ہے کچھ اور مصلحت جذب عشق ہے ور لگ کسی سے چھوٹ کے طبیعت سنبھل تو سکتی ہے ازل سے سوئی ہے تقدیر عشق موت کی نیند ا گر جگائیے کروٹ بدل تو سکتی ہے غم زما لگ و سوز ن ہاں کی آنچ تو دے ا گر لگ ٹوٹے یہ زنجیر گل تو سکتی ہے شریک شرم و حیا کچھ ہے ب

Firaq Gorakhpuri

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.