nazmKuch Alfaaz

تجھ سے جو ہے وہ ہے وہ نے پیار کیا ہے تری لیے نہیں اپنے لیے سمے کی بے عنوان کہانی کب تک بے عنوان رہے اے مری سوچ ن گر کی رانی اے مری خلد خیال کی حور اتنے دنوں جو ہے وہ ہے وہ گھلتا رہا ہوں تری بنا یوںہی دور ہی دور سوچ تو کیا پھل مجھ کو ملا ہے وہ ہے وہ من سے گیا تو پھروں تن سے گیا تو شہر وطن ہے وہ ہے وہ اجنبی ٹھہرا آخر شہر وطن سے گیا تو روح کی پیا سے بجھانی تھی پر ی ہاں ہونٹوں کی پیا سے بھی بجھ لگ سکی بچتے سنبھلتے بھی ایک سلگتا روگ بنی مری جی کی لگی دور کی بات لگ سوچ ابھی مری ہات ہے وہ ہے وہ تو ذرا ہات تو دے تجھ سے جو ہے وہ ہے وہ نے پیار کیا ہے تری لیے نہیں اپنے لیے باغ ہے وہ ہے وہ ہے اک بیلے کا تختہ بینی ہے ا سے بیلے کی سوگندھ اے کل یوں کیوں اتنے دنوں جاناں رکھے رہیں اسے گود ہے وہ ہے وہ بند کتنے ہی ہم سے روپ کے رسیہ آئی ی ہاں اور چل بھی دیے جاناں ہوں کہ اتنے حسن کے ہوتے ایک لگ دامن تھام سکے لوٹ یوں پر بھونروں کے بادل ایک ہی پل کو گدے پھروں لگ حقیقت جا کر لوٹ سکوگے پھروں لگ حقیقت جا کر آئیں گے اے مری سوچ ن گر کی رانی سمے کی باتیں رنگ اور وعدے

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں

Tehzeeb Hafi

161 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

More from Ibn E Insha

اے متوالو ناقوں والو دیتے ہوں کچھ ا سے کا پتا نجد کے اندر مجنوں نامی ایک ہمارا بھائی تھا آخر ا سے پر کیا کچھ بیتی جانو تو احوال کہو موت ملی یا لیلیٰ پائی دیوانے کا فصل خزاں کہو عقل کی باتیں کہنے والے دوستوں نے اسے سمجھایا ا سے کو تو لیکن چپ سی لگی تھی نا بولا نا باز آیا خیر اب ا سے کی بات کو چھوڑو دیوا لگ پھروں دیوا لگ جاتے جاتے ہم لوگوں کا ایک سندیسہ لے جانا آوارہ آوارہ پھروں لگ چھوڑ کے منڈلی یاروں کی دیکھ رہے ہیں دیکھنے والے انشا کا اب حال وہی کیا اچھا خوش باش جواں تھا جانے کیوں بیمار ہوا اٹھتے بیٹھتے میر کی بیتیں پڑھنا ا سے کا شعار ہوا طور طریقہ اُکھڑا اُکھڑا چہرہ پیلا سخت ملول راہ ہے وہ ہے وہ چنو خاک پہ کوئی مسئلہ مسئلہ باغ کا پھول شام سویرے بال ناری بیٹھا بیٹھا روتا ہے ناقوں والو ان لوگوں کا عالم کیسا ہوتا ہے اپنا بھی حقیقت دوست تھا ہم بھی پا سے ا سے کے بیٹھ آتے ہیں ادھر ادھر کے قصے کہ کے جی ا سے کا بہلاتے ہیں اکھڑی اکھڑی بات کرے ہے بھول کے ا گلہ یارا لگ کون ہوں جاناں ک سے کام سے آئی ہم نے لگ جاناں کو پہچانا جانے

Ibn E Insha

0 likes

لب پر نام کسی کا بھی ہو دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت عودی دھرتی چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے طوفان آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے کون ابد تک جیتا ہے رنگیں محض فسوں کا پردہ ہم تو آج کے بندے ہیں ہجر و وصل وفا اور دھوکہ سب کچھ آج پہ رکھا ہے

Ibn E Insha

0 likes

یہ بچہ کالا یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پر تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے یہ بچہ کیسے بیٹھا ہے یہ بچہ کب سے بیٹھا ہے یہ بچہ کیا

Ibn E Insha

1 likes

شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ شام سے بھٹکتے ہیں چاند کے تمنا ئی بے قرار سودائی دل گداز تاریکی روح و جاں کو دستی ہے روح و جاں ہے وہ ہے وہ بستی ہے شہر دل کی گلیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تاک شب کی بیلوں پر شبنمی سرشکوں کی بے قرار لوگوں نے بے شمار لوگوں نے یادگار کانٹے ہے اتنی بات تھوڑی ہے سد ہزار باتیں تھیں حیلہ شکیبائی صورتوں کی زیبائی کامتوں کی را'نائی ان سیاہ راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک بھی نہ یاد آئی جا بجا بھٹکتے ہیں کہ سے کی راہ تکتے ہیں چاند کے تمنا ئی یہ نگر کبھی پہلے ای سے دودمان نہ ویراں تھا کہنے والے کہتے ہیں قریہ نگاراں تھا خیر اپنے جینے کا یہ بھی ایک سامان تھا آج دل ہے وہ ہے وہ ویرانی ابر بن کے گھر آئی آج دل کو کیا کہیے با وفا نہ ہر جائی پھروں بھی لوگ دیوانے آ گئے ہیں سمجھانے اپنی وحشت دل کے بُن لیے ہیں افسانے خوش خیال دنیا نے گرمیاں تو جاتی ہیں حقیقت رتیں بھی آتی ہیں جب ملول راتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوستوں کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جی نہ

Ibn E Insha

0 likes

ٹھٹھراتی یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ بچہ کالا یہ کالا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ ک سے کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے کا جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا خالا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے غنچہ صورت یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے 3 یہ بچہ کیسے بیٹھا

Ibn E Insha

1 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ibn E Insha.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.