"ज़िंदगी है क्या" बे-मन उम्र गुजारना ज़िंदगी है क्या रोज़ टूट कर बिखरना ज़िंदगी है क्या हम को रोज़ आकार हर कोई जीने लगता है और उस का आकार चले जाना ज़िंदगी है क्या ज़िंदगी कितना और सीखना है मुझ पर ये तेरा सितम ढाना ज़िंदगी है क्या दो वक़्त की रोटी के ख़ातिर हर दर पर हाथ फैलाना ज़िंदगी है क्या अगर तुम रखते हो ज़रूरी डिग्री-याफ़्ता तो एक भली नौकरी को तरसना ज़िंदगी है क्या मुसलसल ख़्वाबों के लिए जगना और उन ख़्वाबों का टूटना ज़िंदगी है क्या कुछ नए तजरबे सीखने के ख़ातिर अंगारों पे यूँँ रोज़ चलना ज़िंदगी है क्या जवानी के इस सुहाने सफ़र पर मोहब्बत के लिए दर बदर भटकना ज़िंदगी है क्या ये मसअला समझ आया ही नहीं चोट खाना और फिर सँभालना ज़िंदगी है क्या एक दो नंबरों के खेल में ख़ुद को तबाह करना ज़िंदगी है क्या जितना कम हुआ नंबरों का अंतर उतना नौकरी से दूर जाना ज़िंदगी है क्या गाँव से शहर आया था एक सुलझा लड़का उस का यहाँ उलझ कर रहना ज़िंदगी है क्या
Related Nazm
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
محبوبہ کے نام تو اپنی چٹھیوں ہے وہ ہے وہ میر کے اشعار لکھتی ہے محبت کے بنا ہے زندگی بیکار لکھتی ہے تیرے خط تو عبارت ہیں وفاداری کی قسموں سے جنہیں ہے وہ ہے وہ پیسہ ڈرتا ہوں وہی ہر بار لکھتی ہے تو پیروکار لیلیٰ کی ہے شیریں کی پجارن ہے مگر تو جس پہ بیٹھی ہے حقیقت سونے کا سنگھاسن ہے تیری پلکوں کے مسکارے تیرے ہونٹوں کی یہ لالی یہ تیرے ریشمی کپڑے یہ تیرے کان کی بالی گلے کا یہ چمکتا ہار ہاتھوں کے تیرے کنگن یہ سب کے سب ہے میرے دل میرے احساس کے دشمن کہ ان کے سامنے کچھ بھی نہیں ہے پیار کی قیمت وفا کا مول کیا کیا ہے اعتبار کی قیمت شکستہ کشتیوں ٹوٹی ہوئی پتوار کی قیمت ہے میری جیت سے بڑھکر تو تیری ہار کی قیمت حقیقت خون کے آنسو تجھے جنگل پرستی جاناں تو اپنے فیصلے پر بعد ہے وہ ہے وہ پچھتائےگی جاناں میرے کندھے پہ چھوٹے بھائیوں کی ذمہ داری ہے میرے ماں باپ بوڑھے ہے بہن بھی تو کنواری ہے برہنہ موسموں کے وار کو تو سہ نہ بدلی حویلی چھوڑ کر تو جھونپڑی ہے وہ ہے وہ رہ نہ بدلی بیگانہ غم تیری میری مفلسی کو
Abrar Kashif
50 likes
یہ کس طرح یاد آ رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں کہ چنو سچ مچ نگاہ کے سامنے کھڑی مسکرا رہی ہوں یہ جسم چھوؤں گا یہ نرم باہیں حسین گردن سدول بازو شگفتہ چہرہ سلونی رنگت گھنیرا جوڑا سیاہ گیسو نشیلی آنکھیں رسیلی چت ون دراز پلکیں مہین ابرو تمام شوخی تمام بجلی تمام مستی تمام جادو ہزاروں جادو جگا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں اولیں لب مسکراتے آرِز جبیں کشادہ بلند قامت نگاہ ہے وہ ہے وہ بجلیوں کی جھل مل اداؤں ہے وہ ہے وہ استعمال لطافت دھڑکتا سینا مہکتی سانسیں نوا ہے وہ ہے وہ رس انکھڑیوں ہے وہ ہے وہ امرت ہما حلاوت ہما ملاحت ہما ترنم ہما نزاکت لچک لچک گنگنا رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں تو کیا مجھے جاناں جلا ہی لوگی گلے سے اپنے لگا ہی لوگی جو پھول جوڑے سے گر پڑا ہے تڑپ کے اس کا کو اٹھا ہی لوگی بھڑکتے شعلوں کڑکتی بجلی سے میرا خرمن بچا ہی لوگی گھنیری اگر کی چھاؤں ہے وہ ہے وہ مسکرا کے مجھ کو چھپا ہی لوگی کہ آج تک آزما رہی ہوں یہ خواب کیسا دکھا رہی ہوں نہیں محبت کی کوئی قیمت جو کوئی قیمت ادا کروںگی وفا کی فرصت نہ دےگی
Kaifi Azmi
37 likes
ہم گھوم چکے بستی بن ہے وہ ہے وہ ہے وہ اک آ سے کی فان سے لیے من ہے وہ ہے وہ ہے وہ کوئی ساجن ہوں کوئی پیارا ہوں کوئی دیپک ہوں کوئی تارا ہوں جب جیون رات اندھیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں جب ساون بادل چھائی ہوں جب فاگن پھول کھلائے ہوں جب چندا روپ لٹاتا ہوں جب سورج دھوپ نہاتا ہوں یا شام نے بستی گھری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں ہاں دل کا دامن پھیلا ہے کیوں گوری کا دل میلا ہے ہم کب تک پیت کے دھوکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جاناں کب تک دور جھروکے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کب دید سے دل کو سیری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں کیا جھگڑا سود گٹھلیاں کا یہ کاج نہیں بنجارے کا سب سونا روپا لے جائے سب دنیا دنیا لے جائے جاناں ایک مجھے بہتری ہوں اک بار کہو جاناں مری ہوں
Ibn E Insha
22 likes
"रायगानी-2" जो बात गिनती के कुछ दिनों से शुरू थी वो साल-हा-साल तक चली है कई ज़मानों में बँट गई है मैं इन ज़मानों में लम्हा लम्हा तुम्हारी नज़रों के बिन रहा हूँ मैं अब तलक भी तुम्हारे जाने का बाक़ी नुक़सान गिन रहा हूँ मुझे ज़माना ये कह रहा था कि राइगानी मुबालगा है भला तुम्हारी जुदाई का दुख ज़माँ मकाँ को हिला रहा है भला रिलेटिविटी की साइंस किसी के मुड़ने से मुंसलिक है इन्हें बताओ तुम्हारे जाने का दुख उठा कर फ़क़त अकेला वो मैं नहीं था जो ज़र्रा ज़र्रा बिखर गया था तुम्हारे जाने के कुछ दिनों में हमारा हॉकिंग भी मर गया था और उस की थ्योरी के काले गड्ढे जिन्हें हमेशा तुम्हारी आँखों में देखना था वो मेरे चेहरे पे पड़ गए हैं, वो मेरी आँखों में गड़ गए हैं तुम्हारे जाने के बा'द सब कुछ ही एक अस्सी के ज़ाविए पर पलट गया है कि मेरा होना तुम्हारे होने से मुंसलिक था तुम्हारी आँखों की रौशनी थी तो मैं भी दुनिया में हो रहा था तुम्हारे लहजे के सुर मिले थे तो मैं बना था तुम्हारे हाथों का लम्स हाथों को मिल रहा था तो देखता था हमारे हाथों में एटमों की दफ़ा की कुव्वत कशिश में कैसे बदल रही है पर अब तुम्हारी नज़र कहीं है तुम्हारा लहजा भी अब नहीं है तो तुम बताओ मैं किस तरीक़े से अपनी हस्ती को नैस्ती से जुदा करूँँगा मैं दंग आँखों से सारी दुनिया को देखता हूँ और अपने होने की कोई इल्लत तलाशता हूँ अजीब तरह का बे-निशान बे-मक़ाम दुख है समझने वाले समझ गए थे ये राइगानी है राइगानी तमाम सदियों का ख़ाम दुख है मैं अब हक़ीक़त समझ रहा हूँ तमाम दुख था तमाम दुख है तुम्हें बताऊँ किसी के होने का कोई मक़सद कोई मआ'नी कहीं नहीं है अगर तो नीत्शे नहीं मरा है तो उस से पूछा क्या करेंगे ज़मीं पे रह के पले बढ़ेंगे बका की ख़ातिर लड़े मरेंगे फिर अपने जैसे कई जनेंगे और इस जहाँ से निकल पड़ेंगे जिन्हे जनेंगे वो सब के सब भी यही करेंगे पले बढ़ेंगे लड़े मरेंगे फिर उन के बच्चे और उन के बच्चे ये क्या तमाशा-ए-हा-ओ-हू है ये ज़िंदगी है तो आख थू है
Sohaib Mugheera Siddiqi
23 likes
More from Lalit Mohan Joshi
اک لڑکی یہ پوری دنیا بے حد اچھی لگتی ہے جب حقیقت لڑکی رستہ میرا تکتی ہے پھروں یہ دنیا ساری اپنی لگتی ہے جب پیار سے با ہوں ہے وہ ہے وہ حقیقت لڑکی بھرتی ہے اور یہ ساری دنیا ایک طرف ہے زبان باقی ایک طرف حقیقت لڑکی ہے چہرے کی ا سے کی معصوم حقیقت ہنسی چنو مجھ کو جیون نیا عطا کرتی ہے پھروں مجھ ادھورے سے لڑکے کو ساتھ آ کر مری حقیقت پورا کرتی ہے سارے خواب بھی ملائے گا ہونے لگتے ہیں جب مری ساتھ حقیقت لڑکی رہتی ہے سچ پوچھو تو حقیقت لڑکی ا سے نادان لڑکے کو آ کر نادان سے حقیقت سمجھدار کرتی ہے ا سے پیاری سی لڑکی کو ہے وہ ہے وہ کیا ک ہوں مری ہر غزل کو حقیقت مکمل کرتی ہے حقیقت لڑکی مری غزل کے مطلعے سے شروع ہوکر شعر قافیہ ردیف سے ہوکر مقطعے پر رکتی ہے حقیقت لڑکی کبھی بہر ہے وہ ہے وہ تو کبھی بنا بہر کے بھی خوبصورت لگتی ہے ساتھ ہے وہ ہے وہ ا سے کے چار قدم ب سے چل پاؤں مری خدا سے ب سے یہی دعا رہتی ہے
Lalit Mohan Joshi
4 likes
حکمران لوٹا ہے کسانوں بھوک نے مری دیش کو لوٹا ہے ان امیرو نے مری دیش کو اور ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بدلتے حکمرانوں نے لوٹا ہے مری دیش کو روتے بچے کے ہاتھ ہے وہ ہے وہ چنو دیتے ہیں کھلونا ویسے یہ حکمران چپ کراتے ہیں مری دیش کو کیسے کیسے پرلوبھن سے اپنے کوکرم چھپاتے ہیں یہ حکمران ایسے بہلاتے فسلاتے ہیں مری دیش کو جھوٹ ان کے بکتے ہیں سر بازار ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے بازار کا ہر دکاندار ڈراتا ہے مری کو چپ ہیں لب سی گئے ہیں غلط ہے سو یہ زخم پہ زخم دیتے ہیں مری دیش کو سنا ہے چناوی سمے ہے چلو کچھ کرتے ہیں سبب بتاتے ہیں ان کو جو آنکھ دکھاتے ہیں مری دیش کو
Lalit Mohan Joshi
3 likes
नज़्म - वो क्या है उस की आँखें कैसी हैं उस की आँखें रब सी हैं उस की बातें कैसी हैं उस की बातें रौनक़ हैं उस की यादें कैसी हैं मेरी रातों जैसी हैं उस की यादें हिज्र है क्या ये फ़क़त बेकार किस ने बोली है उस का चेहरा कैसा है उस का चेहरा चाँद सा है उस की ज़ुल्फ़ें कैसी है उस की ज़ुल्फ़ें क़ाएनात है उस का साथ चलना क्या है मेरा आगे और आगे बढ़ना है उस की बिंदिया कैसी है माथे पर चाँद जैसी है उस का बोलना कैसा है सारे फ़ज़ा में फ़क़त प्यार ही घोलना है बाग़ में उस का होना कैसा है सारे फूलों को बस खिलना है उस सेे मुहब्बत किस को है उस सेे मुहब्बत सब को है जिस को उस ने चाहा है उस का मुक़द्दर रब ने लिक्खा है मेरी ग़ज़लें मेरी नज़्में क्या है उन के सारे हर्फ़ और सारे मिसरे उस पर है मेरी ग़ज़ल का मतला क्या है उस का चेहरा है शे'र के मिसरे क्या हैं उस की दो आँखें हैं ग़ज़ल का क़ाफ़िया क्या है क़ाफ़िया उस के लब हैं तो रदीफ़ क्या है वो उस की सुंदरता है बताओ फिर मक़्ता क्या है वो उस का दिल है उसपर क्या क्या जँचता है उस पर साड़ी सूट सब जँचता है उस के गाल में पड़ता वो गड्ढा देखो मुझ को दीवाना करता है उस का हुस्न तो है बहुत सुंदर रूह में उस के रब बसता है
Lalit Mohan Joshi
4 likes
خوشی خوشی تری ہوں یا مری خوشی خوشی ہوتے ہیں خوشی کا کوئی لگ مذہب ہوتا ہے لگ کوئی ذات ہوتی ہے خوشی خوشی ہوتے ہیں کبھی یہ سنبھالتے ہیں تو کبھی بگاڑتے ہیں زندہ ہیں تو خوشی ہیں ہے بعد موت کے بھی خوشی شجر کے اپنے خوشی ہیں شاخ کے بھی اپنے خوشی ہیں پھول کے اپنے خوشی ہیں کلی کے بھی اپنے خوشی ہیں آنکھ کے اپنے خوشی ہیں ذہن کے اپنے خوشی ہیں لب کے اپنے خوشی ہیں دل کے بھی کچھ خوشی ہیں دریا کے اپنے خوشی ہیں سمندر کے اپنے خوشی ہیں معشوقہ کے اپنے خوشی ہیں معشوق کے اپنے خوشی ہیں راہ چلتے راہی کے خوشی ہیں طوائف کے اپنے خوشی ہیں زخم کے اپنے خوشی ہیں تو مرہم کے اپنے خوشی ہیں وفا کے اپنے خوشی ہیں بےوفا کے بھی اپنے خوشی ہیں کسانوں کے اپنے خوشی ہیں بیگا لگ غم کے اپنے خوشی ہیں بنا بام و دیوار کے خوشی ہیں تو بام و دیوار ہے وہ ہے وہ بھی خوشی ہیں بچپن کے تھوڑے خوشی ہیں جوانی ہے وہ ہے وہ زیادہ خوشی ہیں بڑھا پہ تو اشکوں کا خوشی ہیں ضروری نہیں غم کے خوشی ہیں خوشی کے اپنے خوشی ہیں
Lalit Mohan Joshi
3 likes
پسی لگ بہاتا چل پسی لگ اپنے ماتھے سے بہاتا چل گیت اپنی جیت کے یوں گاتا چل منزل پرکھتی ہے تو پرکھنے دے پھروں بھی روز نیا قدم بڑھاتا چل سمے دےگا اپنے حساب سے م گر ہر روز نئی غزلیں سناتا چل بہر بے بحر سب کو بھول پہلے تو خیالوں کے ساتھ خود کو بہاتا چل محفل آج تری حق ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تو کیا م گر تو اپنے دلکش نظارے سناتا چل آندھیوں نے راستہ کب کس کا روکا ہے تو ب سے ان کو اپنا ٹھینگا دکھاتا چل صبح اک روز درد سے تڑپا تھا م گر ماں کی دعا کو نرم گفتاری خود کو جگاتا چل ہندو مسلم مندیر مسجد کیا رکھا ہے تو ب سے بہتر خود کو انسان بناتا چل خدا نے کیوں بھیجا ہے تجھ کو ی ہاں پتا ہے تو بھی خود کو ب سے بہتر انسان بناتا چل
Lalit Mohan Joshi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Lalit Mohan Joshi.
Similar Moods
More moods that pair well with Lalit Mohan Joshi's nazm.







