thodi der ko ji bahla tha phir tiri yaad ne gher liya tha yaad aai vo pahli barish jab tujhe ek nazar dekha tha hare gilas men chand ke tukde laal surahi men sona tha chand ke dil men jalta suraj phuul ke siine men kanta tha kaghhaz ke dil men chingari khas ki zaban par angara tha dil ki surat ka ik patta teri hatheli par rakkha tha shaam to jaise khvab men guzri aadhi raat nasha tuuta tha shahr se duur hare jangal men barish ne hamen gher liya tha subh hui to sab se pahle main ne tera munh dekha tha der ke baa'd mire angan men surkh anaar ka phuul khila tha der ke murjhae pedon ko khushbu ne abad kiya tha shaam ki gahri unchai se ham ne dariya ko dekha tha yaad aaiin kuchh aisi baten main jinhen kab ka bhuul chuka tha thodi der ko ji bahla tha phir teri yaad ne gher liya tha yaad aai wo pahli barish jab tujhe ek nazar dekha tha hare gilas mein chand ke tukde lal surahi mein sona tha chand ke dil mein jalta suraj phul ke sine mein kanta tha kaghaz ke dil mein chingari khas ki zaban par angara tha dil ki surat ka ek patta teri hatheli par rakkha tha sham to jaise khwab mein guzri aadhi raat nasha tuta tha shahr se dur hare jangal mein barish ne hamein gher liya tha subh hui to sab se pahle main ne tera munh dekha tha der ke ba'd mere aangan mein surkh anar ka phul khila tha der ke murjhae pedon ko khushbu ne aabaad kiya tha sham ki gahri unchai se hum ne dariya ko dekha tha yaad aain kuchh aisi baaten main jinhen kab ka bhul chuka tha
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
More from Nasir Kazmi
शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ
Nasir Kazmi
1 likes
ہے وہ ہے وہ نے جب لکھنا سیکھا تھا پہلے تیرا نام لکھا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل پامال سمیم ہوں ج سے نے بار امانت سر پہ لیا تھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت اسم عظیم ہوں ج سے کو جن و ملک نے سجدہ کیا تھا تو نے کیوں میرا ہاتھ لگ پکڑا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جب رستے سے بھٹکا تھا جو پایا ہے حقیقت تیرا ہے جو کھویا حقیقت بھی تیرا تھا تجھ بن ساری عمر گزاری لوگ کہی گے تو میرا تھا پہلی بارش بھیجنے والے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری درشن کا پیاسا تھا
Nasir Kazmi
9 likes
جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے
Nasir Kazmi
2 likes
دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے
Nasir Kazmi
11 likes
گلی گلی مری یاد بچھی ہے پیارے رستہ دیکھ کے چل مجھ سے اتنی وحشت ہے تو میری حدوں سے دور نکل ایک سمے ترا پھول سا چھوؤں گا ہاتھ تھا میرے شانے پر ایک یہ وقت کہ ہے وہ ہے وہ تنہا اور دکھ کے کانٹوں کا جنگل یاد ہے اب تک تجھ سے چیزیں کی حقیقت اندھیری شام مجھے تو خاموش کھڑا تھا لیکن باتیں کرتا تھا کاجل ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو ایک نئی دنیا کی دھن ہے وہ ہے وہ اطراف پھرتا ہوں میری تجھ سے کیسے سنانی ایک ہیں تیرے فکر و عمل میرا منہ کیا دیکھ رہا ہے دیکھ ای سے کالی رات کو دیکھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ وہی تیرا ہمراہی ہوں ساتھ مری چلنا ہوں تو چل
Nasir Kazmi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Nasir Kazmi.
Similar Moods
More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.







