ناکامی ناکامی ہے وہ ہے وہ گھرا ہوا دیکھو رنجن اپنا کوئی مجھ کو آج لگ لگتا ہے ذمہ داری مجھ پر دیکھو بھاری ہے چپ ہی رہنا مری تو لاچاری ہے جو سوچا تھا آج بھی ا سے سے دور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمے کے ہاتھوں ہاں رنجن مجبور ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جگ ہنستا ہے مجھ پر مجھ کو فرق نہیں جو اپنا ہے حقیقت کیوں مجھ پر ہنستا ہے ادھر ادھر کے لوگ بھی مجھ کو کیا جانے اپنے بچوں کو نینن حقیقت کہتا ہے دیکھو لڑکا ا سے سے جاناں تو دور رہو سفل نہیں جو حقیقت کیا سفل بنائےگا گھر کے پیسوں پر ہی دیکھو پالتا ہے دیکھو تو کیسے حقیقت شان سے چلتا ہے پاپا کی پونجی ہے وہ ہے وہ آگ لگاتا ہے دہلی ہے وہ ہے وہ رہ کر حقیقت موج اڑاتا ہے بولو رنجن ایسے کو ہے وہ ہے وہ کیا بولوں ہاں سچ ہے اب تک بلکل ناکام ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ منزل تھوڑی دور صحیح لیکن دیکھو مرتے دم تک ہے وہ ہے وہ تو ہار لگ مانوں گا ابھی تو دکھ کے بٹھاتا کو سہنا ہے جیب ہے خالی مجھ کو تنہا رہنا ہے ہاں کالی میگھا کہ یہ تو آہٹ ہے مجھ کو منزل ب سے تیری
Related Nazm
تو کسی اور ہی دنیا ہے وہ ہے وہ ملی تھی مجھ سے تو کسی اور ہی موسم کی مہک لائی تھی ڈر رہا تھا کہ کہی زخم لگ بھر جائیں مری اور تو مٹھیاں بھر بھر کے نمک لائی تھی اور ہی طرح کی آنکھیں تھی تری چہرے پر تو کسی اور ستارے تم سے چمک لائی تھی تیری آواز ہی سب کچھ تھی مجھے مون سے جاں کیا کروں ہے وہ ہے وہ کہ تو بولی ہی بے حد کم مجھ سے تیری چپ سے ہی یہی محسو سے کیا تھا ہے وہ ہے وہ نے جیت جائےگا تیرا غم کسی روز مجھ سے شہر آوازیں لگاتا تھا م گر تو چپ تھی یہ تعلق مجھے تقاضا تھا م گر تو چپ تھی وہی انجام تھا جو عشق کا آغاز سے ہے تجھ کو پایا بھی نہیں تھا کہ تجھے کھونا تھا چلی آتی ہے یہی رسم کئی صدیوں سے یہی ہوتا ہے یہی ہوگا یہی ہونا تھا پوچھتا رہتا تھا تجھ سے کہ بتا کیا دکھ ہے اور مری آنکھ ہے وہ ہے وہ آنسو بھی نہیں ہوتے تھے ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے اندازے لگائے کے سبب کیا ہوگا پر مری تیر ترازو بھی نہیں ہوتے تھے جس کا ڈر تھا مجھے معلوم پڑا لوگوں سے پھروں حقیقت خوش بخت پلٹ آیا تیری دنیا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج سے کے جانے پہ مجھے تو نے جگہ دی دل ہے
Tehzeeb Hafi
180 likes
مریم ہے وہ ہے وہ ہے وہ آئینوں سے گریز کرتے ہوئے پہاڑوں کی کوکھ ہے وہ ہے وہ سان سے لینے والی ادا سے جھیلوں ہے وہ ہے وہ اپنے چہرے کا عک سے دیکھوں تو سوچتا ہوں کہ مجھ ہے وہ ہے وہ ایسا بھی کیا ہے مریم تمہاری بے ساختہ محبت ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہ پھیلے ہوئے سمندر کی وسعتوں سے بھی ماورا ہے محبتوں کے سمندروں ہے وہ ہے وہ ب سے ایک بحرہ ہجر ہے جو برا ہے مریم خلا نوردوں کو جو ستارے تم معاوضے ہے وہ ہے وہ ملے تھے حقیقت ان کی روشنی ہے وہ ہے وہ یہ سوچتے ہیں کہ سمے ہی تو خدا ہے مریم اور ا سے مقدم کی گٹھریوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رکی ہوئی ساعتوں سے ہٹکر مری لیے اور کیا ہے مریم ابھی بے حد سمے ہے کہ ہم سمے دے ذرا اک دوسرے کو م گر ہم اک ساتھ رہ کر بھی خوش لگ رہ سکے تو معاف کرنا کہ ہے وہ ہے وہ نے بچپن ہی دکھ کی دہلیز پر گزارا ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان چراغوں کا دکھ ہوں جن کی لوے شب انتظار ہے وہ ہے وہ بجھ گئی م گر ان سے اٹھنے والا دھواں زمان و مکان ہے وہ ہے وہ پھیلا ہوا ہے اب تک ہے وہ ہے وہ ہے وہ نشان نقش پا اور ان کے جسموں سے بہنے والی ان آبشاروں کا دکھ ہوں جن ک
Tehzeeb Hafi
158 likes
مرشد مرشد پلیز آج مجھے سمے دیجئے مرشد ہے وہ ہے وہ آج آپ کو دکھڑے سناؤںگا مرشد ہمارے ساتھ بڑا ظلم ہوں گیا تو مرشد ہمارے دیش ہے وہ ہے وہ اک جنگ چھڑ گئی مرشد سبھی غنیم شرافت سے مر گئے مرشد ہمارے ذہن گرفتار ہوں گئے مرشد ہماری سوچ بھی بازاری ہوں گئی مرشد ہماری فوج کیا لڑتی حریف سے مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی مرشد بے حد سے مار کے ہم خود بھی مر گئے مرشد ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جرح نہیں تلوار دی گئی مرشد ہماری ذات پہ بہتان چڑھ گئے مرشد ہماری ذات پلاندوں ہے وہ ہے وہ دب گئی مرشد ہمارے واسطے ب سے ایک بے وجہ تھا مرشد حقیقت ایک بے وجہ بھی تقدیر لے اڑی مرشد خدا کی ذات پہ اندھا یقین تھا افسو سے اب یقین بھی اندھا نہیں رہا مرشد محبتوں کے نتائج ک ہاں گئے مرشد مری تو زندگی برباد ہوں گئی مرشد ہمارے گاؤں کے بچوں نے بھی کہا مرشد کوں آخہ آ کے صدا حال دیکھ وجہ مرشد ہمارا کوئی نہیں ایک آپ ہیں یہ ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں کے اچھا نہیں ہوا مرشد ہے وہ ہے وہ جل رہا ہوں ہوائیں لگ دیجئے مرشد ازالہ کیجیے دعائیں لگ دیجئے مرشد خاموش رہ
Afkar Alvi
78 likes
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا
Kumar Vishwas
81 likes
More from ABHISHEK RANJAN
मेरी वाली नज़रों ही नज़रों में बातें करती है अपने ही धुन में वो खोई रहती है पैसा दौलत की उस को परवाह नहीं इश्क़ में सच्चा मजनूॅं उस को भाता है लंबी है माना पर दिल की सच्ची है जैसी भी हो मेरी वाली अच्छी है ज़ुल्फ़ बिखेरे गलियों में जब घू में वो ख़्वाहिश मेरी मेरा माथा चू में वो मैं रक्खूॅं रोज़ा वो भी उपवास करे हर लम्हा हर पल वो मेरे साथ रहे मुझ को देखे मुझ को सोचे बात करे मेरे ही ख़्वाबों में वो दिन रात करे ऐ मालिक तू मेरा उस को कर देना हाथ में मेहॅंदी मेरे नाम की भर देना
ABHISHEK RANJAN
0 likes
آنکھیں مچلتی جھیل سی مانو کوئی دریا ہے یہ آنکھیں تمہارے دل کو جانے کا کوئی ذریعہ ہے یہ آنکھیں تمہارے بال اوپر سے یہ مانو رشک کرتے ہیں جہاں سے خوبصورت ہے بہت بڑھیا ہیں یہ آنکھیں مجھے حیران کرتی ہے میرے خوابوں ہے وہ ہے وہ آ کر کے کبھی مجھ کو ڈراتی ہے مجھے غصہ دکھا کر کے خوشی سے جھوم جاتا ہوں اگر حقیقت سامنے ہوں تو جہاں ہے وہ ہے وہ ہے نہیں دوجا میرے محبوب سی آنکھیں نہ سوتا ہوں نہ روتا ہوں اسے ہی یاد کرتا ہوں نہ جانے بن گئی کیسے مری دنیا وہی آنکھیں بھروسا تھا وہی آنکھیں تو جستجو دل شکستہ ہے اسمبھو تھا بھلا کیسا یہ جادو کر گیا تو معشوق کی آنکھیں نظر سے دکھ ہی جاتا ہے دلوں ہے وہ ہے وہ کھلبلی ہوں تو زمانہ پوچھتا ہے اب بنےگا آ سے کیا آنکھیں جسے آنکھیں دکھاتے ہوں وہی تو رہنما تھا پھروں سمے بدلا تو پتھر بن گئی دیکھو کئی آنکھیں کبھی تو سوچ لو ان کا جو جاناں سے دور بیٹھے ہیں حقیقت آنکھیں کہ رہی ہے دیکھ لینا آئےگا اک دن جو مجھ سے دور رہتا ہے میری آنکھیں بنےگا حقیقت حقیقت بوڑھا آدمی ہے آ سے ہے و
ABHISHEK RANJAN
0 likes
माँ मेरी ख़्वाहिश मेरी माता मेरा जीवन मेरी माता अगर आया हूँ दुनिया में वो ज़रिया हैं मेरी माता जो मेरी बात करती हैं ज़माने से भी लड़ जाऍं मुझे दर्पण दिखाती हैं ग़लत क्या है सही क्या है मुझे ग़ुस्सा दिखाती हैं मुझे पुचकारती भी हैं मगर दिल की वो सच्ची हैं वो जग में सब सेे अच्छी हैं मेरे अरमान के ख़ातिर वो आधी पेट खाती है वो ख़ुद का ग़म छुपाती हैं मुझे हँस के दिखाती हैं उन्हें उम्मीद है मुझ सेे करूँँगा नाम मैं रौशन बनूँगा शान मैं उन का उन्हीं के राह पे चल कर कभी जो टूट जाता हूँ सफ़र में छूट जाता हूँ वही इक हाथ देती हैं मुझे गिरने नहीं देती वो कहती हैं मेरे बेटे करो मेहनत रखो हिम्मत करो कोशिश सदा हरदम अभी उम्मीद मत हारो ज़रा सी आँधियाँ हैं ये तुम्हारा क्या बिगाड़ेंगी यक़ीनन चंद लम्हों में तुम्हें मंज़िल बुलाएगी वही जो दूर है तुम सेे वही फिर पास आएँगे जो रिश्ता तोड़ बैठे हैं वही अपना बुलाएँगे समय का खेल है सब कुछ समय ही सब बताएगा क़दम रोको नहीं इक दिन यही मंज़िल दिलाएगा भला कैसे बता रंजन ग़लत का रास्ता चुनता हाँ माँ के आँख में आँसू भला क्या देख सकता है
ABHISHEK RANJAN
0 likes
نظر نظر کے سامنے رہنا نظر کے پا سے ہی رہنا نظر کی جو ضرورت ہوں وہی اب کام جاناں کرنا مجھے معلوم ہے اب یہ ہری ہوں نہیں سکتا نظر بھر دیکھ بھی تو لوں گزارا ہوں نہیں سکتا نظر کی بات کرتا ہوں نظر پہ رات کرتا ہوں فریبی حسن کہتی ہے تو ا سے سے جا تمنائیں ہوں مجھے تو شوق دی کا تمہارا کیا کروں بولو نظر بھر دیکھ لو جانا ہے وہ ہے وہ دنیا چھوڑ جاؤں گا نظر کا کھیل ہے سب کچھ نظر کا جال ہے سب کچھ نظر دیکھو گھراتا ہے نظر دیکھو اٹھاتا ہے نظر چاہے بگاڑےگی نظر چاہے سدھارےگی نظریہ ہے تمہارا کیا نظر خود ہی بتائےگی نظر کے جال ہے وہ ہے وہ پڑھنے لگیں سے بہتر مر ہی جانا ہے نظر گر ڈالنی ہے تو چلو پستک پہ ڈالو جاناں صحیح رنجن کہا جاناں نے نظر پہ کیا بھروسا ہے
ABHISHEK RANJAN
0 likes
ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے معلوم ہے یہ ہے وہ ہے وہ ک ہاں ہوں ابھی تنہائیوں ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں حقیقت لڑکا کچھ نہیں کر پائے گا اب یہ تہمت مسکرا کے لکھ رہا ہوں دیوالی ہے وہ ہے وہ بھی گھر سنسان میرا قاف یوں پرچھائیوں کا یک ج ہاں ہوں تمہارے بعد دیکھو کیا ہوا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی موت کے دن گن رہا ہوں جو محنت کر رہے ہوں شفت مت ہے وہ ہے وہ ہے وہ قسمت کا نہیں تیرا ج ہاں ہوں کہےگا کون ا سے حالت ہے وہ ہے وہ رنجن ذرا ٹھہرو ہے وہ ہے وہ تیرا ہم ر ہاں ہوں
ABHISHEK RANJAN
0 likes
Similar Writers
Our suggestions based on ABHISHEK RANJAN.
Similar Moods
More moods that pair well with ABHISHEK RANJAN's nazm.







