ghazalKuch Alfaaz

siine ke zakhm paanv ke chhale kahan gae ai husn tere chahne vaale kahan gae shanon ko chhin chhin ke phenka gaya kahan aine tod-phod ke daale kahan gae khalvat men raushni hai na mahfil men raushni ahl-e-vafa charaghh-e-vafa le kahan gae but-khane men bhi dher hain tukde haram men bhi jam-o-subu kahan the uchhale kahan gae ankhon se ansuon ko mili khaak men jagah paale kahan gae the nikale kahan gae barbad-e-rozgar hamara hi naam hai aaen tamasha dekhne vaale kahan gae chhupte gae dilon men vo ban kar ghhazal ke bol main dhundhta raha mire naale kahan gae uthte huon ko sab ne sahara diya 'kalim' girte hue ghharib sambhale kahan gae sine ke zakhm panw ke chhaale kahan gae ai husn tere chahne wale kahan gae shanon ko chhin chhin ke phenka gaya kahan aaine tod-phod ke dale kahan gae khalwat mein raushni hai na mahfil mein raushni ahl-e-wafa charagh-e-wafa le kahan gae but-khane mein bhi dher hain tukde haram mein bhi jam-o-subu kahan the uchhaale kahan gae aankhon se aansuon ko mili khak mein jagah pale kahan gae the nikale kahan gae barbaad-e-rozgar hamara hi nam hai aaen tamasha dekhne wale kahan gae chhupte gae dilon mein wo ban kar ghazal ke bol main dhundhta raha mere nale kahan gae uthte huon ko sab ne sahaara diya 'kalim' girte hue gharib sambhaale kahan gae

Related Ghazal

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

رات کو دیپ کی لو کم نہیں رکھی جاتی دھند ہے وہ ہے وہ روشنی مدھیم نہیں رکھی جاتی کیسے دریا کی حفاظت تری ذمہ ٹھہراؤ تجھ سے اک آنکھ ا گر نمہ نہیں رکھی جاتی ا سے لیے چھوڑ کر جانے لگے سب چارا گر زخم سے عزت مرہم نہیں رکھی جاتی ایسے کیسے ہے وہ ہے وہ تجھے چاہنے لگ جاؤں بھلا گھر کی بنیاد تو یکدم نہیں رکھی جاتی

Tehzeeb Hafi

25 likes

اتنا مجبور لگ کر بات بنانے لگ جائے ہم تری سر کی قسم جھوٹ ہی خانے لگ جائے اتنے سناٹے پیے مری سماعت نے کہ اب صرف آواز پہ چا ہوں تو نشانے لگ جائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا گر اپنی جوانی کے سنا دوں قصے یہ جو افلاطون ہیں مری پاؤں دبانے لگ جائے

Mehshar Afridi

173 likes

جب سے ا سے نے کھینچا ہے کھڑکی کا پردہ ایک طرف ا سے کا کمرہ ایک طرف ہے باقی دنیا ایک طرف ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اب تک جتنے بھی لوگوں ہے وہ ہے وہ خود کو بانٹا ہے بچپن سے رکھتا آیا ہوں تیرا حصہ ایک طرف ایک طرف مجھے جل گرا ہے ا سے کے دل ہے وہ ہے وہ گھر کرنے کی ایک طرف حقیقت کر دیتا ہے رفتہ رفتہ ایک طرف یوں تو آج بھی تیرا دکھ دل دہلا دیتا ہے لیکن تجھ سے جدا ہونے کے بعد کا پہلا ہفتہ ایک طرف ا سے کی آنکھوں نے مجھ سے مری خودداری چینی ورنا پاؤں کی ٹھوکر سے کر دیتا تھا ہے وہ ہے وہ دنیا ایک طرف مری مرضی تھی ہے وہ ہے وہ زرے چنتا یا لہریں چنتا ا سے نے صحرا ایک طرف رکھا اور دریا ایک طرف

Tehzeeb Hafi

122 likes

خالی بیٹھے ہوں تو اک کام میرا کر دو نا مجھ کو اچھا سا کوئی زخم ادا کر دو نا دھیان سے پنچھیوں کو دیتے ہوں دا لگ پانی اتنے اچھے ہوں تو پنجرے سے رہا کر دو نا جب قریب آ ہی گئے ہوں تو اداسی کیسی جب دیا دے ہی رہے ہوں تو جلا کر دو نا

Zubair Ali Tabish

102 likes

More from Kaleem Aajiz

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

1 likes

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسان یہ نہیں پسند مجھ کو تری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تری بے رکھ پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دوں ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاں سے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہرباں سمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤں یہ ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

0 likes

مجھے ا سے کا کوئی گلہ نہیں کہ بہار نے مجھے کیا دیا تری آرزو تو نکال دی ترا حوصلہ تو بڑھا دیا گو ستم نے تری ہر اک طرح مجھے نا امید بنا دیا یہ مری وفا کا غصہ ہے کہ نباہ کر کے دکھا دیا کوئی بزم ہوں کوئی صورت آشنا یہ شعار اپنا اچھی اچھی ہے ج ہاں روشنی کی کمی ملی وہیں اک چراغ جلا دیا تجھے اب بھی مری خلوص کا لگ یقین آئی تو کیا کروں تری گیسوؤں کو سنوارت کر تجھے آئی لگ بھی دکھا دیا مری شاعری ہے وہ ہے وہ تری سوا کوئی ماجرا ہے لگ مدعا جو تری نظر کا فسا لگ تھا حقیقت مری غزل نے سنا دیا یہ غریب عاجز بے وطن یہ غبار خاطر انجمں یہ خراب ج سے کے لیے ہوا اسی بےوفا نے بھلا دیا

Kaleem Aajiz

0 likes

دھڑکتا جاتا ہے دل مسکرانے والوں کا اٹھا نہیں ہے ابھی اعتبار نالوں کا یہ بڑھوا سی ہے روداد صبح مے خانہ زمیں پہ ڈھیر تھا ٹوٹے ہوئے پیالوں کا یہ خوف ہے کہ صبا لڑکھڑا کے گر نہ پڑے پیام لے کے چلی ہے شکستہ حالوں کا نہ آئیں اہل خرد وادی جنوں کی طرف یہاں گزر نہیں دامن بچانے والوں کا لپٹ لپٹ کے گلے مل رہے تھے خنجر سے بڑے غضب کا کلیجہ تھا مرنے والوں کا

Kaleem Aajiz

0 likes

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہےگی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہےگی دن رات کے آنسو سحر و شام کی آہیں ا سے باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہےگی ک سے دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے ک ہاں تک دنیا کو تری زلف رسا یاد رہےگی کرتے رہیں گے جاناں سے محبت بھی وفا بھی گو جاناں کو محبت لگ وفا یاد رہےگی ک سے بات کا تو قول و قسم لے ہے برہمن ہر بات بتوں کی بخدا یاد رہےگی چلتے گئے ہم پھول بناتے گئے چھالے صحرا کو مری لغزش پا یاد رہےگی ج سے بزم ہے وہ ہے وہ جاناں جاؤگے ا سے بزم کو عاجز یہ گفتگو بے سر و پا یاد رہےگی

Kaleem Aajiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaleem Aajiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.