وہی پھروں مجھے یاد آنے لگے ہیں جنہیں بھولنے ہے وہ ہے وہ زمانے لگے ہیں حقیقت ہیں پا سے اور یاد آنے لگے ہیں محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں سنا ہے ہمیں حقیقت بھلانے لگے ہیں تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی حقیقت پتھر مری گھر ہے وہ ہے وہ آنے لگے ہیں یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو یہ کہنے ہے وہ ہے وہ مجھ کو زمانے لگے ہیں ہوائیں چلیں اور نہ ہے ہی اٹھیں اب ایسے بھی طوفان آنے لگے ہیں خوشگوار یقیناً قریب آ گئی ہے خمار اب تو مسجد ہے وہ ہے وہ جانے لگے ہیں
Related Ghazal
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
خاموش لب ہیں جھکی ہیں پلکیں دلوں ہے وہ ہے وہ الفت نئی نئی ہے ابھی تکلف ہے گفتگو ہے وہ ہے وہ ابھی محبت نئی نئی ہے ابھی لگ آئیںگی نیند جاناں کو ابھی لگ ہم کو سکون ملےگا ابھی تو دھڑکے گا دل زیادہ ابھی محبت نئی نئی ہے بہار کا آج پہلا دن ہے چلو چمن ہے وہ ہے وہ ٹہل کے آئیں فضا ہے وہ ہے وہ خوشبو نئی نئی ہے گلوں ہے وہ ہے وہ رنگت نئی نئی ہے جو خاندانی رئی سے ہیں حقیقت مزاج رکھتے ہیں نرم اپنا تمہارا لہجہ بتا رہا ہے تمہاری دولت نئی نئی ہے ذرا سا قدرت نے کیا نوازا کے آکے بیٹھے ہوں پہلی صف ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی کیوں اڑنے لگے ہوا ہے وہ ہے وہ ابھی تو شہرت نئی نئی ہے بموں کی برسات ہوں رہی ہے پرانی جانباز سو رہے ہیں غلام دنیا کو کر رہا ہے حقیقت ج سے کی طاقت نئی نئی ہے
Shabeena Adeeb
232 likes
یہ ہے وہ ہے وہ نے کب کہا کہ مری حق ہے وہ ہے وہ فیصلہ کرے ا گر حقیقت مجھ سے خوش نہیں ہے تو مجھے جدا کرے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے ساتھ ج سے طرح گزارتا ہوں زندگی اسے تو چاہیے کہ میرا شکریہ ادا کرے مری دعا ہے اور اک طرح سے بد دعا بھی ہے خدا تمہیں تمہارے جیسی بیٹیاں عطا کرے بنا چکا ہوں ہے وہ ہے وہ محبتوں کے درد کی دوا ا گر کسی کو چاہیے تو مجھ سے رابطہ کرے
Tehzeeb Hafi
292 likes
اصولوں پر ج ہاں آنچ آئی ٹکرانا ضروری ہے جو زندہ ہوں تو پھروں زندہ نظر آنا ضروری ہے نئی عمروں کی خودمختاریوں کو کون سمجھائے ک ہاں سے بچ کے چلنا ہے ک ہاں جانا ضروری ہے تھکے ہارے پرندے جب بسیرے کے لیے لوٹیں سلیقہ مند شاخوں کا لچک جانا ضروری ہے بے حد بےباک آنکھوں ہے وہ ہے وہ تعلق ٹک نہیں پاتا محبت ہے وہ ہے وہ کشش رکھنے کو شرمانا ضروری ہے سلیقہ ہی نہیں شاید اسے محسو سے کرنے کا جو کہتا ہے خدا ہے تو نظر آنا ضروری ہے مری ہونٹوں پہ اپنی پیا سے رکھ دو اور پھروں سوچو کہ ا سے کے بعد بھی دنیا ہے وہ ہے وہ کچھ پانا ضروری ہے
Waseem Barelvi
107 likes
More from Khumar Barabankvi
حسن جب مہرباں ہوں تو کیا کیجیے عشق کے مغفرت کی دعا کیجیے ا سے سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے جب گلہ کیجیے ہن سے دیا کیجیے دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے آپ سکھ سے ہیں ترک تعلق کے بعد اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے زندگی کٹ رہی ہے بڑے چین سے اور غم ہوں تو حقیقت بھی عطا کیجیے کوئی دھوکہ نہ کھا جائے میری طرح ایسے کھل کے نہ سب سے ملا کیجیے عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار عقل کی سنیے دل کا کہا کیجیے
Khumar Barabankvi
1 likes
کیا ہوا حسن ہے ہم سفر یا نہیں عشق منزل ہی منزل ہے رستہ نہیں دو پرندے اڑے آنکھ نمہ ہوں گئی آج سمجھا کہ ہے وہ ہے وہ تجھ کو بھولا نہیں ترک مے کو ابھی دن ہی کتنے ہوئے کچھ کہا مے کو زاہد تو اچھا لگ ہر نظر مری بن جاتی زنجیر پا ا سے نے جاتے ہوئے مڑ کے دیکھا نہیں چھوڑ بھی دے میرا ساتھ اے زندگی مجھ کو تجھ سے ندامت ہے شکوہ نہیں تو نے توبہ تو کر لی م گر اے خمار تجھ کو رحمت پہ شاید بھروسا نہیں
Khumar Barabankvi
6 likes
تو چاہیے لگ تیری وفا چاہیے مجھے کچھ بھی لگ تری غم کے سوا چاہیے مجھے مرنے سے پہلے شکل ہی اک بار دیکھ لوں اے موت زندگی کا پتا چاہیے مجھے یا رب معاف کر کے لگ دے کرب انفعل ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے خطائیں کی ہیں سزا چاہیے مجھے خموشی حیات سے اکتا گیا تو ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب چاہے دل ہی ٹوٹے صدا چاہیے مجھے ان مست مست آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو انتقامن غضب یہ عشق ہے تو قہر خدا چاہیے مجھے ناصح نصیحتوں کا زما لگ گزر گیا تو اب پیاری صرف تیری دعا چاہیے مجھے ہر درد کو دوا کی ضرورت ہے اے خمار جو درد خود ہوں اپنی دوا چاہیے مجھے
Khumar Barabankvi
2 likes
وہ سوا یاد آئے بھلانے کے بعد زندگی بڑھ گئی زہر خانے کے بعد دل سلگتا رہا آشیانے کے بعد آگ ٹھنڈی ہوئی اک زمانے کے بعد روشنی کے لیے دل جلانا پڑا ایسی میسج جھکائیں تیرے جانے کے بعد جب نہ کچھ بن پڑا عرض غم کا جواب وہ خفا ہو گئے مسکرانے کے بعد دشمنوں سے پشیمان ہونا پڑا دوستوں کا خلوص آزمانے کے بعد رنج حد سے گزر کے خوشی بن گیا ہو گئے پار ہم ڈوب جانے کے بعد بخش دے یا رب اہل ہوس کو مکیں مجھ کو کیا چاہیے تجھ کو پانے کے بعد کیسے کیسے گلے یاد آئے خمار ان کے آنے سے قبل ان کے جانے کے بعد
Khumar Barabankvi
2 likes
हम उन्हें वो हमें भुला बैठे दो गुनहगार ज़हर खा बैठे हाल-ए-ग़म कह के ग़म बढ़ा बैठे तीर मारे थे तीर खा बैठे आँधियो जाओ अब करो आराम हम ख़ुद अपना दिया बुझा बैठे जी तो हल्का हुआ मगर यारो रो के हम लुत्फ़-ए-ग़म गँवा बैठे बे-सहारों का हौसला ही क्या घर में घबराए दर पे आ बैठे जब से बिछड़े वो मुस्कुराए न हम सब ने छेड़ा तो लब हिला बैठे हम रहे मुब्तला-ए-दैर-ओ-हरम वो दबे पाँव दिल में आ बैठे उठ के इक बे-वफ़ा ने दे दी जान रह गए सारे बा-वफ़ा बैठे हश्र का दिन अभी है दूर 'ख़ुमार' आप क्यूँँ ज़ाहिदों में जा बैठे
Khumar Barabankvi
8 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Khumar Barabankvi.
Similar Moods
More moods that pair well with Khumar Barabankvi's ghazal.







