اک بار پھروں وطن ہے وہ ہے وہ گیا تو جا کے آ گیا تو لخت ج گر کو خاک ہے وہ ہے وہ دفنا کے آ گیا تو ہر ہم سفر پہ خضر کا دھوکہ ہوا مجھے آب بقا کی راہ سے قطرہ کے آ گیا تو حور لحد نے چھین لیا تجھ کو اور ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنا سا منا لیے ہوئے شرما کے آ گیا تو دل لے گیا تو مجھے تری تربت پہ بار بار آواز دے کے بیٹھ کے اکتا کے آ گیا تو رویا کہ تھا جہیز ترا واجب الادا میںہ موتیوں کا قبر پہ برسا کے آ گیا تو مری بسات کیا تھی حضور رضا دوست تنکہ سا ایک سامنے دریا کے آ گیا تو اب کے بھی را سے آئی لگ حب وطن عرو سے بہار اب کے بھی ایک تیر قضا کھا کے آ گیا تو
Related Nazm
حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا
Faiz Ahmad Faiz
160 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو
Gulzar
68 likes
More from Hafeez Jalandhari
لحد ہے وہ ہے وہ سو رہی ہے آج بے شک مشت خاک اس کا کی مگر گرم عمل ہے جاگتی ہے جان پاک اس کا کی حقیقت اک فانی بشر تھا ہے وہ ہے وہ یہ ہوا شوق کر نہیں سکتا بشر حفیظ ہوں جائے تو ہرگز مر نہیں سکتا ب زیر سایہ دیوار مسجد ہے جو آسودہ یہ خاکی جسم ہے ستر برس کا راہ پیمودہ یہ خاکی جسم بھی اس کا کا بہت ہی بیش قیمت تھا جسے ہم جلوہ سمجھے تھے حقیقت پردہ بھی غنیمت تھا اسے ہم ناپتے تھے لے کے آنکھوں ہی کا پیمانہ غزل خواں اس کا کو جانا ہم نے شاعر اس کا کو گردانہ فقط صورت ہی دیکھی اس کا کے معنی ہم نہیں سمجھے نہ دیکھا رنگ تصویر آئینے کو دل نشیں سمجھے ہمیں زوف بصارت سے کہاں تھی تاب نظارہ سکھائے اس کا کے پردے نے ہمیں آداب نظارہ یہ نغمہ کیا ہے زیر پردہ ہا ساز کم سمجھے رہے سب گوش بر آواز لیکن راز کم سمجھے شکست پیکر محسوس نے توڑا حجاب آخر طلوع صبح محشر بن کے چمکا آفتاب آخر مقید اب نہیں حفیظ اپنے جسم فانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ نہیں حقیقت بند حائل آج دریا کی روانی ہے وہ ہے وہ ہے وہ وجود مرگ کی قائل نہیں تھی زندگی اس کا کی عارف اعلیٰ اللہ اب دیکھے کوئی پا
Hafeez Jalandhari
0 likes
اٹھی ہے مغرب سے گھٹا پینے کا موسم آ گیا تو ہے رقص ہے وہ ہے وہ اک معنی دل چھوؤں گا ادا ناز آفرین ہاں من اندھیرا جا گائے جا دی سے دل برمائے جا تڑپائے جا تڑپائے جا و دشمن دنیا و دیں تیرا تھرکنا خوب ہے تیری ادائیں دل نشیں لیکن ٹھہر تو کون ہے و نیم عریاں نازنین کیا مشرقی عورت ہے تو ہرگز نہیں ہرگز نہیں تیری ہنسی بےباک ہے تیری نظر چالاک ہے اف ک سے دودمان دل سوز ہے تقریر بازاری تری کتنی ہوں سے آموز ہے یہ سادہ پرکاری تری شرم اور عزت والیاں ہوتی ہیں عفت والیاں حقیقت حسن کی شہزادیاں پردے کی ہیں آبادیاں چشم فلک نے آج تک دیکھی نہیں ان کی جھلک سرمایہ شرم و حیا زیور ہے ان کے حسن کا شوہر کے دکھ سہتی ہیں حقیقت منا سے نہیں کہتی ہیں حقیقت کب سامنے آتی ہیں حقیقت غیرت سے کٹ جاتی ہیں حقیقت اعزاز ملت ان سے ہے نام شرافت ان سے ہے ایمان پر قائم ہیں حقیقت پاکیزہ و صائم ہیں حقیقت تجھ ہے وہ ہے وہ نہیں شرم و حیا تجھ ہے وہ ہے وہ نہیں مہر و وفا سچ سچ بتا تو کون ہے و بے حیا تو کون ہے احسا سے عزت کیوں
Hafeez Jalandhari
0 likes
اے دیکھنے والو ا سے حسن کو دیکھو ا سے راز کو سمجھو یہ نقش خیالی یہ فکرت عالی یہ پیکر تنویر یہ کرشن کی تصویر معنی ہے کہ صورت صنعت ہے کہ فطرت ظاہر ہے کہ مستور نزدیک ہے یا دور یہ نار ہے یا نور دنیا سے نرالا یہ بانسری والا گوکل کا گوالا ہے سحر کہ اعزاز کھلتا ہی نہیں راز کیا شان ہے واللہ کیا آن ہے واللہ حیران ہوں کیا ہے اک شان خدا ہے بت خانے کے اندر خود حسن کا بت گر بت بن گیا تو آ کر حقیقت طرفہ نظارے یاد آ گئے سارے جمنا کے کنارے سبزے کا لہکنا پھولوں کا مہکنا گھنگھور گھٹائیں سرمست ہوائیں معصوم امنگیں الفت کی ترنگیں حقیقت گوپیوں کے ساتھ ہاتھوں ہے وہ ہے وہ دیے ہاتھ رقصاں ہوا بریجناتھ بنسری ہے وہ ہے وہ جو لے ہے نشہ ہے لگ مے ہے کچھ اور ہی اجازت ہے اک روح ہے رقصاں اک کیف ہے لرزاں ایک عقل ہے مے نوش اک ہوش ہے مدہوش اک خندہ ہے سیال اک گریہ ہے خوشحال اک عشق ہے مغرور اک حسن ہے مجبور اک سحر ہے مسحور دربار ہے وہ ہے وہ تنہا لاچار ہے اندھیرا آ شیام ادھر آ<br
Hafeez Jalandhari
0 likes
فت لگ خفتہ جگائے ا سے گھڑی ک سے کی مجال قید ہیں شہزادیاں کوئی نہیں پرساحال ان غریبوں کی مدد پر کوئی آمادہ نہیں ایک شاعر ہے ی ہاں لیکن حقیقت شہزادہ نہیں آہوؤں کی سرمگیں پلکیں فضا پر حکمران چھائی ہیں عرض و سما پر آہنی سی جالیاں دور سے کوہسار و وا گرا پر یہ ہوتا ہے گماں اونٹ ہیں بیٹھے ہوئے اترا ہوا ہے کارواں یا اثر ہیں آسمان پیر پر برسات کے خیمہ بوسیدہ ہے وہ ہے وہ پیوند ہیں بانات کے اور ا سے خیمے کے اندر زندگی سوئی ہوئی تیرگی سوئی ہوئی تابندگی سوئی ہوئی اے عرو سے بہار ان نیند کے ماتوں کی منزل سے نکل کام ہے در سانحے دام دیدہ و دل سے نکل دیدہ و دل کو بھی غفلت کے متصل سے نکال یہ جو خموشی کی زنجیریں ہیں ان کو توڑ ڈال صبح کرنے کے لیے پھروں ہاو ہوں درکار ہے شکر کر سوتی ہوئی دنیا ہے وہ ہے وہ تو منجملہ و اسباب ماتم ہے
Hafeez Jalandhari
0 likes
लो फिर बसंत आई फूलों पे रंग लाई चलो बे-दरंग लब-ए-आब-ए-गंग बजे जल-तरंग मन पर उमंग छाई फूलों पे रंग लाई लो फिर बसंत आई आफ़त गई ख़िज़ाँ की क़िस्मत फिरी जहाँ की चले मय-गुसार सू-ए-लाला-ज़ार म-ए-पर्दा-दार शीशे के दर से झाँकी क़िस्मत फिरी जहाँ की आफ़त गई ख़िज़ाँ की खेतों का हर चरिंदा बाग़ों का हर परिंदा कोई गर्म-ख़ेज़ कोई नग़्मा-रेज़ सुबुक और तेज़ फिर हो गया है ज़िंदा बाग़ों का हर परिंदा खेतों का हर चरिंदा धरती के बेल-बूटे अंदाज़-ए-नौ से फूटे हुआ बख़्त सब्ज़ मिला रख़्त सब्ज़ हैं दरख़्त सब्ज़ बन बन के सब्ज़ निकले अनदाज़-ए-नौ से फूटे धरती के बेल-बूटे फूली हुई है सरसों भूली हुई है सरसों नहीं कुछ भी याद यूँँही बा-मुराद यूँँही शाद शाद गोया रहेगी बरसों भूली हुई है सरसों फूली हुई है सरसों लड़कों की जंग देखो डोर और पतंग देखो कोई मार खाए कोई खिलखिलाए कोई मुँह चिढ़ाए तिफ़्ली के रंग देखो डोर और पतंग देखो लड़कों की जंग देखो है इश्क़ भी जुनूँ भी मस्ती भी जोश-ए-ख़ूँ भी कहीं दिल में दर्द कहीं आह-ए-सर्द कहीं रंग-ए-ज़र्द है यूँँ भी और यूँँ भी मस्ती भी जोश-ए-ख़ूँ भी है इश्क़ भी जुनूँ भी इक नाज़नीं ने पहने फूलों के ज़र्द गहने है मगर उदास नहीं पी के पास ग़म-ओ-रंज-ओ-यास दिल को पड़े हैं सहने इक नाज़नीं ने पहने फूलों के ज़र्द गहने
Hafeez Jalandhari
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Hafeez Jalandhari.
Similar Moods
More moods that pair well with Hafeez Jalandhari's nazm.







