" गुलज़ार साहब के नाम" आज के दिन ही दीना में जन्म हुआ गुलज़ार का सुन याद में उन की पेश किया अफ़साना गुलज़ार का सुन बचपन में ही जुदा हुए थे वो अपने घर वालों से दिल में उन्होंने क्या बतलाऊँ दर्द हज़ारों पाले थे फिर भी उन के जीने के सब अंदाज़ निराले थे हाल सुनाया है बस मैं ने लफ़्ज़ों में गुलज़ार का सुन आज के दिन ही दीना में जन्म हुआ गुलज़ार का सुन याद में उन की पेश किया अफ़साना गुलज़ार का सुन घर से निकले जीते रहे ऐसे ही तन्हाई में भूखे प्यासे चलते रहे धूप कड़ी पुरवाई में ख़ून-पसीना एक किया जीवन की गहराई में ऐसे हासिल थोड़ी हुआ नाम उन्हें गुलज़ार का सुन आज के दिन ही दीना में जन्म हुआ गुलज़ार का सुन याद में उन की पेश किया अफ़साना गुलज़ार का सुन माँ का लाड़ मिला उन को न ही पिता का प्यार मिला समझा पराया अपनों ने ऐसा उन्हें घर द्वार मिला तुम क्या जानो जीवन में उन को क्या किरदार मिला हँस के निभाया हर रिश्ता जीवन के किरदार का सुन आज के दिन ही दीना में जन्म हुआ गुलज़ार का सुन याद में उन की पेश किया अफ़साना गुलज़ार का सुन गीतों का गुलशन चमका क़लमों की हरियाली से झूम उठी थी शहनाई उन के सुरों की लाली से उन की क़लम के चर्चे तुम सुन लो हर दिलवाले से राज़ रहेगा दुनिया की क़लमों पे गुलज़ार का सुन आज के दिन ही दीना में जन्म हुआ गुलज़ार का सुन याद में उन की पेश किया अफ़साना गुलज़ार का सुन सुख में दुख में साथ दिया अपनाया था राखी को जग में फिर मशहूर किया कितनों की आवाज़ों को ढूँढ़ रहा हूँ महफ़िल में आज उन के अफ़साने को हर फ़नकार पे कर्म हुआ राखी के गुलज़ार का सुन आज के दिन ही दीना में जन्म हुआ गुलज़ार का सुन याद में उन की पेश किया अफ़साना गुलज़ार का सुन
Related Nazm
جاناں ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہوش ہے وہ ہے وہ باہوش ہے وہ ہے وہ ہے وہ مری جسم کا جاناں خون ہوں جاناں سرد ہوں برسات بھی مری گرمیوں کی جاناں نومبر ہوں جاناں غزل ہوں ہوں جاناں شاعری مری لکھی نجم کی دھن ہوں مری ہنسی بھی جاناں مری خوشی بھی جاناں مری ای سے حیات کی ممنون ہوں جاناں دھوپ ہوں مری چھاؤں بھی جاناں سیاہ رات کا مون ہوں جاناں سن ہوں جاناں کاف بھی جاناں واو کے بعد کی نون ہوں جاناں سکون ہوں پر سکون ہوں مری عشق کا جاناں جنون ہوں
ZafarAli Memon
25 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو
Gulzar
68 likes
मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है
Sahir Ludhianvi
52 likes
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ
Faiz Ahmad Faiz
73 likes
More from Prashant Kumar
م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تو سب سے جدا ہے تو سب سے حسین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے زمانے ہے وہ ہے وہ تجھسا لگ کوئی کہی ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے دیکھ کر ہی نکلتا ہے سورج تجھے دیکھ کر روز ڈھلتا ہے سورج تو اک باوضو اپسرا ہے مری جاں خدا بھی تو تجھ پہ فدا ہے مری جاں تجھی سے محبت کرےگا یقین ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے تجھے کام سب چھوڑ کر دیکھتے ہیں بنا بات کے پھول بھی پھینکتے ہیں کہ ممتاز بھی تری جیسی نہیں ہے ی ہاں ایک تو ہی مہا سندری ہے بے حد خوبصورت ہے زہرہ جبیں ہے م گر تجھ کو ا سے کی خبر ہی نہیں ہے
Prashant Kumar
1 likes
"हार्ट अटैक तू लावेगी" जो टॉप पहन के आएगी तो क़हर क़सम से ढाएगी यूँँ तंग क़बा में आवेगी फिर बिजली ख़ूब गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी झुक के रूमाल उठाएगी एकाध को तू टपकाएगी जो ऐसे पेट दिखाएगी तो दिल की नींव हिलाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी यूँँ देखके तू मुस्काएगी तो झगड़ा सब में कराएगी तू हम को भी मरवाएगी तू हम को भी मरवाएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी जो हम सेे हाथ मिलाएगी तो दिल के तार भिड़ाएगी तू तन में आग लगाएगी हम को तू मार गिराएगी और हार्ट अटैक भी लाएगी
Prashant Kumar
1 likes
صدا مفل سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ دینے کے جائیں گے نہیں کچھ کسی کو سو اپنے بدن کی قباء دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مری زندگی کی دعا کرنے والوں تمہیں آخری ہے وہ ہے وہ دعا دے رہا ہوں مبارک ہوں سب کو خوشی کا ہری یہ محفل خوشی کی تمہیں دے رہا ہوں مری پا سے خانے کو کچھ بھی نہیں ہے سبھی کے لیے یہ جوا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں انتقامن مت کروں کوئی احسان مجھ پر اتاروںگا کیسے یہ احسان لوگوں مجھے عمر بھر گالیاں دوگے پھروں سب ہمیشہ رہوگے پریشان لوگوں ضرورت نہیں کچھ بھی دینے کی مجھ کو ہے وہ ہے وہ جاناں کو تمہاری وفا دے رہا ہوں مجھے بھی تو دیتے ہوئے شرم آتی ہے پریوں کی رانی کو کیا دے رہا ہوں مجھے کوئی خوش رہنے کی مت دعا دو یہ غم ہی مری زندگی بن گیا تو ہے مجھے غزلوں ہی سبھی لوگ دینا یہی تو مری بندگی بن گیا تو ہے مری زندگی آگ کا ایک گولا ہے ایسے ہے وہ ہے وہ تجھ کو ہوا دے رہا ہوں مجھے بھ
Prashant Kumar
1 likes
چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے کیوں ہے اتنی جواں کیوں ہے اتنی حسین نام ک سے نے رکھا تیرا زہرہ جبیں تنگ سی ٹاپ پہنے اب آنا نہیں چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے مجھ کو ڈر ہے کہی لے لگ جائے تجھے راہ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے پلٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے چاند ہے وہ ہے وہ داغ ہے پھروں بھی مغرور ہے لگ رہا اپنی عادت سے مجبور ہے تو جدھر جا رہا چاند ادھر آ رہا یہ تجھے دیکھ کر کتنا شرما رہا آڑ ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہے سمٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے خوبصورت بے حد لگ رہی آج تو آج سے بن گئی مری ممتاز جب کیسی کاریگری ہے خدا کی قسم زلف سے پاؤں تک زہر ہے تو صنم ہے وہ ہے وہ ہے وہ تری جان ہوں تو مری جان ہے خواب ہے وہ ہے وہ دیکھتا ہوں لپٹ کے تجھے چاند تکتا ہے راتوں کو چھت سے تجھے اپنی صورت دکھا دے خدا کے لیے مجھ کو دل ہے وہ ہے وہ بسا لے خدا کے لیے اب تو گھر سے نکل آ خدا کے لیے مجھ کو اپنا بنا لے خدا کے لیے عمر بھر کے لیے با ہوں ہے وہ ہے وہ تھام
Prashant Kumar
1 likes
سب ڈگریوں کے پیچھے پڑے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جدھر بھی نظر ڈالتا ہوں لوگ رستے سے بھٹکے ہوئے ہیں آجکل سب ہنر چھوڑ کر ان ڈگریوں کے ہی پیچھے پڑے ہیں ڈگریوں ہے وہ ہے وہ ہنر کوئی ہوتا تو پھروں اتہا سے انپڑھ لگ لکھتے ڈگریوں کے یہ پیرویا سڑک پر یوں سر عام سستے لگ بکتے یہ پتا چلتا ہے ڈگریوں سے ہم ک ہاں تک معیار ہیں لکھے ہیں جانتے ہیں م گر لوگ پھروں بھی ڈگریوں کے ہی پیچھے پڑے ہیں ڈگریوں کے جو پیچھے پڑے ہیں حقیقت زمانے ہے وہ ہے وہ نوکر بنیں گے کام خود کے ہنر پر کریںگے حقیقت زمانے کے مالک بنیں گے ڈگریوں سے تو مشعل جاں ہیں نوکر پر ہنر ہم کو مالک بناتا ڈگریوں والے ہوں یا ہوں انپڑھ سب کو قدموں ہے وہ ہے وہ لا کر جھکاتا عمر برباد ہے ڈگریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دوست تقدیر کو دے رہے ہیں کیا کریں لوگ نادان بڑے ہیں ڈگریوں کے ہی پیچھے پڑے ہیں پیچھے بھاگو لگ جاناں ڈگریوں کے پیچھے بھاگو سب اپنے ہنر کے دیکھنا جان لوگے ہنر تو رکھ ہی دوگے زما لگ بدل کے ورنا مارے ہجرت فروغ جاناں کو رکھ دےگی دنیا بدل کے ڈگریوں ہے وہ ہے وہ
Prashant Kumar
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Prashant Kumar.
Similar Moods
More moods that pair well with Prashant Kumar's nazm.







