ghazalKuch Alfaaz

تری ملنے کا آخری امکان چنو مجھ ہے وہ ہے وہ ہے ایک نخلستان گھر ہے وہ ہے وہ لگتا نہیں ہے جی میرا دشت ہے وہ ہے وہ رہ گیا تو میرا سامان ریت ہے وہ ہے وہ سیپیاں ملی ہیں مجھے کیا سمندر تھا پہلے ریگستان لوٹے شاید اسی بہانے حقیقت رکھ لیا ہے وہ ہے وہ نے ا سے کا کچھ سامان تو تری ارد گرد ہی ہے کہی ہر طرف ڈھونڈ ہر جگہ کو چھان دور تک کوئی بھی نہیں دل ہے وہ ہے وہ ہے وہ آخری شہر بھی ملا ویران ک سے نے پھونکی ہے جسم ہے وہ ہے وہ سانسیں ک سے نے نینسکھ ہے زندگی کی تان خاک ہوں جائےگا بدن آتش ہوں گے اک دن دھواں یہ جسم و جان

Related Ghazal

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

زبان تو کھول نظر تو ملا جواب تو دے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی بار لٹا ہوں مجھے حساب تو دے تری بدن کی ودھی ہے وہ ہے وہ ہے اتار لکھاوت ہے وہ ہے وہ ہے وہ تجھے کیسے چڑھاو مجھے کتاب تو دے تیرا سوال ہے ساقی کہ زندگی کیا ہے جواب دیتا ہوں پہلے مجھے شراب تو دے

Rahat Indori

190 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

More from Swapnil Tiwari

یوں ہے وہ ہے وہ دل کا خیال رکھتا ہوں ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تیرا خیال رکھتا ہوں تیری مرضی کا بھی خیال نہیں تیرا اتنا خیال رکھتا ہوں اور مر جاتا ہے وہی بیمار جس کا اچھا خیال رکھتا ہوں تجھ کو پھروں بھی خراب ہونا ہے پھروں بھی تیرا خیال رکھتا ہوں

Swapnil Tiwari

3 likes

دھوپ کے بھیتر چھپ کر نکلی تاریکی سائے بھر نکلی رات گری تھی اک گڈھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام کا ہاتھ پکڑ کر نکلی رویا ا سے سے مل کر رویا چاہت بھی سے بدل کر نکلی پھول تو پھولوں سا ہونا تھا تتلی کیسی پتھر نکلی سوت ہیں گھر کے ہر کونے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مکڑی پوری بُن کر نکلی تازہ دم ہونے کو اداسی لے کر غم کا شاور نکلی جاں نکلی ا سے کے پہلو ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت ہی میرا مگہر نکلی ہجر کی شب سے گھبراتے تھے یار یہی شب بہتر نکلی جب بھی چور مری گھر آئی ایک ہنسی ہی زیور نکلی آتش کندن روح ملی ہے عمر کی آگ ہے وہ ہے وہ جل کر نکلی

Swapnil Tiwari

1 likes

تمہارے شہر ہے وہ ہے وہ مجھ ایسے جنگلی کے لیے درخت ہی نہیں دکھتے ہیں خود کشی کے لیے ہے وہ ہے وہ ہے وہ روز رات یہی سوچ کر تو سوتا ہوں کے کل سے سمے نکالوں گا زندگی کے لیے حقیقت لمحہ آ ہی گیا تو انتظار کا لمحہ گھڑی بھی بند ہے پہلے سے ا سے گھڑی کے

Swapnil Tiwari

2 likes

نیند سے آ کر بیٹھا ہے خواب مری گھر بیٹھا ہے عک سے میرا آئینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لے کر پتھر بیٹھا ہے پلکیں جھکی ہیں صحرا کی ج سے پہ سمندر بیٹھا ہے ایک بگولا یادوں کا کھا کر چکر بیٹھا ہے ا سے کی نیندوں پر اک خواب تتلی بن کر بیٹھا ہے رات کی ٹیبل بک کر کے چاند ڈنر پر بیٹھا ہے اندھیارا خموشی کی اوڑھ کے چادر بیٹھا ہے آتش دھوپ گئی کب کی گھر ہے وہ ہے وہ کیونکر بیٹھا ہے

Swapnil Tiwari

2 likes

حقیقت لوٹ آئی ہے آف سے سے ہجر ختم ہوا ہمارے گال پہ اک ک سے سے ہجر ختم ہوا پھروں ایک آگ لگی ج سے ہے وہ ہے وہ وصل کی تھی چمک خیال یار کی ماچ سے سے ہجر ختم ہوا تھا بزم دنیا ہے وہ ہے وہ مشکل ہمارا ملنا سو نکل کے آ گئے مجل سے سے ہجر ختم ہوا بھلی شراب ہے یہ وصل نام ہے ا سے کا ب سے ایک جام پیا ج سے سے ہجر ختم ہوا تمہارے ہجر ہے وہ ہے وہ سو وصل سے گزر کر بھی یہ سوچتا ہوں ک ہاں ک سے سے ہجر ختم ہوا

Swapnil Tiwari

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Swapnil Tiwari.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Swapnil Tiwari's ghazal.