حکمران لوٹا ہے کسانوں بھوک نے مری دیش کو لوٹا ہے ان امیرو نے مری دیش کو اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے حکمرانوں نے لوٹا ہے مری دیش کو روتے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ چنو دیتے ہیں کھلونا ویسے یہ حکمران چپ کراتے ہیں مری دیش کو کیسے کیسے پرلوبھن سے اپنے کوکرم چھپاتے ہیں یہ حکمران ایسے بہلاتے فسلاتے ہیں مری دیش کو جھوٹ ان کے بکتے ہیں سر بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے بازار کا ہر دکاندار ڈراتا ہے مری کو چپ ہیں لب سی گئے ہیں غلط ہے سو یہ زخم پہ زخم دیتے ہیں مری دیش کو سنا ہے چناوی سمے ہے چلو کچھ کرتے ہیں سبب بتاتے ہیں ان کو جو آنکھ دکھاتے ہیں مری دیش کو
Related Nazm
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ تنہا پیڑ ہوں جنگل کا مری پتے جھڑتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کون ہوں کیا ہوں کب کی ہوں ایک تیری کب ہوں سب کی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئل ہوں شہراو کی مجھے تاب نہیں ہے چھاؤں کی ایک دلدل ہے تری وعدوں کی مری پیر اکھڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے بچے کی گڑیا تھی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ک سے پنجرے کی چڑیا تھی مری کھیلنے والے ک ہاں گئے مجھے چومنے والے ک ہاں گئے مری بالیاں گروی مت رکھنا مری کنگن توڑ نا دینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بنجر ہوتی جاتی ہوں کہی دریا موڑ نا دینا کبھی ملنا ا سے پر سوچیںگے ہم کیا منزل پر پہنچیں گے راستوں ہے وہ ہے وہ ہی لڑتے جاتے ہیں مری زخم نہیں بھرتے یاروں مری ناخون بڑھتے جاتے ہیں
Tehzeeb Hafi
161 likes
لب پہ آتی ہے دعا بن کے تمنا مری زندگی شماکی صورت ہوں خدایا مری دور دنیا کا مری دم سے اندھیرا ہوں جائے ہر جگہ مری چمکنے سے اجالا ہوں جائے ہوں مری دم سے یوںہی مری وطن کی ظفر ج سے طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی ظفر زندگی ہوں مری پروانے کی صورت یا رب علم کی شماسے ہوں مجھ کو محبت یا رب ہوں میرا کام غریبوں کی حمایت کرنا درد مندوں سے ضعیفوں سے محبت کرنا مری اللہ برائی سے بچانا مجھ کو نیک جو راہ ہوں ا سے رہ پہ چلانا مجھ کو
Allama Iqbal
51 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
More from Lalit Mohan Joshi
اک لڑکی یہ پوری دنیا بے حد اچھی لگتی ہے جب حقیقت لڑکی رستہ میرا تکتی ہے پھروں یہ دنیا ساری اپنی لگتی ہے جب پیار سے با ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت لڑکی بھرتی ہے اور یہ ساری دنیا ایک طرف ہے زبان باقی ایک طرف حقیقت لڑکی ہے چہرے کی ا سے کی معصوم حقیقت ہنسی چنو مجھ کو جیون نیا عطا کرتی ہے پھروں مجھ ادھورے سے لڑکے کو ساتھ آ کر مری حقیقت پورا کرتی ہے سارے خواب بھی ملائے گا ہونے لگتے ہیں جب مری ساتھ حقیقت لڑکی رہتی ہے سچ پوچھو تو حقیقت لڑکی ا سے نادان لڑکے کو آ کر نادان سے حقیقت سمجھدار کرتی ہے ا سے پیاری سی لڑکی کو ہے وہ ہے وہ کیا ک ہوں مری ہر غزل کو حقیقت مکمل کرتی ہے حقیقت لڑکی مری غزل کے مطلعے سے شروع ہوکر شعر قافیہ ردیف سے ہوکر مقطعے پر رکتی ہے حقیقت لڑکی کبھی بہر ہے وہ ہے وہ تو کبھی بنا بہر کے بھی خوبصورت لگتی ہے ساتھ ہے وہ ہے وہ ا سے کے چار قدم ب سے چل پاؤں مری خدا سے ب سے یہی دعا رہتی ہے
Lalit Mohan Joshi
4 likes
"ज़िंदगी है क्या" बे-मन उम्र गुजारना ज़िंदगी है क्या रोज़ टूट कर बिखरना ज़िंदगी है क्या हम को रोज़ आकार हर कोई जीने लगता है और उस का आकार चले जाना ज़िंदगी है क्या ज़िंदगी कितना और सीखना है मुझ पर ये तेरा सितम ढाना ज़िंदगी है क्या दो वक़्त की रोटी के ख़ातिर हर दर पर हाथ फैलाना ज़िंदगी है क्या अगर तुम रखते हो ज़रूरी डिग्री-याफ़्ता तो एक भली नौकरी को तरसना ज़िंदगी है क्या मुसलसल ख़्वाबों के लिए जगना और उन ख़्वाबों का टूटना ज़िंदगी है क्या कुछ नए तजरबे सीखने के ख़ातिर अंगारों पे यूँँ रोज़ चलना ज़िंदगी है क्या जवानी के इस सुहाने सफ़र पर मोहब्बत के लिए दर बदर भटकना ज़िंदगी है क्या ये मसअला समझ आया ही नहीं चोट खाना और फिर सँभालना ज़िंदगी है क्या एक दो नंबरों के खेल में ख़ुद को तबाह करना ज़िंदगी है क्या जितना कम हुआ नंबरों का अंतर उतना नौकरी से दूर जाना ज़िंदगी है क्या गाँव से शहर आया था एक सुलझा लड़का उस का यहाँ उलझ कर रहना ज़िंदगी है क्या
Lalit Mohan Joshi
3 likes
नज़्म - वो क्या है उस की आँखें कैसी हैं उस की आँखें रब सी हैं उस की बातें कैसी हैं उस की बातें रौनक़ हैं उस की यादें कैसी हैं मेरी रातों जैसी हैं उस की यादें हिज्र है क्या ये फ़क़त बेकार किस ने बोली है उस का चेहरा कैसा है उस का चेहरा चाँद सा है उस की ज़ुल्फ़ें कैसी है उस की ज़ुल्फ़ें क़ाएनात है उस का साथ चलना क्या है मेरा आगे और आगे बढ़ना है उस की बिंदिया कैसी है माथे पर चाँद जैसी है उस का बोलना कैसा है सारे फ़ज़ा में फ़क़त प्यार ही घोलना है बाग़ में उस का होना कैसा है सारे फूलों को बस खिलना है उस सेे मुहब्बत किस को है उस सेे मुहब्बत सब को है जिस को उस ने चाहा है उस का मुक़द्दर रब ने लिक्खा है मेरी ग़ज़लें मेरी नज़्में क्या है उन के सारे हर्फ़ और सारे मिसरे उस पर है मेरी ग़ज़ल का मतला क्या है उस का चेहरा है शे'र के मिसरे क्या हैं उस की दो आँखें हैं ग़ज़ल का क़ाफ़िया क्या है क़ाफ़िया उस के लब हैं तो रदीफ़ क्या है वो उस की सुंदरता है बताओ फिर मक़्ता क्या है वो उस का दिल है उसपर क्या क्या जँचता है उस पर साड़ी सूट सब जँचता है उस के गाल में पड़ता वो गड्ढा देखो मुझ को दीवाना करता है उस का हुस्न तो है बहुत सुंदर रूह में उस के रब बसता है
Lalit Mohan Joshi
4 likes
خوشی خوشی تری ہوں یا مری خوشی خوشی ہوتے ہیں خوشی کا کوئی لگ مذہب ہوتا ہے لگ کوئی ذات ہوتی ہے خوشی خوشی ہوتے ہیں کبھی یہ سنبھالتے ہیں تو کبھی بگاڑتے ہیں زندہ ہیں تو خوشی ہیں ہے بعد موت کے بھی خوشی شجر کے اپنے خوشی ہیں شاخ کے بھی اپنے خوشی ہیں پھول کے اپنے خوشی ہیں کلی کے بھی اپنے خوشی ہیں آنکھ کے اپنے خوشی ہیں ذہن کے اپنے خوشی ہیں لب کے اپنے خوشی ہیں دل کے بھی کچھ خوشی ہیں دریا کے اپنے خوشی ہیں سمندر کے اپنے خوشی ہیں معشوقہ کے اپنے خوشی ہیں معشوق کے اپنے خوشی ہیں راہ چلتے راہی کے خوشی ہیں طوائف کے اپنے خوشی ہیں زخم کے اپنے خوشی ہیں تو مرہم کے اپنے خوشی ہیں وفا کے اپنے خوشی ہیں بےوفا کے بھی اپنے خوشی ہیں کسانوں کے اپنے خوشی ہیں بیگا لگ غم کے اپنے خوشی ہیں بنا بام و دیوار کے خوشی ہیں تو بام و دیوار ہے وہ ہے وہ بھی خوشی ہیں بچپن کے تھوڑے خوشی ہیں جوانی ہے وہ ہے وہ زیادہ خوشی ہیں بڑھا پہ تو اشکوں کا خوشی ہیں ضروری نہیں غم کے خوشی ہیں خوشی کے اپنے خوشی ہیں
Lalit Mohan Joshi
3 likes
ہم دونوں چلو ہم دونوں ایک دوسرے پر یقین کرتے ہیں چلو ایسے آپس ہے وہ ہے وہ دونوں رفاقت کرتے ہیں مانا عشق ہے آفتاب کا گولا چلو اس کا کو ہم دونوں ماہتاب کرتے ہیں زخم مانا دیے ہیں گہرے زمانے نے ہم دونوں اب ساتھ رہ کر ان سے لڑتے ہیں یہ لوگ ایسے درختوں سے ہیں جو نہ پھل دیتے اور نہ ہی چھاؤں کرتے ہیں رشک کرتے ہیں تو کرنے دو انکو ہم دونوں شجر اور شاخ مشعل جاں ہیں زمانہ ہم دونوں کو ہے وہ ہے وہ اور جاناں کرتا ہے چلو اس کا کے ذہن کا بھی علاج کرتے ہیں یہاں جینے ہے وہ ہے وہ ہیں غم بہت تو چلو پھروں ہم دونوں ایک دوسرے ہے وہ ہے وہ رہتے ہیں چاہے یہ زمانہ ہمارے شعر نہ معیار چلو ہم دونوں تو میر و غالب پیسہ ہیں
Lalit Mohan Joshi
3 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Lalit Mohan Joshi.
Similar Moods
More moods that pair well with Lalit Mohan Joshi's nazm.







