“इक तरफ़ा मोहब्बत” जान-ए-जिगर ऐ जान-ए-वफ़ा तू मेरे लिए मत ख़्वाब सजा जन्नत की शहज़ादी है तू मैं गलियों का आवारा दिल देने की बात न कर यूँँ मेरे लिए फ़रियाद न कर मेरे पीछे-पीछे मत आ वक़्त अपना बर्बाद न कर तू महलों में रहती मैं सड़कों पे गुज़ारा करता हूँ तू अरबों की मालिक है मैं सब्जी बेचा करता हूँ पछताएगी प्रीत बढ़ा मत कहता हूँ फिर दोबारा जन्नत की शहज़ादी है तू मैं गलियों का आवारा मारा मारा फिरता हूँ मैं फिर भी मुझ पे मरती है रात को मेरे दर्द में ख़ूब उठ उठ के रोया करती है मैं मोहताज़ निवाले का तू चाँद से खेला करती है मुझ सेे मोहब्बत करने की तू फिर भी सोचा करती है इश्क़ मोहब्बत क्या जानूँ मैं तो हूँ पागल बेचारा जन्नत की शहज़ादी है तू मैं गलियों का आवारा तू गद्दे पर सोती है और मैं सोता हूँ सड़कों पर तू रहती है महलों में और मैं रहता फ़ुटपाथों पर रात को चैन से सोते हैं सब मैं मज़दूरी करता हूँ रोज़ निवाले की ख़ातिर मैं जान पे खेला करता हूँ तुझ को कहाँ पे रक्खूँगा ना घर मेरा ना चौबारा जन्नत की शहज़ादी है तू मैं गलियों का आवारा
Related Nazm
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
بہت خوبصورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی ہے وہ ہے وہ جو کہ دوں محبت ہے جاناں سے تو مجھ کو خدارا غلط مت سمجھنا کہ میری ضرورت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہیں پھولوں کی ڈالی پہ بانہیں تمہاری ہیں خاموش جادو نگاہیں تمہاری جو کانٹے ہوں سب اپنے دامن ہے وہ ہے وہ رکھ لوں سجاؤں ہے وہ ہے وہ کلیوں سے راہیں تمہاری نظر سے زمانے کی خود کو بچانا کسی اور سے دیکھو دل مت لگانا کہ میری امانت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں کبھی نڈھال کی قطاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا چمکتے ہوئے چاند تاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا خزاؤں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا بہاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا مچلتے ہوئے آبشاروں ہے وہ ہے وہ ڈھونڈا حقیقت ہے وہ ہے وہ دیکھا فسانے ہے وہ ہے وہ دیکھا نہ جاناں سا ہنسی ای سے زمانے دیکھا نہ دنیا کی رنگین محفل ہے وہ ہے وہ پایا جو پایا تمہیں اپنا ہی دل ہے وہ ہے وہ پایا ایک ایسی مسرت ہوں جاناں بہت خوبصورت ہوں جاناں ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا ہے چہرہ تمہارا کہ دن ہے سنہرا اور ای سے پر یہ کالی گھٹاؤں کا پہرہ گلابوں س
Tahir Faraz
54 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
More from Prashant Kumar
م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تو سب سے جدا ہے تو سب سے حسین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ تجھسا لگ کوئی کہی ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے دیکھ کر ہی نکلتا ہے سورج تجھے دیکھ کر روز ڈھلتا ہے سورج تو اک باوضو اپسرا ہے مری جاں خدا بھی تو تجھ پہ فدا ہے مری جاں تجھی سے محبت کرےگا یقین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے کام سب چھوڑ کر دیکھتے ہیں بنا بات کے پھول بھی پھینکتے ہیں کہ ممتاز بھی تری جیسی نہیں ہے ی ہاں ایک تو ہی مہا سندری ہے بے حد خوبصورت ہے زہرہ جبیں ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے
Prashant Kumar
1 likes
"हार्ट अटैक तू लावेगी" जो टॉप पहन के आएगी तो क़हर क़सम से ढाएगी यूँँ तंग क़बा में आवेगी फिर बिजली ख़ूब गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी झुक के रूमाल उठाएगी एकाध को तू टपकाएगी जो ऐसे पेट दिखाएगी तो दिल की नींव हिलाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी यूँँ देखके तू मुस्काएगी तो झगड़ा सब में कराएगी तू हम को भी मरवाएगी तू हम को भी मरवाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी जो हम सेे हाथ मिलाएगी तो दिल के तार भिड़ाएगी तू तन में आग लगाएगी हम को तू मार गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी
Prashant Kumar
1 likes
صدا مفل سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دینے کے جائیں گے نہیں کچھ کسی کو سو اپنے بدن کی قباء دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مری زندگی کی دعا کرنے والوں تمہیں آخری ہے وہ ہے وہ دعا دے رہا ہوں مبارک ہوں سب کو خوشی کا ہری یہ محفل خوشی کی تمہیں دے رہا ہوں مری پا سے خانے کو کچھ بھی نہیں ہے سبھی کے لیے یہ جوا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں انتقامن مت کروں کوئی احسان مجھ پر اتاروںگا کیسے یہ احسان لوگوں مجھے عمر بھر گالیاں دوگے پھروں سب ہمیشہ رہوگے پریشان لوگوں ضرورت نہیں کچھ بھی دینے کی مجھ کو ہے وہ ہے وہ جاناں کو تمہاری وفا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے کوئی خوش رہنے کی مت دعا دو یہ غم ہی مری زندگی بن گیا تو ہے مجھے غزلوں ہی سبھی لوگ دینا یہی تو مری بندگی بن گیا تو ہے مری زندگی آگ کا ایک گولا ہے ایسے ہے وہ ہے وہ تجھ کو ہوا دے رہا ہوں مجھے بھ
Prashant Kumar
1 likes
چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے کیوں ہے اتنی جواں کیوں ہے اتنی حسین نام ک سے نے رکھا تیرا زہرہ جبیں تنگ سی ٹاپ پہنے اب آنا نہیں چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے مجھ کو ڈر ہے کہی لے لگ جائے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے چاند ہے وہ ہے وہ داغ ہے پھروں بھی مغرور ہے لگ رہا اپنی عادت سے مجبور ہے تو جدھر جا رہا چاند ادھر آ رہا یہ تجھے دیکھ کر کتنا شرما رہا آڑ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے سمٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے خوبصورت بے حد لگ رہی آج تو آج سے بن گئی مری ممتاز جب کیسی کاریگری ہے خدا کی قسم زلف سے پاؤں تک زہر ہے تو صنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری جان ہوں تو مری جان ہے خواب ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں لپٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے اپنی صورت دکھا دے خدا کے لیے مجھ کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لے خدا کے لیے اب تو گھر سے نکل آ خدا کے لیے مجھ کو اپنا بنا لے خدا کے لیے عمر بھر کے لیے با ہوں ہے وہ ہے وہ تھام
Prashant Kumar
1 likes
جب پاپا پاپا کہتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے جب پاپا ہم نے کہوائی جاں پھٹ کے گلے ہے وہ ہے وہ ہے آئی تب ہنستے گاتے پھرتے تھے اب مارے مارے پھرتے ہیں لگ ہی کچھ کھونے کا ڈر تھا تب لگ ہی کچھ پانے کی اچھا تھی تب من ہے وہ ہے وہ ج ہاں بھی آتا تھا وہیں پہ رویا کرتے تھے ہم رونے کے لیے بھی اب ہم کو جا بک کروانی پڑتی ہے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے سکول کو ہم جاناں جاتے تھے تب زیب ہے وہ ہے وہ پیسے رہتے تھے اب ہاتھ سبھی کے خالی ہیں کیسی یار اب کی پڑھائی ہے حقیقت پیٹھ پہ بوجھ کتابوں کا اور جیب ہے وہ ہے وہ کنچے رہتے تھے جب سکول سے گھر آتے تھے تو چاک چرا کر لاتے تھے گلی ڈنڈا لے لے کر روز ہم گلیوں گلیوں پھرتے تھے جب پاپا پاپا کہتے تھے ہم کتنے مزے ہے وہ ہے وہ رہتے تھے یاد آتا ہے حقیقت دور ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دا گرا کے آنچل ہے وہ ہے وہ سیاہ بخت تھے ممی کو جھوٹ بتاتے تھے پاپا کو جھوٹ بتاتے تھے پھروں ہوتی خوب پٹائی تھی ہم اکڑ بکر کرتے تھ
Prashant Kumar
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Prashant Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Prashant Kumar's nazm.







