آنکھیں مچلتی جھیل سی مانو کوئی دریا ہے یہ آنکھیں تمہارے دل کو جانے کا کوئی ذریعہ ہے یہ آنکھیں تمہارے بال اوپر سے یہ مانو رشک کرتے ہیں جہاں سے خوبصورت ہے بہت بڑھیا ہیں یہ آنکھیں مجھے حیران کرتی ہے میرے خوابوں ہے وہ ہے وہ آ کر کے کبھی مجھ کو ڈراتی ہے مجھے غصہ دکھا کر کے خوشی سے جھوم جاتا ہوں اگر حقیقت سامنے ہوں تو جہاں ہے وہ ہے وہ ہے نہیں دوجا میرے محبوب سی آنکھیں نہ سوتا ہوں نہ روتا ہوں اسے ہی یاد کرتا ہوں نہ جانے بن گئی کیسے مری دنیا وہی آنکھیں بھروسا تھا وہی آنکھیں تو جستجو دل شکستہ ہے اسمبھو تھا بھلا کیسا یہ جادو کر گیا تو معشوق کی آنکھیں نظر سے دکھ ہی جاتا ہے دلوں ہے وہ ہے وہ کھلبلی ہوں تو زمانہ پوچھتا ہے اب بنےگا آ سے کیا آنکھیں جسے آنکھیں دکھاتے ہوں وہی تو رہنما تھا پھروں سمے بدلا تو پتھر بن گئی دیکھو کئی آنکھیں کبھی تو سوچ لو ان کا جو جاناں سے دور بیٹھے ہیں حقیقت آنکھیں کہ رہی ہے دیکھ لینا آئےگا اک دن جو مجھ سے دور رہتا ہے میری آنکھیں بنےگا حقیقت حقیقت بوڑھا آدمی ہے آ سے ہے و
Related Nazm
انجام ہیں لبریز آ ہوں سے ٹھنڈی ہوائیں اداسی ہے وہ ہے وہ ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں مچلتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ لاکھ آرزوئیں تڑپتی ہیں آنکھوں ہے وہ ہے وہ لاکھ الت جائیں ت غافل کی آغوش ہے وہ ہے وہ سو رہے ہیں تمہارے ستم اور مری وفائیں م گر پھروں بھی اے مری معصوم قاتل تمہیں پیار کرتی ہیں مری دعائیں
Faiz Ahmad Faiz
27 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
یار یار تھا ہے وہ ہے وہ تمہارا یا قاف یوں کوئی سیڑھی منزل تک پہنچ گئے پیچھے دیکھا تک نہیں جو سیکھ کسی نے نہیں حقیقت سیکھ پیڑوں نے دی چھاؤں لیتے رہے م گر تمہاری آری رکی نہیں بچپن ہے وہ ہے وہ کھیلا کرتے ساتھ ہم سانپ سیڑھی اترا یہ زندگی ہے وہ ہے وہ کب بھنبھک تک لگی نہیں سپنے بھی ساتھ بنے تھے بے حد نومی گرا بھی تھی کئی بادلوں کی سیر پر نکل گئے جاناں پر ہے وہ ہے وہ نہیں ا گر رخصت کی ہوتی خبر ذرا سی بھی تب ماں سے دو روٹی زیادہ بنواتا نہیں ارپت ہے وہ ہے وہ نے گھوم پھروں کر یہی بات ہے معنی کئی ملیںگے ان کے چنو یہ ظالم اکیلے نہیں
Arpit Sharma
13 likes
بندہ اور خدا ایک بڑھوا سی کہانی ہے جو وقار کہ منا زبانی ہے یہ حکومت آسمانی ہے ہر مخلوق روحانی ہے یہ خدا کی مہربانی ہے کی سجدوں ہے وہ ہے وہ جھکتی پیشانی ہے یہ ساری دنیا فانی ہے ہر بے وجہ کو موت آنی ہے یہ انسانیت عیاشی کی دیوانی ہے ہر بے وجہ کی ڈھلتی جوانی ہے قدرت کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا یہ آ رہے عذاب خوشگوار کی نشانی ہے یہ لوگوں کی گمراہی اور بڑی نادانی ہے کی ک ہاں اوپر خدا کو شکل ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ دکھانی ہے
ZafarAli Memon
20 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
More from ABHISHEK RANJAN
मेरी वाली नज़रों ही नज़रों में बातें करती है अपने ही धुन में वो खोई रहती है पैसा दौलत की उस को परवाह नहीं इश्क़ में सच्चा मजनूॅं उस को भाता है लंबी है माना पर दिल की सच्ची है जैसी भी हो मेरी वाली अच्छी है ज़ुल्फ़ बिखेरे गलियों में जब घू में वो ख़्वाहिश मेरी मेरा माथा चू में वो मैं रक्खूॅं रोज़ा वो भी उपवास करे हर लम्हा हर पल वो मेरे साथ रहे मुझ को देखे मुझ को सोचे बात करे मेरे ही ख़्वाबों में वो दिन रात करे ऐ मालिक तू मेरा उस को कर देना हाथ में मेहॅंदी मेरे नाम की भर देना
ABHISHEK RANJAN
0 likes
माँ मेरी ख़्वाहिश मेरी माता मेरा जीवन मेरी माता अगर आया हूँ दुनिया में वो ज़रिया हैं मेरी माता जो मेरी बात करती हैं ज़माने से भी लड़ जाऍं मुझे दर्पण दिखाती हैं ग़लत क्या है सही क्या है मुझे ग़ुस्सा दिखाती हैं मुझे पुचकारती भी हैं मगर दिल की वो सच्ची हैं वो जग में सब सेे अच्छी हैं मेरे अरमान के ख़ातिर वो आधी पेट खाती है वो ख़ुद का ग़म छुपाती हैं मुझे हँस के दिखाती हैं उन्हें उम्मीद है मुझ सेे करूँँगा नाम मैं रौशन बनूँगा शान मैं उन का उन्हीं के राह पे चल कर कभी जो टूट जाता हूँ सफ़र में छूट जाता हूँ वही इक हाथ देती हैं मुझे गिरने नहीं देती वो कहती हैं मेरे बेटे करो मेहनत रखो हिम्मत करो कोशिश सदा हरदम अभी उम्मीद मत हारो ज़रा सी आँधियाँ हैं ये तुम्हारा क्या बिगाड़ेंगी यक़ीनन चंद लम्हों में तुम्हें मंज़िल बुलाएगी वही जो दूर है तुम सेे वही फिर पास आएँगे जो रिश्ता तोड़ बैठे हैं वही अपना बुलाएँगे समय का खेल है सब कुछ समय ही सब बताएगा क़दम रोको नहीं इक दिन यही मंज़िल दिलाएगा भला कैसे बता रंजन ग़लत का रास्ता चुनता हाँ माँ के आँख में आँसू भला क्या देख सकता है
ABHISHEK RANJAN
0 likes
نظر نظر کے سامنے رہنا نظر کے پا سے ہی رہنا نظر کی جو ضرورت ہوں وہی اب کام جاناں کرنا مجھے معلوم ہے اب یہ ہری ہوں نہیں سکتا نظر بھر دیکھ بھی تو لوں گزارا ہوں نہیں سکتا نظر کی بات کرتا ہوں نظر پہ رات کرتا ہوں فریبی حسن کہتی ہے تو ا سے سے جا تمنائیں ہوں مجھے تو شوق دی کا تمہارا کیا کروں بولو نظر بھر دیکھ لو جانا ہے وہ ہے وہ دنیا چھوڑ جاؤں گا نظر کا کھیل ہے سب کچھ نظر کا جال ہے سب کچھ نظر دیکھو گھراتا ہے نظر دیکھو اٹھاتا ہے نظر چاہے بگاڑےگی نظر چاہے سدھارےگی نظریہ ہے تمہارا کیا نظر خود ہی بتائےگی نظر کے جال ہے وہ ہے وہ پڑھنے لگیں سے بہتر مر ہی جانا ہے نظر گر ڈالنی ہے تو چلو پستک پہ ڈالو جاناں صحیح رنجن کہا جاناں نے نظر پہ کیا بھروسا ہے
ABHISHEK RANJAN
0 likes
توبہ ہے رنجن کل سے سب چیزوں سے توبہ ہے مجھ کو ا سے کی اذیت ناک سے توبہ ہے میرا ہوں کے نہیں میرا جو بن پائے مجھ کو ہاں ایسے لوگوں سے توبہ ہے دکھلانا ہے مجھ کو سیرت دکھلاؤ پیاری منموہک شکلوں سے توبہ ہے کب تک وعدہ کر کے نہیں نبھائیں گے دیش کی ہاں ان غداروں سے توبہ ہے پیار ہے وہ ہے وہ ہارے لڑکے مری بات سنے اب سے ان سستے ہیروں سے توبہ ہے چھوڑو بھی اب کتنا آگے جاؤگے رنجن تیری لمبی نظموں سے توبہ ہے
ABHISHEK RANJAN
0 likes
"वही जो" वही जो ख़ूब-सूरत है बहुत वो वही जो दिल में मेरे बस चुकी है वही जो मुझ सेे तो कुछ भी न कहती दिलों से बात करती है वो अक्सर इशारे में मुझे कहती है सब कुछ वही जो दिल की है अच्छी बहुत वो मुझे यूँॅं पास में अपने सुलाती मुझे वो रात को लोरी सुनाती मेरे नख़रे ख़ुशी से झेलती है वो अक्सर साथ मेरे खेलती है मुझे संसार का राजा बुलाती मैं रोता तो मुझे सीने लगाती अगर मैं बोल सकता तो मैं कहता हाँ तुम हो प्रेम की संगम मेरी माँ मुझे कहती है तुम इक काम करना बड़ा होकर के जग में नाम करना ग़रीबों की सदा इज़्ज़त हाँ करना ग़लत का साथ भी देना नहीं तुम
ABHISHEK RANJAN
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on ABHISHEK RANJAN.
Similar Moods
More moods that pair well with ABHISHEK RANJAN's nazm.







