ghazalKuch Alfaaz

اس شام وہ رخصت کا سماں یاد رہے گا وہ شہر وہ کوچہ وہ مکاں یاد رہے گا وہ ٹیس کہ ابھری تھی ادھر یاد رہے گی وہ درد کہ اٹھا تھا یہاں یاد رہے گا ہم شوق کے شعلے کی لپک بھول بھی جائیں وہ شمع فسردہ کا دھواں یاد رہے گا ہاں بزم شبانہ میں ہمہ شوق جو اس دن ہم تھے تری جانب نگراں یاد رہے گا کچھ میرؔ کے ابیات تھے کچھ فیضؔ کے مصرعے اک درد کا تھا جن میں بیاں یاد رہے گا آنکھوں میں سلگتی ہوئی وحشت کے جلو میں وہ حیرت و حسرت کا جہاں یاد رہے گا جاں بخش سی اس برگ گل تر کی تراوت وہ لمس عزیز دو جہاں یاد رہے گا ہم بھول سکے ہیں نہ تجھے بھول سکیں گے تو یاد رہے گا ہمیں ہاں یاد رہے گا

Related Ghazal

تمہیں ب سے یہ بتانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے کیا چھپانا چاہتا ہوں کبھی مجھ سے بھی کوئی جھوٹ بولو ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہاں ہے وہ ہے وہ ہاں ملانا چاہتا ہوں یہ جو کھڑکی ہے نقشے ہے وہ ہے وہ تمہارے ی ہاں ہے وہ ہے وہ در بنانا چاہتا ہوں اداکاری بے حد دکھ دے رہی ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ سچ مچ مسکرانا چاہتا ہوں پروں ہے وہ ہے وہ تیر ہے پنجوں ہے وہ ہے وہ تنکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ چڑیا اڑانا چاہتا ہوں لیے بیٹھا ہوں گھنگرو پھول اندھیرا ترا ہنسنا بنانا چاہتا ہوں بیگا لگ غم عشق کی جاناں کو مبارک ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے خا لگ کمانا چاہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سارے شہر کی بیساخیوں کو تری در پر نرم گوئی چاہتا ہوں مجھے جاناں سے اندھیرا ہی پڑےگا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کو یاد آنا چاہتا ہوں

Fahmi Badayuni

249 likes

بیٹھے ہیں چین سے کہی جانا تو ہے نہیں ہم بے گھروں کا کوئی ہری تو ہے نہیں جاناں بھی ہوں بیتے سمے کے مانند ہوں بہو جاناں نے بھی یاد آنا ہے آنا تو ہے نہیں عہد وفا سے ک سے لیے خائف ہوں مری جان کر لو کہ جاناں نے عہد نبھانا تو ہے نہیں حقیقت جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ عزیز ہے کیسا ہے کون ہے کیوں پوچھتے ہوں ہم نے بتانا تو ہے نہیں دنیا ہم اہل عشق پہ کیوں پھینکتی ہے جال ہم نے تری فریب ہے وہ ہے وہ آنا تو ہے نہیں حقیقت عشق تو کرےگا م گر دیکھ بھال کے فار سے حقیقت تری جیسا دیوا لگ تو ہے نہیں

Rehman Faris

196 likes

بات کرنی ہے بات کون کرے درد سے دو دو ہاتھ کون کرے ہم ستارے تم تمہیں بلاتے ہیں چاند لگ ہوں تو رات کون کرے اب تجھے رب کہی یا بت سمجھیں عشق ہے وہ ہے وہ ذات پات کون کرے زندگی بھر کی تھے کمائی جاناں ا سے سے زیادہ زکات کون کرے

Kumar Vishwas

56 likes

تھوڑا لکھا اور زیادہ چھوڑ دیا آنے والوں کے لیے رستہ چھوڑ دیا جاناں کیا جانو ا سے دریا پر کیا گزری جاناں نے تو ب سے پانی بھرنا چھوڑ دیا لڑکیاں عشق ہے وہ ہے وہ کتنی پاگل ہوتی ہیں فون بجا اور چولہا جلتا چھوڑ دیا روز اک پتہ مجھ ہے وہ ہے وہ آ گرتا ہے جب سے ہے وہ ہے وہ نے جنگل جانا چھوڑ دیا ب سے کانوں پر ہاتھ رکھے تھے تھوڑی دیر اور پھروں ا سے آواز نے پیچھا چھوڑ دیے

Tehzeeb Hafi

262 likes

ستم ڈھاتے ہوئے سوچا کروگے ہمارے ساتھ جاناں ایسا کروگے انگوٹھی تو مجھے لوٹا رہے ہوں انگوٹھی کے نشان کا کیا کروگے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں سے اب تمنائیں بھی نہیں ہوں تو کیا ا سے بات پر جھگڑا کروگے میرا دامن تمہیں تھامے ہوئے ہوں میرا دامن تمہیں میلا کروگے بتاؤ وعدہ کر کے آوگے نا کے پچھلی بار کے جیسا کروگے حقیقت دلہن بن کے رخصت ہوں گئی ہے ک ہاں تک کار کا پیچھا کروگے مجھے ب سے یوں ہی جاناں سے پوچھنا تھا ا گر ہے وہ ہے وہ مر گیا تو تو کیا کروگے

Zubair Ali Tabish

140 likes

More from Ibn۔e۔Insha

رات کے خواب سنائیں ک سے کو رات کے خواب سہانے تھے دھندلے دھندلے چہرے تھے پر سب جانے پہچانے تھے ض گرا وحشی الھڑ چنچل میٹھے لوگ رسیلے لوگ ہونٹ ان کے غزلوں کے مسری آنکھوں ہے وہ ہے وہ افسانے تھے وحشت کا عنوان ہماری ان ہے وہ ہے وہ سے جو نار بنی سر و ساماں تو لوگ کہی گے انشا جی دیوانے تھے یہ لڑکی تو ان گلیوں ہے وہ ہے وہ روز ہی گھوما کرتی تھی ا سے سے ان کو ملنا تھا تو ا سے کے لاکھ بہانے تھے ہم کو ساری رات جگایا جلتے بجھتے تاروں نے ہم کیوں ان کے در پر اترے کتنے اور ٹھکانے تھے

Ibn E Insha

2 likes

हम उन से अगर मिल बैठे हैं क्या दोश हमारा होता है कुछ अपनी जसारत होती है कुछ उन का इशारा होता है कटने लगीं रातें आँखों में देखा नहीं पलकों पर अक्सर या शाम-ए-ग़रीबाँ का जुगनू या सुब्ह का तारा होता है हम दिल को लिए हर देस फिरे इस जिंस के गाहक मिल न सके ऐ बंजारो हम लोग चले हम को तो ख़सारा होता है दफ़्तर से उठे कैफ़े में गए कुछ शे'र कहे कुछ कॉफ़ी पी पूछो जो मआश का 'इंशा'-जी यूँँ अपना गुज़ारा होता है

Ibn E Insha

0 likes

سنتے ہیں پھروں چھپ چھپ ان کے گھر ہے وہ ہے وہ آتے جاتے ہوں انشا صاحب ناحق جی کو وحشت ہے وہ ہے وہ الجھاتے ہوں دل کی بات چھپانی مشکل لیکن خوب چھپاتے ہوں بن ہے وہ ہے وہ دا لگ شہر کے اندر دیوانے کہلاتے ہوں بیکل بیکل رہتے ہوں پر محفل کے صاحب کردار کے ساتھ آنکھ چرا کر دیکھ بھی لیتے بھولے بھی بن جاتے ہوں پیت ہے وہ ہے وہ ایسے لاکھ جتن ہیں لیکن اک دن سب ناکام آپ ج ہاں ہے وہ ہے وہ رسوا ہوگے واز ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ فرماتے ہوں ہم سے نام جنوں کا قائم ہم سے دشت کی آبا گرا ہم سے درد کا شکوہ کرتے ہم کو زخم دکھاتے ہوں

Ibn E Insha

0 likes

और तो कोई बस न चलेगा हिज्र के दर्द के मारों का सुब्ह का होना दूभर कर दें रस्ता रोक सितारों का झूटे सिक्कों में भी उठा देते हैं ये अक्सर सच्चा माल शक्लें देख के सौदे करना काम है इन बंजारों का अपनी ज़बाँ से कुछ न कहेंगे चुप ही रहेंगे आशिक़ लोग तुम से तो इतना हो सकता है पूछो हाल बेचारों का जिस जिप्सी का ज़िक्र है तुम से दिल को उसी की खोज रही यूँँ तो हमारे शहर में अक्सर मेला लगा निगारों का एक ज़रा सी बात थी जिस का चर्चा पहुँचा गली गली हम गुमनामों ने फिर भी एहसान न माना यारों का दर्द का कहना चीख़ ही उठो दिल का कहना वज़्अ'' निभाओ सब कुछ सहना चुप चुप रहना काम है इज़्ज़त-दारों का 'इंशा' जी अब अजनबियों में चैन से बाक़ी उम्र कटे जिन की ख़ातिर बस्ती छोड़ी नाम न लो उन प्यारों का

Ibn E Insha

0 likes

کچھ کہنے کا سمے نہیں یہ کچھ لگ کہو خاموش رہو اے لوگوں خاموش رہو ہاں اے لوگوں خاموش رہو سچ اچھا پر ا سے کے جلؤ ہے وہ ہے وہ زہر کا ہے اک پیالا بھی پاگل ہوں کیوں ناحق کو سقراط بنو خاموش رہو ان کا یہ کہنا سورج ہی دھرتی کے پھیرے کرتا ہے سر آنکھوں پر سورج ہی کو گھومنے دو خاموش رہو محب سے ہے وہ ہے وہ کچھ حب سے ہے اور زنجیر کا آہن چبھتا ہے پھروں سوچو ہاں پھروں سوچو ہاں پھروں سوچو خاموش رہو گرم آنسو اور ٹھنڈی آہیں من ہے وہ ہے وہ کیا کیا موسم ہیں ا سے بگیا کے بھیڈ لگ کھولو سیر کروں خاموش رہو آنکھیں موند کنارے بیٹھو من کے رکھو بند کواڑ انشا جی لو دھاگا لو اور لب سی لو خاموش رہو

Ibn E Insha

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn۔e۔Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn۔e۔Insha's ghazal.