فراق اک نئی صورت نکل تو سکتی ہے طول غم ہجراں ا سے آنکھ کے دنیا بدل تو سکتی ہے تری خیال کو کچھ چپ سی لگ گئی ور لگ کہانیوں سے شب غم بہل تو سکتی ہے بقول چلے کھا کے ٹھوکریں لیکن قدم قدم پہ جوانی عرو سے دہر تو سکتی ہے پلٹ پڑے لگ کہی ا سے نگاہ کا جادو کہ ڈوب کر یہ ابل کچھ چھری اچھل تو سکتی ہے بجھے ہوئے نہیں اتنے بجھے ہوئے دل بھی فسردگی ہے وہ ہے وہ طبیعت مچل تو سکتی ہے ا گر تو چاہے تو غم والے شادماں ہوں جائیں نگاہ یار یہ حسرت نکل تو سکتی ہے اب اتنی بند نہیں غم کدوں کی بھی راہیں ہوا کوچ محبوب چل تو سکتی ہے کڑے ہیں کو سے بے حد منزل محبت کے ملے لگ چھاؤں م گر دھوپ ڈھل تو سکتی ہے حیات لو تہ دامان مرگ دے اٹھی ہوا کی راہ ہے وہ ہے وہ یہ شمع جل تو سکتی ہے کچھ اور مصلحت جذب عشق ہے ور لگ کسی سے چھوٹ کے طبیعت سنبھل تو سکتی ہے ازل سے سوئی ہے تقدیر عشق موت کی نیند ا گر جگائیے کروٹ بدل تو سکتی ہے غم زما لگ و سوز ن ہاں کی آنچ تو دے ا گر لگ ٹوٹے یہ زنجیر گل تو سکتی ہے شریک شرم و حیا کچھ ہے ب
Related Ghazal
ہے وہ ہے وہ نے جو کچھ بھی سوچا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ حقیقت سمے آنے پہ کر جاؤں گا جاناں مجھے زہر لگتے ہوں اور ہے وہ ہے وہ کسی دن تمہیں پی کے مر جاؤں گا تو تو بینائی ہے مری تری علاوہ مجھے کچھ بھی دکھتا نہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے تجھ کو ا گر تری گھر پہ اتارا تو ہے وہ ہے وہ کیسے گھر جاؤں گا چاہتا ہوں تمہیں اور بے حد چاہتا ہوں تمہیں خود بھی معلوم ہے ہاں ا گر مجھ سے پوچھا کسی نے تو ہے وہ ہے وہ سیدھا منا پر مکر جاؤں گا تری دل سے تری شہر سے تری گھر سے تیری آنکھ سے تری در سے تیری گلیوں سے تری وطن سے نکالا ہوا ہوں کدھر جاؤں گا
Tehzeeb Hafi
241 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو ا سے کے شہر ہے وہ ہے وہ کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے ا سے کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے درد کی گاہک ہے چشم ناز ا سے کی سو ہم بھی ا سے کی گلی سے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کو بھی ہے شعر و شاعری سے شغف سو ہم بھی معجزے اپنے ہنر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات اسے چاند تکتا رہتا ہے ستارے تم تم بام فلک سے اتر کے دیکھتے ہیں سنا ہے دن کو اسے تتلیاں ستاتی ہیں سنا ہے رات کو جگنو ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے حشر ہیں ا سے کی غزال سی آنکھیں سنا ہے ا سے کو ہرن دشت بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے رات سے بڑھ کر ہیں کاکليں ا سے کی سنا ہے شام کو سائے گزر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کی سیاہ چشمگی خوشگوار ہے سو ا سے کو سرمہ فروش آہ بھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ا سے کے لبوں سے گلاب جلتے ہیں سو ہم بہار پہ الزام دھر کے دیکھتے ہیں سنا ہے آئی لگ تمثال ہے جبیں ا سے
Ahmad Faraz
65 likes
سفر ہے وہ ہے وہ دھوپ تو ہوں گی جو چل سکو تو چلو سبھی ہیں بھیڑ ہے وہ ہے وہ جاناں بھی نکل سکو تو چلو کسی کے واسطے راہیں ک ہاں بدلتی ہیں جاناں اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو ی ہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا مجھے گرا کے ا گر جاناں سنبھل سکو تو چلو کہی نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں انہی کھلونوں سے جاناں بھی بہل سکو تو چلو
Nida Fazli
61 likes
آئینے آنکھ ہے وہ ہے وہ چبھتے تھے بستر سے بدن کترا تا تھا ایک یاد بسر کرتی تھی مجھے ہے وہ ہے وہ سان سے نہیں لے پاتا تھا ایک شخص کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ تھا سب کچھ میرا کھلنا بھی مرجھانا بھی روتا تھا تو رات اجڑ جاتی ہنستا تھا تو دن بن جاتا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ رب سے رابطے ہے وہ ہے وہ رہتا ممکن ہے کی ا سے سے رابطہ ہوں مجھے ہاتھ اٹھانا پڑتے تھے تب جا کر حقیقت فون اٹھاتا تھا مجھے آج بھی یاد ہے بچپن ہے وہ ہے وہ کبھی ا سے پر نظر ا گر پڑتی مری گدا سے پھول برستے تھے مری تختی پہ دل بن جاتا تھا ہم ایک زندان ہے وہ ہے وہ زندہ تھے ہم ایک زنجیر ہے وہ ہے وہ بڑھے ہوئے ایک دوسرے کو دیکھ کر ہم کبھی زار تھے تو رونا آتا تھا حقیقت جسم دلائیں نہیں ہوں پاتا تھا ان آنکھوں سے مجرم ٹھہراتا تھا اپنا کہنے کو تو گھر ٹھہراتا تھا
Tehzeeb Hafi
129 likes
More from Firaq Gorakhpuri
हाथ आए तो वही दामन-ए-जानाँ हो जाए छूट जाए तो वही अपना गरेबाँ हो जाए इश्क़ अब भी है वो महरम-ए-बे-गाना-नुमा हुस्न यूँँ लाख छुपे लाख नुमायाँ हो जाए होश-ओ-ग़फ़लत से बहुत दूर है कैफ़िय्यत-ए-इश्क़ उस की हर बे-ख़बरी मंज़िल-ए-इरफ़ाँ हो जाए याद आती है जब अपनी तो तड़प जाता हूँ मेरी हस्ती तिरा भूला हवा पैमाँ हो जाए आँख वो है जो तिरी जल्वा-गह-ए-नाज़ बने दिल वही है जो सरापा तिरा अरमाँ हो जाए पाक-बाज़ान-ए-मोहब्बत में जो बेबाकी है हुस्न गर उस को समझ ले तो पशेमाँ हो जाए सहल हो कर हुई दुश्वार मोहब्बत तेरी उसे मुश्किल जो बना लें तो कुछ आसाँ हो जाए इश्क़ फिर इश्क़ है जिस रूप में जिस भेस में हो इशरत-ए-वस्ल बने या ग़म-ए-हिज्राँ हो जाए कुछ मुदावा भी हो मजरूह दिलों का ऐ दोस्त मरहम-ए-ज़ख़्म तिरा जौर-पशेमाँ हो जाए ये भी सच है कोई उल्फ़त में परेशाँ क्यूँँ हो ये भी सच है कोई क्यूँँकर न परेशाँ हो जाए इश्क़ को अर्ज़-ए-तमन्ना में भी लाखों पस-ओ-पेश हुस्न के वास्ते इनकार भी आसाँ हो जाए झिलमिलाती है सर-ए-बज़्म-ए-जहाँ शम्अ-ए-ख़ुदी जो ये बुझ जाए चराग़-ए-रह-ए-इरफ़ाँ हो जाए सर-ए-शोरीदा दिया दश्त-ओ-बयाबाँ भी दिए ये मिरी ख़ूबी-ए-क़िस्मत कि वो ज़िंदाँ हो जाए उक़्दा-ए-इश्क़ अजब उक़्दा-ए-मोहमल है 'फ़िराक़' कभी ला-हल कभी मुश्किल कभी आसाँ हो जाए
Firaq Gorakhpuri
1 likes
آج بھی قافلہ عشق رواں ہے کہ جو تھا وہی میل اور وہی سنگ نشاں ہے کہ جو تھا پھروں ترا غم وہی رسوا ج ہاں ہے کہ جو تھا پھروں فسا لگ بحدیث دگراں ہے کہ جو تھا منزلیں گرد کے مانند اڑی جاتی ہیں وہی انداز جہان گزرں ہے کہ جو تھا کرنےوالے و نور ہے وہ ہے وہ کچھ بھی لگ محبت کو ملا آج تک ایک دھندلکے کا سماں ہے کہ جو تھا یوں تو ا سے دور ہے وہ ہے وہ بے کیف سی ہے بزم حیات ایک ہنگامہ سر رتل گراں ہے کہ جو تھا لاکھ کر جور و ستم لاکھ کر احسان و کرم تجھ پہ اے دوست وہی وہم و گماں ہے کہ جو تھا آج پھروں عشق دو عالم سے جدا ہوتا ہے آستینوں ہے وہ ہے وہ لیے کون و مکان ہے کہ جو تھا عشق افسردہ نہیں آج بھی افسردہ بے حد وہی کم کم اثر سوز لگ ہاں ہے کہ جو تھا نظر آ جاتے ہیں جاناں کو تو بے حد چھوؤں گا بال دل میرا کیا وہی اے شیشہ گراں ہے کہ جو تھا جان دے بیٹھے تھے اک بار ہوں سے والے بھی پھروں وہی مرحلہ سود و زیاں ہے کہ جو تھا آج بھی صید گہ عشق ہے وہ ہے وہ حسن سفاک لیے ابرو کی لچکتی سی کماں ہے کہ جو تھا پھروں تری چشم سخن س
Firaq Gorakhpuri
1 likes
ستاروں سے الجھتا جا رہا ہوں شب فرقت بے حد نزدیک تر رہا ہوں تری غم کو بھی کچھ بہلا رہا ہوں ج ہاں کو بھی سمجھتا جا رہا ہوں یقین یہ ہے حقیقت کھل رہی ہے گماں یہ ہے کہ دھوکے کھا رہا ہوں ا گر ممکن ہوں لے لے اپنی آہٹ خبر دو حسن کو ہے وہ ہے وہ آ رہا ہوں حدیں حسن و محبت کی ملا کر خوشگوار پر خوشگوار ڈھا رہا ہوں خبر ہے تجھ کو اے درد فراق تری ہاتھوں ہے وہ ہے وہ قافلہ جا رہا ہوں اثر بھی لے رہا ہوں تیری چپ کا تجھے قائل بھی کرتا جا رہا ہوں بھرم تری ستم کا کھل چکا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھ سے آج کیوں شرما رہا ہوں انہی ہے وہ ہے وہ راز ہیں گل باریوں کے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو چنگاریاں برسا رہا ہوں جو ان معصوم آنکھوں نے دیے تھے حقیقت دھوکے آج تک ہے وہ ہے وہ کھا رہا ہوں تری پہلو ہے وہ ہے وہ کیوں ہوتا ہے محسو سے کہ تجھ سے دور ہوتا جا رہا ہوں حد زور و کرم سے بڑھ چلا حسن نگاہ یار کو یاد آ رہا ہوں جو الجھي تھی کبھی آدم کے ہاتھوں حقیقت الجھاتا آج تک سلجھا رہا ہوں محبت اب محبت ہوں چلی ہے
Firaq Gorakhpuri
2 likes
اب دور آسمان ہے لگ دور حیات ہے اے درد ہجر تو ہی بتا کتنی رات ہے ہر کائنات سے یہ ا پیش کائنات ہے حیرت سرا عشق ہے وہ ہے وہ دن ہے لگ رات ہے جینا جو آ گیا تو تو اجل بھی حیات ہے اور یوں تو خیرو بھی کیا بے ثبات ہے کیوں انتہا ہوش کو کہتے ہیں بے خو گرا خورشید ہی کی آخری منزل تو رات ہے ہستی کو ج سے نے زلزلہ ساماں بنا دیا حقیقت دل قرار پائے مقدر کی بات ہے یہ مشگافیاں ہیں گراں خا لگ ب خا لگ پر ک سے کو دماغ کاوش ذات و صفات ہے توڑا ہے لا مکان کی حدوں کو بھی عشق نے زندان عقل تیری تو کیا کائنات ہے گردوں شرار برق دل بے قرار دیکھ جن سے یہ تیری تاروں بھری رات رات ہے گم ہوں کے ہر جگہ ہیں ز خود نشینی رفتگان عشقان کی بھی اہل کشف و کرامات ذات ہے ہستی بجز فنا مسلسل کے کچھ نہیں پھروں ک سے لیے یہ فکر قرار و ثبات ہے ا سے جان دوستی کا خلوص ن ہاں لگ پوچھ ج سے کا ستم بھی غیرت صد التفات ہے یوں تو ہزار درد سے روتے ہیں بد نصیب جاناں دل دکھاؤ سمے مصیبت تو بات ہے عنوان غفلتوں کے ہیں قربت ہوں یا وصال ب
Firaq Gorakhpuri
1 likes
کسی کا یوں تو ہوا کون عمر بھر پھروں بھی یہ حسن و عشق تو دھوکہ ہے سب م گر پھروں بھی ہزار بار زما لگ ادھر سے گزرا ہے نئی نئی سی ہے کچھ تیری رہگزر پھروں بھی ک ہوں یہ کیسے ادھر دیکھ یا لگ دیکھ ادھر کہ درد درد ہے پھروں بھی نظر نظر پھروں بھی خوشا اشارہ پیہم زہے سکوت نظر دراز ہوں کے فسا لگ ہے بڑھوا پھروں بھی جھپک رہی ہیں زمان و مکان کی بھی آنکھیں م گر ہے قافلہ آمادہ سفر پھروں بھی شب فراق سے آگے ہے آج مری نظر کہ کٹ ہی جائے گی یہ شام بے سحر پھروں بھی کہی یہی تو نہیں کاشف حیات و ممات یہ حسن و عشق بظاہر ہیں بے خبر پھروں بھی پلٹ رہے ہیں غریب الوطن پلٹنا تھا حقیقت کوچہ روکش جنت ہوں گھر ہے گھر پھروں بھی لٹا ہوا چمن عشق ہے نگا ہوں کو دکھا گیا تو وہی کیا کیا گل و ثمر پھروں بھی خراب ہوں کے بھی سوچا کیے تری مہجور یہی کہ تیری نظر ہے تری نظر پھروں بھی ہوں بے نیاز اثر بھی کبھی تری مٹی حقیقت کیمیا ہی صحیح رہ گئی کسر پھروں بھی لپٹ گیا تو ترا دیوا لگ گرچہ منزل سے اڑی اڑی سی ہے یہ خاک رہگزر پھروں بھ
Firaq Gorakhpuri
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Firaq Gorakhpuri.
Similar Moods
More moods that pair well with Firaq Gorakhpuri's ghazal.







