ghazalKuch Alfaaz

zaban sukhan ko sukhan bankpan ko tarsega sukhan-kada miri tarz-e-sukhan ko tarsega nae piyale sahi tere daur men saaqi ye daur meri sharab-e-kuhan ko tarsega mujhe to khair vatan chhod kar amaan na mili vatan bhi mujh se ghharib-ul-vatan ko tarsega inhi ke dam se farozan hain millaton ke charaghh zamana sohbat-e-arbab-e-fan ko tarsega badal sako to badal do ye baghhban varna ye baaghh saya-e-sarv-o-saman ko tarsega hava-e-zulm yahi hai to dekhna ik din zamin paani ko suraj kiran ko tarsega zaban sukhan ko sukhan bankpan ko tarsega sukhan-kada meri tarz-e-sukhan ko tarsega nae piyale sahi tere daur mein saqi ye daur meri sharab-e-kuhan ko tarsega mujhe to khair watan chhod kar aman na mili watan bhi mujh se gharib-ul-watan ko tarsega inhi ke dam se farozan hain millaton ke charagh zamana sohbat-e-arbab-e-fan ko tarsega badal sako to badal do ye baghban warna ye bagh saya-e-sarw-o-saman ko tarsega hawa-e-zulm yahi hai to dekhna ek din zamin pani ko suraj kiran ko tarsega

Related Ghazal

بات مقدر کی ہے ساری سمے کا لکھا مارتا ہے کچھ سجدوں ہے وہ ہے وہ مر جاتے ہیں کچھ کو سجدہ مارتا ہے صرف ہم ہی ہیں جو تجھ پر ملائے گا کے ملائے گا مرتے ہیں ورنا کسی کو تیری آنکھیں کسی کو لہجہ مارتا ہے دل والے ایک دوجے کی امداد کو خود مر جاتے ہیں دنیا دار کو جب بھی مارے دنیا والا مارتا ہے شہر ہے وہ ہے وہ ایک نئے قاتل کے حسن سخن کے بلوے ہیں ا سے سے بچ کے رہنا شعر سنا کے بندہ مارتا ہے

Ali Zaryoun

43 likes

آنکھوں ہے وہ ہے وہ رہا دل ہے وہ ہے وہ اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا ذہانت ا گر جاؤں گا سب چونک پڑیں گے اک عمر ہوئی دن ہے وہ ہے وہ کبھی گھر نہیں دیکھا ج سے دن سے چلا ہوں مری منزل پہ نظر ہے آنکھوں نے کبھی میل کا پتھر نہیں دیکھا یہ پھول مجھے کوئی وراثت ہے وہ ہے وہ ملے ہیں جاناں نے میرا کانٹوں بھرا بستر نہیں دیکھا یاروں کی محبت کا یقین کر لیا ہے وہ ہے وہ نے پھولوں ہے وہ ہے وہ چھپایا ہوا خنجر نہیں دیکھا محبوب کا گھر ہوں کہ بزرگوں کی زمینیں جو چھوڑ دیا پھروں اسے مڑ کر نہیں دیکھا خط ایسا لکھا ہے کہ نگینے سے جڑے ہیں حقیقت ہاتھ کہ ج سے نے کوئی زیور نہیں دیکھا پتھر مجھے کہتا ہے میرا چاہنے والا ہے وہ ہے وہ ہے وہ موم ہوں ا سے نے مجھے چھو کر نہیں دیکھا

Bashir Badr

38 likes

لمحہ در لمحہ تری راہ تکا کرتی ہے ایک کھڑکی تری آمد کی دعا کرتی ہے سلوٹیں چیختی رہتی ہیں مری بستر کی کروٹوں ہے وہ ہے وہ ہی مری رات کٹا کرتی ہے سمے تھم جاتا ہے اب رات گزرتی ہی نہیں جانے دیوار گھڑی رات ہے وہ ہے وہ کیا کرتی ہے چاند کھڑکی ہے وہ ہے وہ جو آتا تھا نہیں آتا اب تیرگی چاروں طرف رقص کیا کرتی ہے مری کمرے ہے وہ ہے وہ اداسی ہے خوشگوار کی م گر ایک تصویر پرانی سی ہنسا کرتی ہے

Abbas Qamar

27 likes

نہیں ہے منہسیر ا سے بات پر یاری ہماری کے تو کرتا رہے ناحق طرفداری ہماری اندھیرے ہے وہ ہے وہ ہمیں رکھنا تو خموشی سے رکھنا کہی منجملہ و اسباب ماتم نا ہوں جائے بیداری ہماری م گر اچھا تو یہ ہوتا ہم ایک ساتھ رہتے بھری رہتی تری کپڑو سے الماری ہماری ہم آسانی سے کھل جائے م گر ایک مسئلہ ہے تمہاری سطح سے اوپر ہے تہداری ہماری کہانیکار نے کردار ہی ایسا دیا ہے اداکاری نہیں لگتی اداکاری ہماری ہمیں جیتے چلے جانے پر مائل کرنے والی یہا کوئی نہیں لیکن سخنکاری ہماری

Jawwad Sheikh

26 likes

किसी ने सच ही कहा है कि हादसा होगा भरोसा जिस पे है मुझ को वो बे-वफ़ा होगा तुम्हें ही सोच के लाखों मैं शे'र कहता हूँ तुम्हें न सोचूँ तो फिर मेरा हाल क्या होगा मिरी जगह पे रक़ीबों से प्यार मत करना नहीं तो यार यहाँ सिर्फ़ मसअला होगा अगर यूँँ लौट भी आओगे इश्क़ में फिर से क़ुबूल करने में तुम को न कुछ बुरा होगा जफ़ा भी साथ मिरे किस ने पहले की 'दानिश' ज़रूर रब की अदालत में फ़ैसला होगा

Danish Balliavi

18 likes

More from Nasir Kazmi

دل ہے وہ ہے وہ اور تو کیا رکھا ہے تیرا درد چھپا رکھا ہے اتنے دکھوں کی تیز ہوا ہے وہ ہے وہ ہے وہ دل کا دیپ جلا رکھا ہے دھوپ سے چہروں نے دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کیا اندھیر مچا رکھا ہے ا سے نگری کے کچھ لوگوں نے دکھ کا نام دوا رکھا ہے وعدہ یار کی بات لگ چھیڑو یہ دھوکہ بھی کھا رکھا ہے بھول بھی جاؤ بیتی باتیں ان باتوں ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے چپ چپ کیوں رہتے ہوں ناصر یہ کیا روگ لگا رکھا ہے

Nasir Kazmi

11 likes

جب ذرا تیز ہوا ہوتی ہے کیسی سنسان فضا ہوتی ہے ہم نے دیکھے ہیں وہ سناٹے بھی جب ہر اک سانس صدا ہوتی ہے دل کا یہ حال ہوا تیرے بعد جیسے ویران آئینہ رو ہوتی ہے رونا آتا ہے ہمیں بھی لیکن اس میں توہین وفا ہوتی ہے منہ اندھیرے کبھی اٹھ کر دیکھو کیا تر و تازہ ہوا ہوتی ہے اجنبی دھیان کی ہر موج کے ساتھ کس قدر تیز ہوا ہوتی ہے غم کے بے نور گزرگاہوں میں اک کرن ذوق فضا ہوتی ہے غم گسار سفر راہ وفا مزہ آبلا پا ہوتی ہے گلشن فکر کی منہ بند کلی شب مہتاب میں وا ہوتی ہے جب نکلتی ہے نگار شب گل منہ پہ شبنم کی ردا ہوتی ہے حادثہ ہے کہ خزاں سے پہلے بو گل گل سے جدا ہوتی ہے اک نیا دور جنم لیتا ہے ایک برزخ فنا ہوتی ہے جب کوئی غم نہیں ہوتا ناصر بےکلی دل کی سوا ہوتی ہے

Nasir Kazmi

2 likes

शहर सुनसान है किधर जाएँ ख़ाक हो कर कहीं बिखर जाएँ रात कितनी गुज़र गई लेकिन इतनी हिम्मत नहीं कि घर जाएँ यूँँ तेरे ध्यान से लरज़ता हूँ जैसे पत्ते हवा से डर जाएँ उन उजालों की धुन में फिरता हूँ छब दिखाते ही जो गुज़र जाएँ रैन अँधेरी है और किनारा दूर चाँद निकले तो पार उतर जाएँ

Nasir Kazmi

1 likes

मुसलसल बेकली दिल को रही है मगर जीने की सूरत तो रही है मैं क्यूँँ फिरता हूँ तन्हा मारा मारा ये बस्ती चैन से क्यूँँ सो रही है चले दिल से उम्मीदों के मुसाफ़िर ये नगरी आज ख़ाली हो रही है न समझो तुम इसे शोर-ए-बहाराँ ख़िज़ाँ पत्तों में छुप कर रो रही है हमारे घर की दीवारों पे 'नासिर' उदासी बाल खोले सो रही है

Nasir Kazmi

2 likes

نجومی بھر لگ جائے کہی تو بھی دل سے اتر لگ جائے کہی آج دیکھا ہے تجھ کو دیر کے بعد آج کا دن گزر لگ جائے کہی لگ ملا کر ادا سے لوگوں سے حسن تیرا بکھر لگ جائے کہی آرزو ہے کہ تو ی ہاں آئی اور پھروں عمر بھر لگ جائے کہی جی جلاتا ہوں اور سوچتا ہوں رائےگاں یہ ہنر لگ جائے کہی آؤ کچھ دیر رو ہی لیں ناصر پھروں یہ دریا اتر لگ جائے کہی

Nasir Kazmi

9 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Nasir Kazmi.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Nasir Kazmi's ghazal.