سمے مشکل کٹ رہا ہے اور تو سب ٹھیک ہے دل ذرا ناشاد سا ہے اور تو سب ٹھیک ہے آنکھ کے بادل برستے جا رہے ہیں رات دن گاؤں ہے وہ ہے وہ سوکھا پڑا ہے اور تو سب ٹھیک ہے حقیقت جو دو پودھے لگا کر جاناں گئے تھے شہر کو ان ہے وہ ہے وہ اک مرجھا گیا تو ہے اور تو سب ٹھیک ہے زخم تھا تو درد سے بھی جی بہل جاتا تھا کچھ اب تو حقیقت بھی بھر گیا تو ہے اور تو سب ٹھیک ہے کوششیں کرتے ہیں شب بھر نیند پر آتی نہیں کام سے جی بھاگتا ہے اور تو سب ٹھیک ہے روح تو پہلے ہی تری ساتھ رخصت ہوں گئی جسم آدھا رہ گیا تو ہے اور تو سب ٹھیک ہے تری بن کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں یہ تو سمجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے یوں ہی کہ دیا ہے اور تو سب ٹھیک ہے
Related Ghazal
اسی جگہ پر ج ہاں کئی راستے ملیںگے پلٹ کے آئی تو سب سے پہلے تجھے ملیںگے ا گر کبھی تری نام پر جنگ ہوں گئی تو ہم ایسے بزدل بھی پہلی صف ہے وہ ہے وہ کھڑے ملیںگے تجھے یہ سڑکیں مری توسط سے جانتی ہیں تجھے ہمیشہ یہ سب اشارے کھلے ملیںگے
Tehzeeb Hafi
465 likes
چاند ستارے تم پھول پرندے شام سویرہ ایک طرف ساری دنیا ا سے کا چربہ ا سے کا چہرہ ایک طرف حقیقت لڑکر بھی سو جائے تو ا سے کا ماتھا چوموں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے سے محبت ایک طرف ہے ا سے سے جھگڑا ایک طرف ج سے اجازت پر حقیقت انگلی رکھ دے اس کا کو حقیقت دلوانی ہے ا سے کی خوشیاں سب سے اول سستا مہنگا ایک طرف زخموں پر مرہم لگواو لیکن ا سے کے ہاتھوں سے چارسازی ایک طرف ہے ا سے کا چھونا ایک طرف ساری دنیا جو بھی بولے سب کچھ شور شرابا ہے سب کا کہنا ایک طرف ہے ا سے کا کہنا ایک طرف ا سے نے ساری دنیا مانگی ہے وہ ہے وہ نے اس کا کو مانگا ہے ا سے کے سپنے ایک طرف ہے میرا سپنا ایک طرف
Varun Anand
406 likes
یہ غم کیا دل کی عادت ہے نہیں تو کسی سے کچھ شکایت ہے نہیں تو ہے حقیقت اک خواب بے تعبیر ا سے کو بھلا دینے کی نیت ہے نہیں تو کسی کے بن کسی کی یاد کے بن جیے جانے کی ہمت ہے نہیں تو کسی صورت بھی دل لگتا نہیں ہاں تو کچھ دن سے یہ حالت ہے نہیں تو تری ا سے حال پر ہے سب کو حیرت تجھے بھی ا سے پہ حیرت ہے نہیں تو ہم آہنگی نہیں دنیا سے تیری تجھے ا سے پر ندامت ہے نہیں تو ہوا جو کچھ یہی مقسوم تھا کیا یہی ساری مقسوم ہے نہیں تو اذیت ناک اذیت ناک سے تجھ کو اماں پانے کی حسرت ہے نہیں تو تو رہتا ہے خیال و خواب ہے وہ ہے وہ گم تو ا سے کی وجہ فرصت ہے نہیں تو سبب جو ا سے جدائی کا بنا ہے حقیقت مجھ سے خوبصورت ہے نہیں تو
Jaun Elia
355 likes
حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو
Naseer Turabi
244 likes
کیسے ا سے نے یہ سب کچھ مجھ سے چھپ کر بدلا چہرہ بدلا رستہ بدلا بعد ہے وہ ہے وہ گھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کے بارے ہے وہ ہے وہ یہ کہتا تھا لوگوں سے میرا نام بدل دینا حقیقت بے وجہ ا گر بدلا حقیقت بھی خوش تھا ا سے نے دل دے کر دل مانگا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی خوش ہوں ہے وہ ہے وہ نے پتھر سے پتھر بدلا ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے کہا کیا مری خاطر خود کو بدلوگے اور پھروں ا سے نے نظریں بدلیں اور نمبر بدلا
Tehzeeb Hafi
435 likes
More from Varun Anand
کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے
Varun Anand
21 likes
کہی لگ ایسا ہوں اپنا نظیر و کھا جائے اڑائے سے پھول بچائیں بہار کھا جائے ہمارے جیسا ک ہاں دل کسی کا ہوگا بھلا جو درد پالے رکھے اور قرار کھا جائے پلٹ کے سنگ تری اور پھینک سکتا ہوں کہ ہے وہ ہے وہ حقیقت قی سے نہیں ہاں جو مار کھا جائے اسی کا داخلہ ا سے دشت ہے وہ ہے وہ کروں اب سے جو دل پامال پی سکے اپنا غمدیدہ کھا جائے بے حد قرار ہے تھوڑی سی بے قراری دے کہی لگ ایسا ہوں مجھ کو قرار کھا جائے غضب سفی لگ ہے یہ سمے کا سفی لگ بھی جو اپنی گود ہے وہ ہے وہ بیٹھا سوار کھا جائے
Varun Anand
11 likes
وفا خلوص مدد دیکھ بھال بھول گئے اب ایسے لفظوں کا سب استعمال بھول گئے منانا روٹھنا ہجر و وصال بھول گئے سبھی محبتوں کا استعمال بھول گئے نظر کے سامنے حقیقت با غصہ کیا آیا ہم اپنے حصے کے سارے غصہ بھول گئے قف سے ہے وہ ہے وہ لگ گیا تو جی آخرش پرندوں کا ج ہاں سے آئی تھے حقیقت ڈال وال بھول گئے فتور پھروں سے چڑھا ہے نئی محبت کا جناب پچھلی محبت کا حال بھول گئے پھروں ا سے نے سوچ سمجھ کر اک ایسی چال چلی کہ ج سے کو دیکھ کے سب اپنی چال بھول گئے دیے جلانے تھے پر دل جلا دیے ہم نے ہم اپنے فن کا صحیح استعمال بھول گئے
Varun Anand
9 likes
ہماری آنکھ سے برسا ہے یہ کل رات کا پانی سمجھ بیٹھے ہوں ج سے کو آپ بھی برسات کا پانی ستاتی ہی نہیں اس کا کو کبھی پھروں پیا سے کی شدت کہ جو اک بار پی لیتا ہے ا سے کے ہاتھ کا پانی چلو اچھا ہوا آنسو بھی مری پی گئے یہ لوگ چلو کچھ کام تو آیا مری جذبات کا پانی تمہارے واسطے ب سے ناچنے گانے کا موقع ہے مصیبت ہے ہمارے واسطے برسات کا پانی یہ صحرا ہے ی ہاں دریا سمندر کی ہی باتیں ہیں ی ہاں زار نکلتا ہے سبھی کی بات کا پانی
Varun Anand
15 likes
یہ شوخیاں یہ جوانی ک ہاں سے لائیں ہم تمہارے حسن کا ثانی ک ہاں سے لائیں ہم محبتیں حقیقت پرانی ک ہاں سے لائیں ہم رکی ن گرا ہے وہ ہے وہ روانی ک ہاں سے لائیں ہم ہماری آنکھ ہے پیوسٹ ایک صحرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ اب ایسی آنکھ ہے وہ ہے وہ پانی ک ہاں سے لائیں ہم ہر ایک لفظ کے معنی تلاشتے ہوں جاناں ہر ایک لفظ کا معنی ک ہاں سے لائیں ہم چلو بتا دیں زمانے کو اپنے بارے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ روز جھوٹی کہانی ک ہاں سے لائیں ہم
Varun Anand
13 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Varun Anand.
Similar Moods
More moods that pair well with Varun Anand's ghazal.







