ghazalKuch Alfaaz

tum gul the ham nikhar abhi kal ki baat hai ham se thi sab bahar abhi kal ki baat hai begana samjho ghhair kaho ajnabi kaho apnon men tha shumar abhi kal ki baat hai aaj apne paas se hamen rakhte ho duur duur ham bin na tha qarar abhi kal ki baat hai itra rahe ho aaj pahan kar nai qaba daman tha taar taar abhi kal ki baat hai aaj is qadar ghhurur ye andaz ye mizaj phirte the 'mir' khvar abhi kal ki baat hai anjan ban ke puchhte ho hai ye kab ki baat kal ki hai baat yaar abhi kal ki baat hai tum gul the hum nikhaar abhi kal ki baat hai hum se thi sab bahaar abhi kal ki baat hai begana samjho ghair kaho ajnabi kaho apnon mein tha shumar abhi kal ki baat hai aaj apne pas se hamein rakhte ho dur dur hum bin na tha qarar abhi kal ki baat hai itra rahe ho aaj pahan kar nai qaba daman tha tar tar abhi kal ki baat hai aaj is qadar ghurur ye andaz ye mizaj phirte the 'mir' khwar abhi kal ki baat hai anjaan ban ke puchhte ho hai ye kab ki baat kal ki hai baat yar abhi kal ki baat hai

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

یہی اپنی کہانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے حقیقت لڑکی جاں ہماری تھی میاں پہلے بے حد پہلے وہم مجھ کو یہ بھاتا ہے,अभी مری دیوانی ہے م گر مری دیوانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے رقیب آ کر بتاتے ہیں ی ہاں تل ہے و ہاں تل ہے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ جانکاری تھی میاں پہلے بے حد پہلے ادب سے مانگ کر مافی بھری محفل یہ کہتا ہوں حقیقت لڑکی خاندانی تھی میاں پہلے بے حد پہلے

Anand Raj Singh

526 likes

اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے

Tehzeeb Hafi

465 likes

چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف

Varun Anand

406 likes

More from Kaleem Aajiz

ہے وہ ہے وہ روؤں ہوں رونا مجھے بھائے ہے کسی کا بھلا ا سے ہے وہ ہے وہ کیا جائے ہے دل آئی ہے پھروں دل ہے وہ ہے وہ درد آئی ہے یوں ہی بات ہے وہ ہے وہ بات بڑھ جائے ہے کوئی دیر سے ہاتھ پھیلائے ہے حقیقت نامہرباں آئی ہے جائے ہے محبت ہے وہ ہے وہ دل جائے گر جائے ہے جو شاعر فطرت نہیں ہے حقیقت کیا پائے ہے جنوں سب اشارے ہے وہ ہے وہ کہ جائے ہے م گر عقل کو کب سمجھ آئی ہے پکاروں ہوں لیکن لگ باز آئی ہے یہ دنیا ک ہاں ڈوبنے جائے ہے خموشی ہے وہ ہے وہ ہر بات بن جائے ہے جو بولے ہے دیوا لگ کہلائے ہے خوشگوار ج ہاں آوےگی عشق دل آوےگی عشق دل ی ہاں صبح آئی ہے شام آئی ہے جنوں ختم دار و رسن پر نہیں یہ رستہ بے حد دور تک جائے ہے

Kaleem Aajiz

0 likes

منا فقیروں سے لگ پھیرا چاہیے یہ تو پوچھا چاہیے کیا چاہیے چاہ کا گاہے اونچا چاہیے جو لگ چاہیں ان کو چاہا چاہیے کون چاہے ہے کسی کو بے غرض چاہنے والوں سے بھاگا چاہیے ہم تو کچھ چاہے ہیں جاناں چاہو ہوں کچھ سمے کیا چاہے ہے دیکھا چاہیے چاہتے ہیں تری ہی دامن کی خیر ہم ہیں دیوانے ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا چاہیے بے رکھ بھی ناز بھی انداز بھی چاہیے لیکن لگ اتنا چاہیے ہم جو کہنا چاہتے ہیں کیا کہی آپ کہ لیجے جو کہنا چاہیے بات چاہے بے سلیقہ ہوں کلیم بات کہنے کا سلیقہ چاہیے

Kaleem Aajiz

1 likes

ہر چوٹ پہ پوچھے ہے بتا یاد رہےگی ہم کو یہ زمانے کی ادا یاد رہےگی دن رات کے آنسو سحر و شام کی آہیں ا سے باغ کی یہ آب و ہوا یاد رہےگی ک سے دھوم سے بڑھتی ہوئی پہنچی ہے ک ہاں تک دنیا کو تری زلف رسا یاد رہےگی کرتے رہیں گے جاناں سے محبت بھی وفا بھی گو جاناں کو محبت لگ وفا یاد رہےگی ک سے بات کا تو قول و قسم لے ہے برہمن ہر بات بتوں کی بخدا یاد رہےگی چلتے گئے ہم پھول بناتے گئے چھالے صحرا کو مری لغزش پا یاد رہےگی ج سے بزم ہے وہ ہے وہ جاناں جاؤگے ا سے بزم کو عاجز یہ گفتگو بے سر و پا یاد رہےگی

Kaleem Aajiz

0 likes

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک لگ پہنچے مجھے ڈر یہ ہے برائی تری نام تک لگ پہنچے مری پا سے کیا حقیقت آتے میرا درد کیا مٹاتے میرا حال دیکھنے کو لب بام تک لگ پہنچے ہوں کسی کا مجھ پہ احسانے نہیں پسند مجھ کو تیری صبح کی تجلی مری شام تک لگ پہنچے تیری بے رخی پہ ظالم میرا جی یہ چاہتا ہے کہ وفا کا مری لب پر کبھی نام تک لگ پہنچے ہے وہ ہے وہ ہے وہ فغان بے اثر کا کبھی مترف نہیں ہوں حقیقت صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک لگ پہنچے حقیقت صنم بگڑ کے مجھ سے میرا کیا بگاڑ لےگا کبھی راز کھول دو ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو سلام بخیر تک لگ پہنچے مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں جو نکل کے آشیاںسے کبھی دام تک لگ پہنچے ا نہیں مہربانسمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے حقیقت کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک لگ پہنچے ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن جو غریب تشنہ لبی لب تھے وہی جام تک لگ پہنچے جسے ہے وہ ہے وہ نے جگمگایا اسی صورت آشنا ہے وہ ہے وہ ساقی میرا ذکر تک لگ آئی میرا نام تک لگ پہنچے تمہیں یاد ہی لگ آؤںے ہے اور بات ور لگ<b

Kaleem Aajiz

1 likes

مری شاعری ہے وہ ہے وہ لگ رقص جام لگ مے کی رنگ فشانیوں وہی دکھ بھروں کی حکایتیں وہی دل جلوں کی اندھیرا یہ جو آہ و نالہ و درد ہیں کسی بےوفا کی نشانیاں یہی مری دن کے رفیق ہیں یہی مری رات کی رانیاں یہ مری زبان پہ غزل نہیں ہے وہ ہے وہ سنا رہا ہوں اندھیرا کہ کسی کے عہد شباب پر مٹیں کیسی کیسی جوانیاں کبھی آنسوؤں کو سوکھا گئیں مری سوز دل کی حرارتیں کبھی دل کی ناو ڈبو گئیں مری آنسوؤں کی روانیاں ابھی ا سے کو ا سے کی خبر ک ہاں کہ قدم ک ہاں ہے نظر ک ہاں ابھی مصلحت کا گزر ک ہاں کہ نئی نئی ہیں جوانیاں یہ بیان حال یہ گفتگو ہے میرا نچوڑا ہوا لہو ابھی سن لو مجھ سے کہ پھروں کبھو لگ سنو گے ایسی اندھیرا

Kaleem Aajiz

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Kaleem Aajiz.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Kaleem Aajiz's ghazal.