ایک شاعر دوست سے گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوں باہر نکلو دیکھو کیا حال ہے دنیا کا یہ کیا عالم ہے سونی آنکھیں ہیں سبھی خوشیوں سے خالی چنو آؤ ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیں یہ جو ماتھے ہیں اداسی کی لکیروں کے تلے آؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیں چہروں سے گہری یہ بیتابی مٹا کے آؤ ان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیں دور تک جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ویرانے نظر آتے ہیں آؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیں لفظ در لفظ سمندر سا بہے موج ب موج بہر نغمات ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کوہ ستم حل ہوں جائے دنیا دنیا لگ رہے ایک غزل ہوں جائے
Related Nazm
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ
Faiz Ahmad Faiz
73 likes
ا سے سے محبت جھیلیں کیا ہیں ا سے کی آنکھیں عمدہ کیا ہے ا سے کا چہرہ خوشبو کیا ہے ا سے کی سانسیں خوشیاں کیا ہیں ا سے کا ہونا تو غم کیا ہے ا سے سے جدائی ساون کیا ہے ا سے کا رونا سر گرا کیا ہے ا سے کی اداسی گرمی کیا ہے ا سے کا غصہ اور بہاریں ا سے کا ہنسنا میٹھا کیا ہے ا سے کی باتیں کڑوا کیا ہے مری باتیں کیا پڑھنا ہے ا سے کا لکھا کیا سننا ہے ا سے کی غزلیں لب کی خواہش ا سے کا ماتھا زخم کی خواہش ا سے کا چھونا دنیا کیا ہے اک جنگل ہے اور جاناں کیا ہوں پیڑ سمجھ لو اور حقیقت کیا ہے اک راہی ہے کیا سوچا ہے ا سے سے محبت کیا کرتے ہوں ا سے سے محبت زار پیشہ ا سے سے محبت ا سے کے علاوہ ا سے سے محبت ا سے سے محبت
Varun Anand
475 likes
More from Javed Akhtar
दिल वो सहरा था कि जिस सहरा में हसरतें रेत के टीलों की तरह रहती थीं जब हवादिस की हवा उन को मिटाने के लिए चलती थी यहाँ मिटती थीं कहीं और उभर आती थीं शक्ल खोते ही नई शक्ल में ढल जाती थीं दिल के सहरा पे मगर अब की बार सानेहा गुज़रा कुछ ऐसा कि सुनाए न बने आँधी वो आई कि सारे टीले ऐसे बिखरे कि कहीं और उभर ही न सके यूँँ मिटे हैं कि कहीं और बनाए न बने अब कहीं टीले नहीं रेत नहीं रेत का ज़र्रा नहीं दिल में अब कुछ नहीं दिल को सहरा भी अगर कहिए तो कैसे कहिए
Javed Akhtar
1 likes
ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت تمام حیرت تمام حیرت یہ کیا تماشا یہ کیا سماں ہے یہ کیا عیاں ہے یہ کیا ن ہاں ہے اتھاہ میک اپ ہے اک خلا کا لگ جانے کب سے لگ جانے کب تک ک ہاں تلک ہے ہماری دی کی انتہا ہے جسے سمجھتے ہیں ہم فلک ہے یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آ سماں ہے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جگنو کی شکل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے شمار سورج پگھل رہے ہیں شہاب ثاقب ہے یا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو آگ کے تیر چل رہے ہیں کروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں ہے وہ ہے وہ پھیلی یہ کہکشائیں خلا گھیرے ہیں یا خلاوں کی قید ہے وہ ہے وہ ہے یہ کون ک سے کو لیے چلا ہے ہر ایک لمحہ کروڑوں میلوں کی جو مسافت ہے ان کو آخر ک ہاں ہے جانا ا گر ہے ان کا کہی کوئی آخری ہری تو حقیقت ک ہاں ہے ج ہاں کہی ہے سوال یہ ہے و ہاں سے آگے کوئی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے کوئی فلک ہے ا گر نہیں ہے تو یہ نہیں کتنی دور تک ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت<
Javed Akhtar
0 likes
کچھ جاناں نے کہا کچھ ہے وہ ہے وہ نے کہا اور بڑھتے بڑھتے بات بڑھی دل اوب گیا تو دل ڈوب گیا تو اور گہری کالی رات بڑھی جاناں اپنے گھر ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنے گھر سارے دروازے بند کیے بیٹھے ہیں کڑوے گھونٹ پیے اوڑھے ہیں نبھائیے کی چادر کچھ جاناں سوچو کچھ ہے وہ ہے وہ سوچوں کیوں اونچی ہیں یہ دیواریں کب تک ہم ان پر سر ماریں کب تک یہ اندھیرے رہنے ہیں کی لگ کے یہ گھیرے رہنے ہیں چلو اپنے دروازے کھولیں اور گھر کے باہر آئیں ہم دل ٹھہرے ج ہاں ہیں برسوں سے حقیقت اک نکڑ ہے خوبصورت کا کب تک ا سے نکڑ پر ٹھہرے اب ا سے کے آگے جائیں ہم ب سے تھوڑی دور اک دریا ہے ج ہاں ایک اجالا بہتا ہے واں لہروں لہروں ہیں کرنیں اور کرنوں کرنوں ہیں لہریں ان کرنوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان لہروں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہم دل کو خوب نہانے دیں سینوں ہے وہ ہے وہ جو اک پتھر ہے ا سے پتھر کو گھل جانے دیں دل کے اک کونے ہے وہ ہے وہ بھی چھپی گر تھوڑی سی بھی خوبصورت ہے ا سے خوبصورت کو دھل جانے دیں دونوں کی طرف سے ج سے دن بھی اظہار ندا
Javed Akhtar
3 likes
عجیب قصہ ہے جب یہ دنیا سمجھ رہی تھی جاناں اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں تو ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی تھی جو کہ مری بھی تھی تمہاری بھی تھی ج ہاں فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کے خواب جاگتے تھے ج ہاں ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیں ج ہاں کے پھولوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی آرزو کے سب رنگ کھیل رہے تھے ج ہاں پہ دونوں کی جرأتوں کے ہزار چشمے عرو سے دہر رہے تھے لگ رلا تھے لگ رنج و غم تھے سکون کا گہرا اک سمندر تھا اور ہم تھے عجیب قصہ ہے ساری دنیا نے جب یہ جانا کہ ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی ہے تو ہر ایک ابرو نے چنو ہم پر کمان تانی تمام پیشانیوں پہ ابھریں غم اور نبھائیے کی گہری شکنیں کسی کے لہجے سے تلخی چھلکی کسی کی باتوں ہے وہ ہے وہ ترشی آئی کسی نے چاہا کہ کوئی دیوار ہی اٹھا دے کسی نے چاہا ہماری دنیا ہی حقیقت مٹا دے م گر زمانے کو شفت تھا زما لگ ہارا یہ ساری دنیا کو ماننا ہی پڑا ہ
Javed Akhtar
0 likes
गलियाँ और गलियों में गलियाँ छोटे घर नीचे दरवाज़े टाट के पर्दे मैली बद-रंगी दीवारें दीवारों से सर टकराती कोई गाली गलियों के सीने पर बहती गंदी नाली गलियों के माथे पर बहता आवाज़ों का गंदा नाला आवाज़ों की भीड़ बहुत है इंसानों की भीड़ बहुत है कड़वे और कसीले चेहरे बद-हाली के ज़हरस हैं ज़हरीले चेहरे बीमारी से पीले चेहरे मरते चेहरे हारे चेहरे बे-बस और बेचारे चेहरे सारे चेहरे एक पहाड़ी कचरे की और उस पर फिरते आवारा कुत्तों से बच्चे अपना बचपन ढूँड रहे हैं दिन ढलता है इस बस्ती में रहने वाले औरों की जन्नत को अपनी मेहनत दे कर अपने जहन्नम की जानिब अब थके हुए झुँझलाए हुए से लौट रहे हैं एक गली में ज़ंग लगे पीपे रक्खे हैं कच्ची दारू महक रही है आज सवेरे से बस्ती में क़त्ल-ओ-ख़ूँ का चाक़ू-ज़नी का कोई क़िस्सा नहीं हुआ है ख़ैर अभी तो शाम है पूरी रात पड़ी है यूँँ लगता है सारी बस्ती जैसे इक दुखता फोड़ा है यूँँ लगता है सारी बस्ती जैसे है इक जलता कढ़ाव यूँँ लगता है जैसे ख़ुदा नुक्कड़ पर बैठा टूटे-फूटे इंसाँ औने-पौने दामों बेच रहा है!
Javed Akhtar
2 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's nazm.







