ghazalKuch Alfaaz

tere aane ki jab khabar mahke teri khushbu se saara ghar mahke shaam mahke tire tasavvur se shaam ke baad phir sahar mahke raat bhar sochta raha tujh ko zehn-o-dil mere raat bhar mahke yaad aae to dil munavvar ho diid ho jaae to nazar mahke vo ghadi-do-ghadi jahan baithe vo zamin mahke vo shajar mahke tere aane ki jab khabar mahke teri khushbu se sara ghar mahke sham mahke tere tasawwur se sham ke baad phir sahar mahke raat bhar sochta raha tujh ko zehn-o-dil mere raat bhar mahke yaad aae to dil munawwar ho did ho jae to nazar mahke wo ghadi-do-ghadi jahan baithe wo zamin mahke wo shajar mahke

Related Ghazal

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

کبھی ملیںگے تو یہ قرض بھی اتاریںگے تمہارے چہرے کو پہروں تلک نہہاریںگے یہ کیا ستم کہ کھلاڑی بدل دیا ا سے نے ہم ا سے امید پہ بیٹھے تھے ہم ہی ہاریںگے ہمارے بعد تری عشق ہے وہ ہے وہ نئے لڑکے بدن تو چو ہے وہ ہے وہ ہے وہ گے زلفیں نہیں سنواریں گے

Vikram Gaur Vairagi

70 likes

حقیقت منہ لگاتا ہے جب کوئی کام ہوتا ہے جو اس کا کا ہوتا ہے سمجھو غلام ہوتا ہے کسی کا ہوں کے دوبارہ نہ آنا میری طرف محبتوں ہے وہ ہے وہ حلالہ حرام ہوتا ہے اسے بھی گنتے ہیں ہم لوگ اہل خانہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہمارے یاں تو شجر کا بھی نام ہوتا ہے تجھ ایسے بے وجہ کے ہوتے ہیں ضرب سے دوست بہت تجھ ایسا بے وجہ بہت جلد آم ہوتا ہے کبھی لگی ہے تمہیں کوئی شام آخری شام ہمارے ساتھ یہ ہر ایک شام ہوتا ہے

Umair Najmi

81 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

بغیر اس کا کو بتائے نبھانا پڑتا ہے یہ عشق راز ہے اس کا کو چھپانا پڑتا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے ذہن کی ضد سے بے حد پریشاں ہوں تری خیال کی چوکھٹ پہ آنا پڑتا ہے تری بغیر ہی اچھے تھے کیا مصیبت ہے یہ کیسا پیار ہے ہر دن جتانا پڑتا ہے

Mehshar Afridi

73 likes

More from Nawaz Deobandi

لے کے ماضی کو جو حال آیا تو دل کانپ گیا تو جب کبھی ان کا خیال آیا تو دل کانپ گیا تو ایسا توڑا تھا محبت ہے وہ ہے وہ کسی نے دل کو جب کسی شیشے ہے وہ ہے وہ بال آیا تو دل کانپ گیا تو سر بلن گرا پہ تو مغرور تھے ہم بھی لیکن چڑھتے سورج پہ زوال آیا تو دل کانپ گیا تو بد نظر اٹھنے ہی والی تھی کسی کی جانب اپنے بیٹی کا خیال آیا تو دل کانپ گیا تو

Nawaz Deobandi

7 likes

وہاں کیسے کوئی دیا جلے جہاں دور تک یہ ہوا نہ ہوں انہیں حال دل نہ سنائیے جنہیں غزلوں کا پتا نہ ہوں ہوں عجب طرح کی شکایتیں ہوں عجب طرح کی عنایتیں تجھے مجھ سے شکوے ہزار ہوں مجھے تجھ سے کوئی گلہ نہ ہوں کوئی ایسا شعر بھی دے خدا جو تری عطا ہوں تری عطا کبھی جیسا ہے وہ ہے وہ نے کہا نہ ہوں کبھی جیسا ہے وہ ہے وہ نے سنا نہ ہوں نہ دیے کا ہے نہ ہوا کا ہے یہاں جو بھی کچھ ہے خدا کا ہے یہاں ایسا کوئی دیا نہیں جو جلا ہوں اور حقیقت بجھا نہ ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مریض عشق ہوں چارہ گر تو ہے درد عشق سے بے خبر یہ تڑپ ہی اس کا کا علاج ہے یہ تڑپ نہ ہوں تو شفا نہ ہوں

Nawaz Deobandi

5 likes

خود کو کتنا چھوٹا کرنا پڑتا ہے بیٹے سے سمجھوتا کرنا پڑتا ہے جب اولادیں گرفتار تعصب ہوں جاتی ہیں اپنے اوپر غصہ کرنا پڑتا ہے سچائی کو اپنانا آسان نہیں دنیا بھر سے جھگڑا کرنا پڑتا ہے جب سارے کے سارے ہی بے پردہ ہوں ایسے ہے وہ ہے وہ خود پردہ کرنا پڑتا ہے پیاسوں کی بستی ہے وہ ہے وہ شعلے بھڑکا کر پھروں پانی کو مہنگا کرنا پڑتا ہے ہنسکر اپنے چہرے کی ہر سلوٹ پر شیشے کو شرمندہ کرنا پڑتا ہے

Nawaz Deobandi

2 likes

منزل پہ لگ پہنچے اسے رستہ نہیں کہتے دو چار قدم چلنے کو چلنا نہیں کہتے اک ہم ہیں کہ غیروں کو بھی کہ دیتے ہیں اپنا اک جاناں ہوں کہ اپنوں کو بھی اپنا نہیں کہتے کم ہمتی خطرہ ہے سمندر کے سفر ہے وہ ہے وہ ہے وہ طوفان کو ہم دوستو خطرہ نہیں کہتے بن جائے ا گر بات تو سب کہتے ہیں کیا کیا اور بات بگڑ جائے تو کیا کیا نہیں کہتے

Nawaz Deobandi

33 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nawaz Deobandi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nawaz Deobandi's ghazal.