nazmKuch Alfaaz

मेरी वाली नज़रों ही नज़रों में बातें करती है अपने ही धुन में वो खोई रहती है पैसा दौलत की उस को परवाह नहीं इश्क़ में सच्चा मजनूॅं उस को भाता है लंबी है माना पर दिल की सच्ची है जैसी भी हो मेरी वाली अच्छी है ज़ुल्फ़ बिखेरे गलियों में जब घू में वो ख़्वाहिश मेरी मेरा माथा चू में वो मैं रक्खूॅं रोज़ा वो भी उपवास करे हर लम्हा हर पल वो मेरे साथ रहे मुझ को देखे मुझ को सोचे बात करे मेरे ही ख़्वाबों में वो दिन रात करे ऐ मालिक तू मेरा उस को कर देना हाथ में मेहॅंदी मेरे नाम की भर देना

Related Nazm

بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت

Ahmad Faraz

111 likes

مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو جب بھی سینے ہے وہ ہے وہ جھولتا لاکٹ الٹا ہوں جائے تو ہے وہ ہے وہ ہاتھوں سے سیدھا کرتا رہوں اس کا کو جب بھی آویزہ الجھ بالوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مسکرا کے بس اتنا سا کہ دو آہ چبھتا ہے یہ الگ کر دو جب غرارے ہے وہ ہے وہ پاؤں قبلہ حاجات جائے یا دوپٹہ کسی کواڑ سے اٹکے اک نظر دیکھ لو تو کافی ہے پلیز کہ دو تو اچھا ہے لیکن مسکرانے کی شرط پکی ہے مسکراہٹ معاوضہ ہے میرا مجھ کو اتنے سے کام پہ رکھ لو

Gulzar

68 likes

मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मुझ से पहले कितने शाइ'र आए और आ कर चले गए कुछ आहें भर कर लौट गए, कुछ नग़ में गा कर चले गए वे भी एक पल का क़िस्सा थे, मैं भी एक पल का क़िस्सा हूँ कल तुम से जुदा हो जाऊँगा गो आज तुम्हारा हिस्सा हूँ मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है कल और आएँगे नग़मों की खिलती कलियाँ चुनने वाले मुझ सेे बेहतर कहने वाले, तुम सेे बेहतर सुनने वाले कल कोई मुझ को याद करे, क्यूँ कोई मुझ को याद करे मसरुफ़ ज़माना मेरे लिए, क्यूँ वक़्त अपना बर्बाद करे मैं पल-दो-पल का शाइ'र हूँ, पल-दो-पल मेरी कहानी है पल-दो-पल मेरी हस्ती है, पल-दो-पल मेरी जवानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है रिश्तों का रूप बदलता है, बुनियादें ख़त्म नहीं होतीं ख़्वाबों और उमँगों की मियादें ख़त्म नहीं होतीं इक फूल में तेरा रूप बसा, इक फूल में मेरी जवानी है इक चेहरा तेरी निशानी है, इक चेहरा मेरी निशानी है मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है तुझ को मुझ को जीवन अमृत अब इन हाथों से पीना है इन की धड़कन में बसना है, इन की साँसों में जीना है तू अपनी अदाएं बक्ष इन्हें, मैं अपनी वफ़ाएँ देता हूँ जो अपने लिए सोचीं थी कभी, वो सारी दुआएँ देता हूँ मैं हर इक पल का शाइ'र हूँ हर इक पल मेरी कहानी है हर इक पल मेरी हस्ती है हर इक पल मेरी जवानी है

Sahir Ludhianvi

52 likes

خدا کا سوال مری رب کی مجھ پر عنایت ہوئی ک ہوں بھی تو کیسے عبادت ہوئی حقیقت ہوئی چنو مجھ پر عیاں بن گئی ہے خدا کی زبان ہوتے ہوتے مخاطب ہے بندے سے پروردگار تو حسن چمن تو ہی رنگ بہار تو معراج فن تو ہی فن کا سنگار مصور ہوں ہے وہ ہے وہ تو میرا شاہکار یہ صبحیں یہ شا ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ دن اور رات یہ رنگین دلکش حسین ان ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ حور و ملائک و الا جنات نے کیا ہے تجھے اشرف اول مخلوقات عظمتوں مری جلترنگ کا حوالہ ہے تو تو ہی روشنی ہے اجالا ہے تو یہ دنیا ج ہاں بزم آرائیاں یہ محفل یہ ذائقہ یہ تنہائیاں فلک کا تجھے شامیا لگ دیا ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ پر تجھے آب و دا لگ دیا ملے آبشاروں سے بھی حوصلے پہاڑوں ہے وہ ہے وہ تجھ کو دیے راستے یہ پانی ہوا اور یہ شم سے و قمر یہ موج رواں یہ کنارہ بھنور یہ شاخوں پہ غنچے چٹکتے ہوئے فلک پہ ستارے تم چمکتے ہوئے یہ سبزے یہ پھولوں بھری کیاریاں یہ پنچھی یہ اڑتی ہوئی تتلیاں یہ شعلہ یہ شبنم یہ مٹی یہ سنگ یہ جھرنوں کے بجتے ہوئے چرندوں یہ جھیلوں ہے وہ ہے وہ ہنستے ہوئے س

Abrar Kashif

46 likes

ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم مری شہرت میرا ڈنکا مری اعزاز کا سن کر کبھی یہ لگ سمجھ لینا ہے وہ ہے وہ ہے وہ چوٹی کا لکھاری ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ چھوٹا سا بیوپاری ہوں مری آرت پہ برسوں سے جو مہنگے دام بکتا ہے حقیقت تری غم کا سودا ہے تیری آنکھیں تری آنسو تیری چاہت تری جذبے ی ہاں سیلفوں پہ رکھے ہیں وہی تو ہے وہ ہے وہ نے بیچے ہیں تمہاری بات چھڑ جائے تو باتیں بیچ دیتا ہوں ضرورت کچھ زیادہ ہوں تو یادیں بیچ دیتا ہوں تمہارے نام کے صدقے بے حد بڑھانے کمایا ہے نئی گاڑی خری گرا ہے نیا بنگلہ بنایا ہے م گر کیوں مجھ کو لگتا ہے مری اندر کا بیوپاری تمہیں کو بیچ آیا ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم ہے وہ ہے وہ ہے وہ بزن سے مین ہوں جانم

Khalil Ur Rehman Qamar

34 likes

More from ABHISHEK RANJAN

माँ मेरी ख़्वाहिश मेरी माता मेरा जीवन मेरी माता अगर आया हूँ दुनिया में वो ज़रिया हैं मेरी माता जो मेरी बात करती हैं ज़माने से भी लड़ जाऍं मुझे दर्पण दिखाती हैं ग़लत क्या है सही क्या है मुझे ग़ुस्सा दिखाती हैं मुझे पुचकारती भी हैं मगर दिल की वो सच्ची हैं वो जग में सब सेे अच्छी हैं मेरे अरमान के ख़ातिर वो आधी पेट खाती है वो ख़ुद का ग़म छुपाती हैं मुझे हँस के दिखाती हैं उन्हें उम्मीद है मुझ सेे करूँँगा नाम मैं रौशन बनूँगा शान मैं उन का उन्हीं के राह पे चल कर कभी जो टूट जाता हूँ सफ़र में छूट जाता हूँ वही इक हाथ देती हैं मुझे गिरने नहीं देती वो कहती हैं मेरे बेटे करो मेहनत रखो हिम्मत करो कोशिश सदा हरदम अभी उम्मीद मत हारो ज़रा सी आँधियाँ हैं ये तुम्हारा क्या बिगाड़ेंगी यक़ीनन चंद लम्हों में तुम्हें मंज़िल बुलाएगी वही जो दूर है तुम सेे वही फिर पास आएँगे जो रिश्ता तोड़ बैठे हैं वही अपना बुलाएँगे समय का खेल है सब कुछ समय ही सब बताएगा क़दम रोको नहीं इक दिन यही मंज़िल दिलाएगा भला कैसे बता रंजन ग़लत का रास्ता चुनता हाँ माँ के आँख में आँसू भला क्या देख सकता है

ABHISHEK RANJAN

0 likes

آنکھیں مچلتی جھیل سی مانو کوئی دریا ہے یہ آنکھیں تمہارے دل کو جانے کا کوئی ذریعہ ہے یہ آنکھیں تمہارے بال اوپر سے یہ مانو رشک کرتے ہیں جہاں سے خوبصورت ہے بہت بڑھیا ہیں یہ آنکھیں مجھے حیران کرتی ہے میرے خوابوں ہے وہ ہے وہ آ کر کے کبھی مجھ کو ڈراتی ہے مجھے غصہ دکھا کر کے خوشی سے جھوم جاتا ہوں اگر حقیقت سامنے ہوں تو جہاں ہے وہ ہے وہ ہے نہیں دوجا میرے محبوب سی آنکھیں نہ سوتا ہوں نہ روتا ہوں اسے ہی یاد کرتا ہوں نہ جانے بن گئی کیسے مری دنیا وہی آنکھیں بھروسا تھا وہی آنکھیں تو جستجو دل شکستہ ہے اسمبھو تھا بھلا کیسا یہ جادو کر گیا تو معشوق کی آنکھیں نظر سے دکھ ہی جاتا ہے دلوں ہے وہ ہے وہ کھلبلی ہوں تو زمانہ پوچھتا ہے اب بنےگا آ سے کیا آنکھیں جسے آنکھیں دکھاتے ہوں وہی تو رہنما تھا پھروں سمے بدلا تو پتھر بن گئی دیکھو کئی آنکھیں کبھی تو سوچ لو ان کا جو جاناں سے دور بیٹھے ہیں حقیقت آنکھیں کہ رہی ہے دیکھ لینا آئےگا اک دن جو مجھ سے دور رہتا ہے میری آنکھیں بنےگا حقیقت حقیقت بوڑھا آدمی ہے آ سے ہے و

ABHISHEK RANJAN

0 likes

زندگی کی گنت دل میں آگے کوئی ایڈیشن نہیں ہو سکتا ٹوٹ چکا ہوں کوئی تربیت نہیں ہو سکتا پائیتھاگورس تھیورم تم پر حاوی ہے لو میں کوئی ٹرائینگل نہیں ہو سکتا اب آگے کوئی فریکشن نہیں ہو سکتا آگے کوئی سبسٹرکشن نہیں ہو سکتا ٹریپیجیئم سا چہرہ بنا ڈالا تم نے مجھ کو کہتی ہو پھروں کیوں سکوائر بنو ڈےسی سینٹی ہیکٹو سب نے بولا تھا یہ دل کا اینگل سم پراپرٹی کرواؤ پھروں پروف کروں کہ دونوں سائیڈ سے ایکول ہے جیون میں تو تم نے ہی بوڈماس دیے تھے ان زخموں کا اب سولوشن نہیں ہو سکتا رنجن جیون میں اور میتھ میں کیا انتر دونوں گر قبلہ حاجات جائے تو غصہ آتا ہے

ABHISHEK RANJAN

0 likes

رشتہ ذمہ داری مری مجھ کو روکےگی ہر حرکت سے پہلے مجھ کو ٹوکےگی گھر کے خاطر سارے سکھ کا تیاگ کیا ا سے کا ہی لوگوں نے استعمال کیا جب سے دیکھو رنجن حقیقت کنگال بنا سب نے دیکھو ان سے ہاں مکھ موڑا ہے ب سے پیسوں کی آ سے ہے وہ ہے وہ سب اب جیتے ہیں رشتوں سے زار ہی کیا ہے سب کو اب آج ضرورت ہوں گی پا سے ہے وہ ہے وہ آئیں گے زار نکل گیا تو تو چھوڑ کے جائیں گے یہ کل یگ ہے ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایسا چلتا ہے سچا اچھا دیکھو جل گرا مرتا ہے رشتوں کے خاطر ہی کوئی جیتا ہے رشتوں کی آغوش ہے وہ ہے وہ کوئی پاپ کرے کوئی دل سے کھیلے رشتہ ناش کرے رنجن ان چکر ہے وہ ہے وہ بلکل مت کھائےگی دیکھو رشتہ سبکا ناش کرائےگا

ABHISHEK RANJAN

0 likes

توبہ ہے رنجن کل سے سب چیزوں سے توبہ ہے مجھ کو ا سے کی اذیت ناک سے توبہ ہے میرا ہوں کے نہیں میرا جو بن پائے مجھ کو ہاں ایسے لوگوں سے توبہ ہے دکھلانا ہے مجھ کو سیرت دکھلاؤ پیاری منموہک شکلوں سے توبہ ہے کب تک وعدہ کر کے نہیں نبھائیں گے دیش کی ہاں ان غداروں سے توبہ ہے پیار ہے وہ ہے وہ ہارے لڑکے مری بات سنے اب سے ان سستے ہیروں سے توبہ ہے چھوڑو بھی اب کتنا آگے جاؤگے رنجن تیری لمبی نظموں سے توبہ ہے

ABHISHEK RANJAN

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on ABHISHEK RANJAN.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with ABHISHEK RANJAN's nazm.