ghazalKuch Alfaaz

tum koi is se tavaqqo na lagana mare dost ye zamana hai zamana hai zamana mire dost samne to ho tasavvur men kahani koi ik haqiqat se bada ek fasana mire dost mere bete main tumhen dost samajhne laga huun tum bade ho ke mujhe duniya dikhana mire dost dekh sakta bhi nahin mujh ko zarurat bhi nahin meri tasvir magar us ko dikhana mire dost kahne vaale ne kaha dekh ke chehra mera ghham-e-khazana hai ise sab se chhupana mire dost teri mahfil ke liye bais-e-barkat hoga na-muradan-e-mohabbat ko bulana mire dost tum ko maalum to hai mujh pe jo guzri 'taimur' puchh kar mujh se zaruri hai rulana mire dost tum koi is se tawaqqo na lagana mare dost ye zamana hai zamana hai zamana mere dost samne to ho tasawwur mein kahani koi ek haqiqat se bada ek fasana mere dost mere bete main tumhein dost samajhne laga hun tum bade ho ke mujhe duniya dikhana mere dost dekh sakta bhi nahin mujh ko zarurat bhi nahin meri taswir magar us ko dikhana mere dost kahne wale ne kaha dekh ke chehra mera gham-e-khazana hai ise sab se chhupana mere dost teri mahfil ke liye bais-e-barkat hoga na-muradan-e-mohabbat ko bulana mere dost tum ko malum to hai mujh pe jo guzri 'taimur' puchh kar mujh se zaruri hai rulana mere dost

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

کیوں ڈریں زندگی ہے وہ ہے وہ کیا ہوگا کچھ لگ ہوگا تو غضب ہوگا ہنستی آنکھوں ہے وہ ہے وہ جھانک کر دیکھو کوئی آنسو کہی چھپا ہوگا ان دنوں نا امید سا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید ا سے نے بھی یہ سنا ہوگا دیکھ کر جاناں کو سوچتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا کسی نے تمہیں چھوا ہوگا

Javed Akhtar

371 likes

جاناں حقیقت نہیں ہوں حسرت ہوں جو ملے خواب ہے وہ ہے وہ حقیقت دولت ہوں جاناں ہوں خوشبو کے خواب کی خوشبو اور اتنے ہی بے مروت ہوں ک سے طرح چھوڑ دوں تمہیں جاناں جاناں مری زندگی کی عادت ہوں ک سے لیے دیکھتے ہوں آئی لگ جاناں تو خود سے بھی خوبصورت ہوں داستان ختم ہونے والی ہے جاناں مری آخری محبت ہوں

Jaun Elia

315 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ورنا قدرت کا لکھا ہوا کاٹتا تری حصے ہے وہ ہے وہ آئی برے دن کوئی دوسرا کاٹتا لاریوں سے زیادہ بہاؤ تھا تری ہر اک لفظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ اشارہ نہیں کاٹ سکتا تیری بات کیا کاٹتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بھی زندگی اور شب اے ہجر کاٹی ہے سب کی طرح ویسے بہتر تو یہ تھا کے ہے وہ ہے وہ کم سے کم کچھ نیا کاٹتا تری ہوتے ہوئے موم بتی بجھائی کسی اور نے کیا خوشی رہ گئی تھی جنم دن کی ہے وہ ہے وہ کیک کیا کاٹتا کوئی بھی تو نہیں جو مری بھوکے رہنے پہ ناراض ہوں جیل ہے وہ ہے وہ تیری تصویر ہوتی تو ہنسکر سزا کاٹتا

Tehzeeb Hafi

456 likes

More from Taimur Hasan

وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا نہ جانے کتنی غلط فہمیاں جنم لیتی میں اصل بات سے سخت جاں اگر کرتا میں سوچتا ہوں کہاں بات اس قدر بڑھتی اگر میں تیرے رویے سے در گزر کرتا میرا عدو تو تھا علم الکلام کا ماہر مری خلاف زمانے کو بول کر کرتا اکیلے جنگ لڑی جیت لی تو سب نے کہا پہنچتے ہم بھی اگر تو ہمیں خبر کرتا مری بھی چھاؤں نہ ہوتی اگر تمہاری طرح میں انہسار بزرگوں کے سائے پر کرتا سفر میں ہوتی ہے پہچان کون کیسا ہے یہ آرزو تھی مری ساتھ تو سفر کرتا گئے دنوں میں یہ معمول تھا میرا تیمور زیادہ وقت میں اک خواب میں بسر کرتا

Taimur Hasan

0 likes

नहीं उड़ाऊँगा ख़ाक रोया नहीं करूँँगा करूँँगा मैं इश्क़ पर तमाशा नहीं करूँँगा मिरी मोहब्बत भी ख़ास है क्यूँँकि ख़ास हूँ मैं सो आम लोगों में ज़िक्र इस का नहीं करूँँगा उसे बताओ फ़रार का नाम तो नहीं इश्क़ जो कह रहा है मैं कार-ए-दुनिया नहीं करूँँगा कभी न सोचा था गुफ़्तुगू भी करूँँगा घंटों और अपनी बातों में ज़िक्र तेरा नहीं करूँँगा इरादतन जो किया है अब तक ग़लत किया है सो अब कोई काम बिल-इरादा नहीं करूँँगा तुझे मैं अपना नहीं समझता इसी लिए तो ज़माने तुझ से मैं कोई शिकवा नहीं करूँँगा मिरी तवज्जोह फ़क़त मिरे काम पर रहेगी मैं ख़ुद को साबित करूँँगा दावा नहीं करूँँगा अगर मैं हारा तो मान लूँगा शिकस्त अपनी तिरी तरह से कोई बहाना नहीं करूँँगा अगर किसी मस्लहत में पीछे हटा हूँ 'तैमूर' तो मत समझना कि अब मैं हमला नहीं करूँँगा

Taimur Hasan

0 likes

وفا کا ذکر چھڑا تھا کہ رات بیت گئی ابھی تو رنگ جمع تھا کہ رات بیت گئی مری طرف چلی آتی ہے نیند خواب لیے ابھی یہ مجدہ نوید سنا تھا کہ رات بیت گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات آب و زیست کا قصہ سنہانے بیٹھ گیا تو ابھی شروع کیا تھا کہ رات بیت گئی ی ہاں تو چاروں طرف اب تلک اندھیرا ہے کسی نے مجھ سے کہا تھا کہ رات بیت گئی یہ کیا طلسم یہ پل بھر ہے وہ ہے وہ رات آ بھی گئی ابھی تو ہے وہ ہے وہ نے سنا تھا کہ رات بیت گئی شب آج کی حقیقت مری نام کرنے والا ہے یہ انکشاف ہوا تھا کہ رات بیت گئی نوید صبح جو سب کو سناتا پھرتا تھا حقیقت مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ رات بیت گئی اٹھے تھے ہاتھ دعا کے لیے کہ رات کٹے دعا ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا تھا کہ رات بیت گئی خوشی ضرور تھی تیمور دن نکلنے کی م گر یہ غم بھی سوا تھا کہ رات بیت گئی

Taimur Hasan

0 likes

اندھیرا نہیں ہوں ریت کا ذرہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں دریا تری وجود کا حصہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اے قہقہے بکھیرنے والے تو خوش بھی ہے ہنسنے کی بات چھوڑ کہ ہنستا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں مجھ ہے وہ ہے وہ اور ا سے ہے وہ ہے وہ صرف مقدر کا فرق ہے ور لگ حقیقت بے وجہ جتنا ہے اتنا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں ا سے کی تو سوچ دنیا ہے وہ ہے وہ ج سے کا کوئی نہیں تو ک سے لیے ادا سے ہے تیرا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک ایک کر کے ڈوبتے تارے بجھا گئے مجھ کو بھی ڈوبنا ہے ستارہ تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں اک آئینے ہے وہ ہے وہ دیکھ کے آیا ہے یہ خیال ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیوں لگ ا سے سے کہ دوں کہ تجھ سا تو ہے وہ ہے وہ بھی ہوں

Taimur Hasan

0 likes

حقیقت جو ممکن نہ ہوں ممکن یہ بنا دیتا ہے خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے زندگی بھر کی ریاضت مری بے کار گئی اک خیال آیا تھا بدلے ہے وہ ہے وہ حقیقت کیا دیتا ہے اب مجھے لگتا ہے دشمن میرا اپنا چہرہ مجھ سے پہلے یہ میرا حال بتا دیتا ہے چند جملے حقیقت ادا کرتا ہے ایسے ڈھب سے میرے افکار کی بنیاد ہلا دیتا ہے یہ بھی اعجاز محبت ہے کہ رونے والا روتے روتے تجھے ہنسنے کی دعا دیتا ہے زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے بیٹھے بیٹھے اسے کیا ہوتا ہے جانے تیمور جلتا سگریٹ حقیقت ہتھیلی پہ بجھا دیتا ہے یہ جہاں ای سے لیے اچھا نہیں لگتا تیمور جب بھی دیتا ہے مجھے تیرا گلہ دیتا ہے

Taimur Hasan

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Taimur Hasan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Taimur Hasan's ghazal.