nazmKuch Alfaaz

آج پھروں تیری یاد آ رہی ہے آج پھروں تیری یاد آ رہی ہے یہ تقدیر مجھے تیری اور لے جا رہی ہے مری ذہن ہے وہ ہے وہ پھروں سے تیری صورت سما رہی ہے مری کانوں ہے وہ ہے وہ پھروں تیری آواز گنگنا رہی ہے مری آنکھوں سے نیند پھروں روٹھ سی گئی ہے مری زندگی سے ہنسی کچھ چھوٹ سی گئی ہے مری چہرے پہ چنو اک اداسی سی چھائی ہے ان ہونٹوں پہ پھروں کوئی خموشی گھر آئی ہے لگ جانے یہ دل میرا ک ہاں کھو گیا تو ہے آج پھروں پوچھ رہے ہیں لوگ یہ مجھے کیا ہوں گیا تو ہے مری لبوں نے پھروں وہی باتیں دوہرائی ہیں کچھ نہیں ہوا کہ کر ہے وہ ہے وہ نے پلکیں جھپکائی ہیں آج پھروں ہے وہ ہے وہ نے دنیا سے اپنا حال چھپایا ہے یہ دل مایو سے ہے م گر ہونٹوں نے مسکرایا ہے آج پھروں مری ہنستے دل کو ان غموں نے پکارا ہے مری بھیتر کے چکور نے پھروں چاند کو گھنٹوں نہہارا ہے آج پھروں بہتی فضاؤں نے مجھ سے منا پھیرا ہے آج پھروں اکیلےپن نے مری من کو گھیرا ہے ڈھلتی شام نے پھروں آنکھوں کو ستایا ہے برستی گھٹاؤں نے پھروں با ہوں کو ترسایا ہے یہ قدرت مجھ پر پھروں سے قہر برپا رہی ہے ہر دھڑکن

Rehaan2 Likes

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है

Sahir Ludhianvi

52 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

یہ کس طرح یاد آ رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں کہ چنو سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوں یہ جسم چھوؤں گا یہ نرم باہیں حسین گردن سدول بازو شگفتہ چہرہ سلونی رنگت گھنیرا جوڑا سیاہ گیسو نشیلی آنکھیں رسیلی چت ون دراز پلکیں مہین ابرو تمام شوخی تمام بجلی تمام مستی تمام جادو ہزاروں جادو جگا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں اولیں لب مسکراتے آرِز جبیں کشادہ بلند قامت نگاہ ہے وہ ہے وہ بجلیوں کی جھل مل اداؤں ہے وہ ہے وہ استعمال لطافت دھڑکتا سینا مہکتی سانسیں نوا ہے وہ ہے وہ رس انکھڑیوں ہے وہ ہے وہ امرت ہما حلاوت ہما ملاحت ہما ترنم ہما نزاکت لچک لچک گنگنا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں تو کیا مجھے جاناں جلا ہی لوگی گلے سے اپنے لگا ہی لوگی جو پھول جوڑے سے گر پڑا ہے تڑپ کے اس کا کو اٹھا ہی لوگی بھڑکتے شعلوں کڑکتی بجلی سے میرا خرمن بچا ہی لوگی گھنیری اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ مسکرا کے مجھ کو چھپا ہی لوگی کہ آج تک آزما رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں نہیں محبت کی کوئی قیمت جو کوئی قیمت ادا کروںگی وفا کی فرصت نہ دےگی

Kaifi Azmi

37 likes

کچی عمر کے پیار یہ کچی عمر کے پیار بھی بڑے پکے نشان دیتے ہیں آج پر کم دھیان دیتے ہیں بہکے بہکے نقص دیتے ہیں ان کو دیکھے ہوئے مدت ہوئی اور ہم اب بھی جان دیتے ہیں کیا پیار ایک بار ہوتا ہے نہیں یہ بار بار ہوتا ہے تو پھروں کیوں کسی ایک کا انتظار ہوتا ہے وہی تو سچا پیار ہوتا ہے اچھا پیار بھی کیا انسان ہوتا ہے کبھی سچا کبھی جھوٹا بے ایمان ہوتا ہے ا سے کی رگوں ہے وہ ہے وہ بھی کیا خاندان ہوتا ہے اور مقصد حیات نفع نقصان ہوتا ہے پیار تو پیار ہوتا ہے

Yasra rizvi

47 likes

More from Rehaan

"अफ़सोस-2" मोहब्बत में तुम्हें जब उम्र भर का साथ चुभता है अगर ये इश्क़ भी मेरा महज़ इक झूठ लगता है तुम अपनी शाइरी को भी मेरी ग़लती बताते हो तो फिर बोलो कि मुझ से तुम मोहब्बत क्यूँ जताते हो कहो किस हक़ से अब मुझ से कोई भी चाह है तुमको बताओ क्यूँ मेरी ख़ुशियों की यूँ परवाह है तुम को चलो छोड़ो कहा तुम ने जो सब कुछ मानती हूँ मैं मेरा जो हाल होना है ब-ख़ूबी जानती हूँ मैं मुबारक हो तुम्हारी याद में मैं रोज़ जलती हूँ मोहब्बत वाकई अफ़सोस है अब मैं समझती हूँ

Rehaan

0 likes

ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر کو آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کم ہوں رہی ہر ایک میل کی دوری پہ اپنے دل کی دھڑکنیں بڑھا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دن گزرا ہے آج پھروں ویسا ہی تھکان بھرا پر خود کو ابھی بے حد املان پا رہا ہن ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھایا ہے آکاش ہے وہ ہے وہ اندھیرا شوالہ اماوَ سے کا خیالوں ہے وہ ہے وہ تری روپ سا چاند بسا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مانکر ساکشی پیچھے چھوٹتے ہر ایک گاؤں کو اتیت کی سبھی رنجشوں سے کسک مٹا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات کچھ کٹ چکی ہے کچھ ڈھلنی اب بھی باقی ہے سویرہ جلد ہونے کی امید لگا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر کو آ رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے پھروں سے سڑک پر دوڑ چلی ہے پھروں تری شہر سے خالی ہاتھ جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بڑھ رہی ہر ایک میل کی دوری پہ تری کیے حقیقت سبھی وعدے بھلا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رات تری خوابوں سے نیند مکمل شاداب ہوئی جانے پھروں کیوں خود کو اتنا کلانت پا رہا ہوں ہے

Rehaan

1 likes

ایسا کیوں ہوتا ہے ایسا کیوں ہوتا ہے جاتا ہے کوئی تو لوٹ کے پھروں لگ حقیقت آتا دوبارہ ایسا کیوں ہوتا ہے چندا کے جانے سے لگتا فلک یہ سونا سارا دنیا یہ پیار کی دشمن ا سے سے لگ پار پاتا ہے دل ایسا کیوں ہوتا ہے مولا اپنوں سے ہار جاتا ہے دل ایسا کیوں ہوتا ہے دل جو بچھڑتے ہیں دن لگ گزرنے ہیں شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ کٹتی ہیں راتیں لگ چھٹتی ہیں لگتا نہیں کہی دل یہ بیچارا ایسا کیوں ہوتا ہے رہتی ہیں آنکھیں نمہ ہوں نہیں پاتا ہے گزارا وعدے کیے تھے ا سے نے جو وعدے تھے ا سے کے سارے جھوٹے جتنا اسے تھا کل چاہا خود سے ہیں آج اتنے روٹھے ایسا کیوں ہوتا ہے بھول لگ چا ہوں تو دل کو مناؤں تو دل لگ سمجھتا ہے مجھ سے الجھتا ہے کرتا ہے ا سے پہ ہی ب سے یہ اشارہ ایسا کیوں ہوتا ہے جب بھی یوں ہوتا ہے دل یہ ہوں جاتا ترساؤ

Rehaan

1 likes

ضروری تھا بھولنہ بھی تھا ضروری تجھے تو ا سے لیے پھروں عشق ہے وہ ہے وہ جلتے چراغوں کو بجھایا ہم نے سوچ کر یہ کہ تیری یاد نہیں لازم اب دل سے اپنے تیری یادوں کو ہٹایا ہم نے محبت کے ملالوں سے ابرنا بھی ضروری تھا مرادیں بھی ضروری تھیں سمجھنا بھی ضروری تھا ضروری تھا کہ یادوں کو سنبھالے رکھتے دل ہے وہ ہے وہ ہم مگر یادوں کا پھروں دل سے نکلنا بھی ضروری تھا ہیں ہم کو یاد شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ جو تیری گلیوں ہے وہ ہے وہ بیتی تھیں ہمارا دل جہاں ہارا تھا نظریں تیری جیتی تھیں حقیقت تیرا ہم کو شہر جان جاں دیکھنا کیول بہانا تھا اصل ہے وہ ہے وہ تو تیرا مقصد ہمارا دل دکھانا تھا مگر ہم دیر سے سمجھے ادائیں حقیقت نمائش تھیں تیری گلیوں سے بن دیکھے گزرنا بھی ضروری تھا کسی منزل سفر کی اب نہیں رہتی خبر ہم کو کوئی امید کی لو بھی نہیں آتی نظر ہم کو محبت کی غلطیاں کی تھی سزائیں پانی تھی پا لیں کیے کتنے ستم خود پہ کہ کتنی ٹھوکریں کھا لیں تیرے غم کے ستائیں ہم کبھی روئے کبھی تڑپے مگر تڑپے تو یاد آیا تڑپنا بھی ضروری تھا

Rehaan

1 likes

دو جانب ایک ہے وہ ہے وہ ہوں ایک تو ہے دونوں بڑے نادان ہیں تو مجھ سے اور ہے وہ ہے وہ خود سے دونوں ہی انجان ہیں تیری گلیاں سورگ ہیں چنو میرا شہر شمشان ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ شمع کب سے بجھا ہوا تجھ پر پتنگیں قربان ہیں خوشیاں تری قدم چومتیں غم مری مہمان ہیں تجھ پر خدا فدا ہے مجھ سے گھر والے تک پریشان ہیں مجھے کہ ب سے اک خواہش تیری تجھے کہ سیکڑوں ارمان ہیں مری قسمت ہے وہ ہے وہ تو ہی نہیں تجھ پر قسمت مہربان ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری لیے کچھ بھی نہیں تو مری لیے بھگوان ہے تری دل ہے وہ ہے وہ بھلے ریحان لگ ہوں تیری زندگی پھروں بھی ریحان ہے

Rehaan

2 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Rehaan.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Rehaan's nazm.