دل پیت کی آگ ہے وہ ہے وہ جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دو ا سے آگ سے لوگوں دور رہو ٹھنڈی لگ کروں پنکھا لگ جھلو ہم رات دینا یوں ہی گھلتے رہیں کوئی پوچھے کہ ہم کو نا پوچھے کوئی ساجن ہوں یا دشمن ہوں جاناں ذکر کسی کا مت چھیڑو سب جان کے سپنے دیکھتے ہیں سب جان کے دھوکے کھاتے ہیں یہ دیوانے سادہ ہی صحیح پر اتنے بھی سادہ نہیں یاروں ک سے بیٹھی تپش کے مالک ہیں ٹھٹھری ہوئی آگ کے انگیارے جاناں نے کبھی سینکا ہی نہیں جاناں کیا سمجھو جاناں کیا جانو دل پیت کی آگ ہے وہ ہے وہ جلتا ہے ہاں جلتا ہے اسے جلنے دو ا سے آگ سے جاناں تو دور رہو ٹھنڈی لگ کروں پنکھا لگ جھلو ہر محفل ہے وہ ہے وہ ہم دونوں کی کیا کیا نہیں باتیں ہوتی ہیں ان باتوں کا مفہوم ہے کیا جاناں کیا سمجھو جاناں کیا جانو دل چل کے لبوں تک آ لگ سکا لب کھل لگ سکے غم جا لگ سکا اپنا تو ب سے اتنا قصہ تھا جاناں اپنی سناؤ اپنی کہو حقیقت شام ک ہاں حقیقت رات ک ہاں حقیقت سمے ک ہاں حقیقت بات ک ہاں جب مرتے تھے مرنے لگ دیا اب جیتے ہیں اب جینے دو دل پیت کی آگ ہے وہ ہے وہ جلتا ہے ہاں جلتا رہے اسے جلنے دو ا
Related Nazm
ا سے کی خوشیاں ساری جھیلیں سوکھ گئی ہیں ا سے کی آنکھیں سوکھ گئی ہیں پیڑوں پر پنچھی بھی چپ ہیں اس کا کا کو کوئی دکھ ہے شاید رستے سونے سونے ہیں سب ا سے نے ٹہلنا چھوڑ دیا ہے ساری غزلیں بے معنی ہیں ا سے نے پڑھنا چھوڑ دیا ہے حقیقت بھی ہنسنا بھول چکی ہے گلوں نے کھلنا چھوڑ دیا ہے ساون کا موسم جاری ہے زبان ا سے کا غم جاری ہے باقی موسم ٹال دیے ہیں سکھ کوئیں ہے وہ ہے وہ ڈال دیے ہیں چاند کو چھٹی دے دی گئی ہے تاروں کو شاہد و ساقی رکھا ہے آتش دان ہے وہ ہے وہ پھینک دی خوشیاں دل ہے وہ ہے وہ ب سے اک غم رکھا ہے خا لگ پینا چھوڑ دیا ہے سب سے رشتہ توڑ دیا ہے ہاں یہ خوشگوار آنے کو ہے ا سے نے جینا چھوڑ دیا ہے ہر دل خوش ہر چہرہ خوش ہوں حقیقت ہوں خوش تو دنیا خوش ہوں حقیقت اچھی تو سب اچھا ہے اور دنیا ہے وہ ہے وہ کیا رکھا ہے یہ سب سن کر خدا نے بولا بول تیری اب خواہش کیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے بولا مری خواہش مری خواہش ا سے کی خوشیاں خدا نے بولا تیری خواہش ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بولا ا سے کی خوشیاں ا سے کے علا
Varun Anand
30 likes
کیوں ہے جاناں نہیں ہوں ی ہاں پر پھروں بھی تمہارے ہونے کا احسا سے کیوں ہے کچھ ہے نہیں مری ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کچھ ہونے کی یہ آ سے کیوں ہے بڑی حیرانی ہے مجھے کی حقیقت دور ہوکر بھی اتنا پا سے کیوں ہے سب نے کہا کہ حقیقت تو پرایا ہے حقیقت پرایا ہوکر بھی اتنا خاص کیوں ہے جتنا حقیقت دور ہے مجھ سے حقیقت اتنا ہی مجھ کو را سے کیوں ہے بیٹھا ہوں بلکل اکانت ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ پھروں بھی کانوں ہے وہ ہے وہ ا سے کی آواز کیوں ہے کھل کے نہیں کہتی حقیقت کچھ بھی ا سے کی آنکھوں ہے وہ ہے وہ اتنے راز کیوں ہیں بسی ہے دل ہے وہ ہے وہ حقیقت مری یہ میرا دل ا سے کا سمپتی کیوں ہے اس کا کا کو نہیں بھلا سکتا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ ا سے کے نام کی ہر شوا سے کیوں ہے پوری کائنات ا سے کی یاد دلاتی ہے یہ تن من ہے وہ ہے وہ ا سے کا وا سے کیوں ہے حقیقت مری ہوئی نہیں ہے ابھی اس کا کا کو کھونے کے ڈر سے من اتنا بدحوا سے کیوں ہے دوریاں لکھی ہیں چنو درمیان میرا نصیب مجھ سے اتنا ناراض کیوں ہے ایسے شبد ک ہاں سے لاؤں کی حقیقت سمجھے
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ
Divya 'Kumar Sahab'
37 likes
جب وہ اس دنیا کے شور اور خاموشی سے کتا تعلق ہوکر انگلش میں غصہ کرتی ہے میں تو ڈر جاتا ہوں لیکن کمروں کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیں وہ اک ایسی آگ ہے جس کو صرف دہکنے سے مطلب ہے وہ ایک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہے اس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکن پانی کون پکڑ سکتا ہے وہ رنگوں سے واقف ہے بلکہ ہر ایک رنگ کے شجرے تک سے واقف ہے ہم نے جن پھولوں کو نفرت سے بادہ آشامی کیا وہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہے کبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پہنچاتا لے کر ایسی سطرے کھینچتی ہے سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے وہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہے صرف اسی کے ہاتھوں سے دنیا ترتیب میں آ سکتی ہے ہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ لیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہیں ہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیں ہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہیں میری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تو محسوس نہیں ہونے دیتی لیکن اپنے ہونے سے اکتا جاتی ہے اس کو وقت کی آزمایا سے کیا مطلب ہے وہ تو بند گھڑی بھی ہاتھ میں باندھ کے کالج آ جاتی ہ
Tehzeeb Hafi
51 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
More from Ibn E Insha
मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं दाँत थे मैं ने दूध पिला कर सात बरस में पाले आ कर उन को ले गए चूहे लंबी मोंछों वाले गुड़ का उन को माट मिला था मीठा और मज़ेदार लाख ख़ुशामद कर के मुझ से ले लिए दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बिल्ली थी इक मामी मौसी चुपके चुपके आई पंजों पर थी देग की खुरचन होंटों पर बालाई बोली गुड़ के माट पे मैं ने चूहे देखे चार हिस्सा आधों-आध रहेगा दे दो दाँत उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं बा'द में बूढ़ा मोती आया रोनी शक्ल बनाए बोला बीबी इस बिल्ली का कुछ तो करें उपाए दूध न छोड़े गोश्त न छोड़े हैं बुढ्ढा लाचार इस को करूँँ शिकार जो मुझ को दे दो दाँत उधार अच्छी मुन्नी तुम ने अपने इतने दाँत गँवाए कुछ चूहों ने कुछ बिल्ली ने कुछ मोती ने पाए बाक़ी जो दो-चार रहे हैं वो हम को दिलवाओ इक दावत में आज मिलेंगे तिक्के और पोलाव मुर्ग़ी के पाए का सालन बैगन का आचार दोगी या किसी और से माँगूँ हाँ दिए उधार बाबा हाँ हाँ दिए उधार मुन्नी तेरे दाँत कहाँ हैं
Ibn E Insha
0 likes
لب پر نام کسی کا بھی ہو دل میں تیرا نقشہ ہے اے تصویر بنانے والی جب سے تجھ کو دیکھا ہے بے تیرے کیا وحشت ہم کو تجھ بن کیسا دل پامال و سکون تو ہی اپنا شہر ہے جانی تو ہی اپنا صحرا ہے نیلے پربت عودی دھرتی چاروں کوٹ میں تو ہی تو تجھ سے اپنے جی کی خلوت تجھ سے من کا میلا ہے آج تو ہم بکنے کو آئے آج ہمارے دام لگا یوسف تو بازار وفا میں ایک ٹکے کو بکتا ہے لے جانی اب اپنے من کے پیراہن کی گرہیں کھول لے جانی اب آدھی شب ہے چار طرف سناٹا ہے طوفانوں کی بات نہیں ہے طوفان آتے جاتے ہیں تو اک نرم ہوا کا جھونکا دل کے باغ میں ٹھہرا ہے یا تو آج ہمیں اپنا لے یا تو آج ہمارا بن دیکھ کہ وقت گزرتا جائے کون ابد تک جیتا ہے رنگیں محض فسوں کا پردہ ہم تو آج کے بندے ہیں ہجر و وصل وفا اور دھوکہ سب کچھ آج پہ رکھا ہے
Ibn E Insha
0 likes
ٹھٹھراتی یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ بچہ کالا یہ کالا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ ک سے کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پہ تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے کا جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا خالا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے غنچہ صورت یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے 3 یہ بچہ کیسے بیٹھا
Ibn E Insha
1 likes
یہ بچہ کالا یہ کالا سا مٹیالا سا یہ بچہ بھوکا سا یہ بچہ سوکھا سا یہ بچہ کس کا بچہ ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے جو ریت پر تنہا بیٹھا ہے نا ا سے کے پیٹ ہے وہ ہے وہ روٹی ہے نا ا سے کے تن پر کپڑا ہے نا ا سے کے سر پر ٹوپی ہے نا ا سے کے پیر ہے وہ ہے وہ جوتا ہے نا ا سے کے پا سے کھلونا ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی بھالو ہے کوئی گھوڑا ہے نا ا سے جی بہلانے کو کوئی لوری ہے کوئی جھولا ہے نا ا سے کی جیب ہے وہ ہے وہ دھیلا ہے نا ا سے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ بڑھانے ہے نا ا سے کے امی ابو ہیں نا ا سے کی آپا ہے یہ سارے جگ ہے وہ ہے وہ تنہا ہے یہ بچہ کیسا بچہ ہے یہ صحرا کیسا صحرا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بادل ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ برکھا ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ بالی ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ خوشہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سبزہ ہے نا ا سے صحرا ہے وہ ہے وہ سایہ ہے یہ صحرا بھوک کا صحرا ہے یہ صحرا موت کا صحرا ہے یہ بچہ کیسے بیٹھا ہے یہ بچہ کب سے بیٹھا ہے یہ بچہ کیا
Ibn E Insha
1 likes
پھیلتا پھیلتا شام غم کا دھواںاک اداسی کا تنٹا ہوا سایہ بان اونچے اونچے مناروں کے سر پہ رواں دیکھ پہنچا ہے آخر ک ہاں سے ک ہاں جھانکتا صورت خیل آوارگاں قمری قمری بہر کاخ و کو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ مرثیہ سیل ظلمات کو چیرتا جل اٹھا دور بستی کا پہلا دیا پنچھیوں نے بھی پچھم کا رستہ لیا خیر جاؤ عزیزو م گر دیکھنا ایک جگنو بھی مشعل سی لے کے چلا ہے اسے بھی کوئی جستجو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ آ سماں پر رواں سرمئی بادلوں ہاں تمہیں کیا فردو سے جوان اور اونچے فردو سے جوان باغ عالم کے تازہ شگفتہ گلو بے نیازا لگ مہکا کروں خوش رہو لیکن اتنا بھی سوچا کبھی ظالمو ہم بھی ہیں عاشق رنگ و بو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی دیکھے یہ مجبوریاں دوریاں ایک ہی شہر ہے وہ ہے وہ ہم ک ہاں جاناں ک ہاں دوستوں نے بھی کانٹے ہیں دل داریاں آج وقف غم الفت رائگاں ہم جو پھرتے ہیں وحشت زدہ سرگراں تھے کبھی صاحب آبرو شہر ہے وہ ہے وہ ہے وہ لوگ تانوں سے کیا کیا جتاتے نہیں ایسے راہی تو منزل کو پاتے نہیں جی سے اک دوسرے کو بھلاتے نہیں سامنے بھی م گر آتے ج
Ibn E Insha
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ibn E Insha.
Similar Moods
More moods that pair well with Ibn E Insha's nazm.







