nazmKuch Alfaaz

माँ मेरी ख़्वाहिश मेरी माता मेरा जीवन मेरी माता अगर आया हूँ दुनिया में वो ज़रिया हैं मेरी माता जो मेरी बात करती हैं ज़माने से भी लड़ जाऍं मुझे दर्पण दिखाती हैं ग़लत क्या है सही क्या है मुझे ग़ुस्सा दिखाती हैं मुझे पुचकारती भी हैं मगर दिल की वो सच्ची हैं वो जग में सब सेे अच्छी हैं मेरे अरमान के ख़ातिर वो आधी पेट खाती है वो ख़ुद का ग़म छुपाती हैं मुझे हँस के दिखाती हैं उन्हें उम्मीद है मुझ सेे करूँँगा नाम मैं रौशन बनूँगा शान मैं उन का उन्हीं के राह पे चल कर कभी जो टूट जाता हूँ सफ़र में छूट जाता हूँ वही इक हाथ देती हैं मुझे गिरने नहीं देती वो कहती हैं मेरे बेटे करो मेहनत रखो हिम्मत करो कोशिश सदा हरदम अभी उम्मीद मत हारो ज़रा सी आँधियाँ हैं ये तुम्हारा क्या बिगाड़ेंगी यक़ीनन चंद लम्हों में तुम्हें मंज़िल बुलाएगी वही जो दूर है तुम सेे वही फिर पास आएँगे जो रिश्ता तोड़ बैठे हैं वही अपना बुलाएँगे समय का खेल है सब कुछ समय ही सब बताएगा क़दम रोको नहीं इक दिन यही मंज़िल दिलाएगा भला कैसे बता रंजन ग़लत का रास्ता चुनता हाँ माँ के आँख में आँसू भला क्या देख सकता है

Related Nazm

مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ

Afkar Alvi

78 likes

جذبات جو یہ آنکھوں سے بہ رہا ہے کتنے ہم لاچار ہے جاناں سمجھو تو انتظار ہے ورنا کوئی انتظار نہیں تمہاری یاد ہے وہ ہے وہ ایسے ڈوبا چنو کوئی بیمار ہے جاناں سمجھو تو بے قرار ہے ورنا کوئی بے قرار نہیں جو مری دھڑکن چل رہی ہے ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے تمہارا نام ہے جاناں سمجھو تو یہ پکار ہے ورنا کوئی پکار نہیں ان ہاتھوں سے تمہاری زلفیں سنو ارنی ہیں ہر شام تمہارے ساتھ گزار لگ ہے جاناں سمجھو تو یہ دلار ہے ورنا کوئی دلار نہیں تمہارے ب سے دل ہے وہ ہے وہ جگہ نہیں تمہاری روح سے رشتہ چاہیے جاناں سمجھو تو یہ آر پار ہے ورنا کچھ آر پار نہیں تمہیں مل تو جائےگا مجھ سے اچھا سامنے تمہارے تو قطار ہے تمہیں پتا ہے نا تمہاری چاہت کا ب سے ایک حق دار ہے باقی کوئی حق دار نہیں تمہاری بان ہوں ہے وہ ہے وہ ہی سکون ملےگا مجھے سچ ک ہوں تو درکار ہے جاناں سمجھو تو یہ بہار ہے ورنا کہی بہار نہیں تمہاری گود ہے وہ ہے وہ آرام چاہیے تمہاری آواز ہے وہ ہے وہ ب سے اپنا نام چاہیے جاناں سمجھو تو یہ قرار ہے<br

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ

Faiz Ahmad Faiz

73 likes

میرا سنسر میرے من کا سکون بھی جاناں ہوں جاناں ہی میری منزل اس کا کا کا جنون بھی جاناں ہوں میرا دن بھی جاناں ہوں میری رات بھی جاناں ہوں میری نیند بھی جاناں ہوں میرے جذبات بھی جاناں ہوں میرا ہر لمحہ جاناں ہوں میرے حالات بھی جاناں ہوں میرا جیون بھی جاناں ہوں اس کی مستی بھی جاناں ہوں ہوں اگر ہے وہ ہے وہ منجھدار تو پھروں اس کی کشتی بھی جاناں ہوں اگر ہوں ہے وہ ہے وہ شریر تو اس کی استھی بھی جاناں ہوں اور ہوں اگر ہے وہ ہے وہ آتما تو اس کی مکتی بھی جاناں ہوں میرا ویراغیا بھی جاناں ہوں میری آسکتی بھی جاناں ہوں میرا ایشور بھی جاناں ہوں میری بھکتی بھی جاناں ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اگر دل ہوں تو اس کی دھڑکن بھی جاناں ہوں میری ہر بات جاناں ہوں میری تڑپن بھی جاناں ہوں میری سوتنترتا بھی جاناں ہوں میرا بندھن بھی جاناں ہوں میرا سکھ بھی جاناں ہوں میری مسکان بھی جاناں ہوں میرا دکھ بھی جاناں ہوں میرا سممان بھی جاناں ہوں میرا بل بھی جاناں ہوں میرا سوابھیمان بھی جاناں ہوں میری پرارتھنا بھی جاناں ہ

Divya 'Kumar Sahab'

37 likes

More from ABHISHEK RANJAN

توبہ ہے رنجن کل سے سب چیزوں سے توبہ ہے مجھ کو ا سے کی اذیت ناک سے توبہ ہے میرا ہوں کے نہیں میرا جو بن پائے مجھ کو ہاں ایسے لوگوں سے توبہ ہے دکھلانا ہے مجھ کو سیرت دکھلاؤ پیاری منموہک شکلوں سے توبہ ہے کب تک وعدہ کر کے نہیں نبھائیں گے دیش کی ہاں ان غداروں سے توبہ ہے پیار ہے وہ ہے وہ ہارے لڑکے مری بات سنے اب سے ان سستے ہیروں سے توبہ ہے چھوڑو بھی اب کتنا آگے جاؤگے رنجن تیری لمبی نظموں سے توبہ ہے

ABHISHEK RANJAN

0 likes

ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے معلوم ہے یہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں ابھی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں حقیقت لڑکا کچھ نہیں کر پائے گا اب یہ تہمت مسکرا کے لکھ رہا ہوں دیوالی ہے وہ ہے وہ بھی گھر سنسان میرا قاف یوں پرچھائیوں کا یک ج ہاں ہوں تمہارے بعد دیکھو کیا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی موت کے دن گن رہا ہوں جو محنت کر رہے ہوں شفت مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ قسمت کا نہیں تیرا ج ہاں ہوں کہےگا کون ا سے حالت ہے وہ ہے وہ رنجن ذرا ٹھہرو ہے وہ ہے وہ تیرا ہم ر ہاں ہوں

ABHISHEK RANJAN

0 likes

मेरी वाली नज़रों ही नज़रों में बातें करती है अपने ही धुन में वो खोई रहती है पैसा दौलत की उस को परवाह नहीं इश्क़ में सच्चा मजनूॅं उस को भाता है लंबी है माना पर दिल की सच्ची है जैसी भी हो मेरी वाली अच्छी है ज़ुल्फ़ बिखेरे गलियों में जब घू में वो ख़्वाहिश मेरी मेरा माथा चू में वो मैं रक्खूॅं रोज़ा वो भी उपवास करे हर लम्हा हर पल वो मेरे साथ रहे मुझ को देखे मुझ को सोचे बात करे मेरे ही ख़्वाबों में वो दिन रात करे ऐ मालिक तू मेरा उस को कर देना हाथ में मेहॅंदी मेरे नाम की भर देना

ABHISHEK RANJAN

0 likes

زندگی کی گنت دل میں آگے کوئی ایڈیشن نہیں ہو سکتا ٹوٹ چکا ہوں کوئی تربیت نہیں ہو سکتا پائیتھاگورس تھیورم تم پر حاوی ہے لو میں کوئی ٹرائینگل نہیں ہو سکتا اب آگے کوئی فریکشن نہیں ہو سکتا آگے کوئی سبسٹرکشن نہیں ہو سکتا ٹریپیجیئم سا چہرہ بنا ڈالا تم نے مجھ کو کہتی ہو پھروں کیوں سکوائر بنو ڈےسی سینٹی ہیکٹو سب نے بولا تھا یہ دل کا اینگل سم پراپرٹی کرواؤ پھروں پروف کروں کہ دونوں سائیڈ سے ایکول ہے جیون میں تو تم نے ہی بوڈماس دیے تھے ان زخموں کا اب سولوشن نہیں ہو سکتا رنجن جیون میں اور میتھ میں کیا انتر دونوں گر قبلہ حاجات جائے تو غصہ آتا ہے

ABHISHEK RANJAN

0 likes

ناکامی ناکامی ہے وہ ہے وہ گھرا ہوا دیکھو رنجن اپنا کوئی مجھ کو آج لگ لگتا ہے ذمہ داری مجھ پر دیکھو بھاری ہے چپ ہی رہنا مری تو لاچاری ہے جو سوچا تھا آج بھی ا سے سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمے کے ہاتھوں ہاں رنجن مجبور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جگ ہنستا ہے مجھ پر مجھ کو فرق نہیں جو اپنا ہے حقیقت کیوں مجھ پر ہنستا ہے ادھر ادھر کے لوگ بھی مجھ کو کیا جانے اپنے بچوں کو نینن حقیقت کہتا ہے دیکھو لڑکا ا سے سے جاناں تو دور رہو سفل نہیں جو حقیقت کیا سفل بنائےگا گھر کے پیسوں پر ہی دیکھو پالتا ہے دیکھو تو کیسے حقیقت شان سے چلتا ہے پاپا کی پونجی ہے وہ ہے وہ آگ لگاتا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ رہ کر حقیقت موج اڑاتا ہے بولو رنجن ایسے کو ہے وہ ہے وہ کیا بولوں ہاں سچ ہے اب تک بلکل ناکام ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل تھوڑی دور صحیح لیکن دیکھو مرتے دم تک ہے وہ ہے وہ تو ہار لگ مانوں گا ابھی تو دکھ کے بٹھاتا کو سہنا ہے جیب ہے خالی مجھ کو تنہا رہنا ہے ہاں کالی میگھا کہ یہ تو آہٹ ہے مجھ کو منزل ب سے تیری

ABHISHEK RANJAN

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ABHISHEK RANJAN.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ABHISHEK RANJAN's nazm.