حقیقت جو کہلاتا تھا دیوا لگ ترا حقیقت جسے حفظ تھا افسا لگ ترا ج سے کی دیواروں پہ آویزاں تھیں تصویریں تری حقیقت جو بے گا لگ ہستی تھا تقریریں تری حقیقت جو خوش تھا تری خوشیوں سے تری غم سے ادا سے دور رہ کے جو سمجھتا تھا حقیقت ہے تری پا سے حقیقت جسے سجدہ تجھے کرنے سے انکار لگ تھا ا سے کو در اصل کبھی تجھ سے کوئی پیار لگ تھا ا سے کی مشکل تھی کہ دشوار تھے ا سے کے رستے جن پہ بے خوف و خطر گھومتے رہزن تھے صدا ا سے کی انا کے در پہ ا سے نے نزدیک تر کے سب اپنی انا کی دولت تیری تحویل ہے وہ ہے وہ رکھوا دی تھی اپنی ذلت کو حقیقت دنیا کی نظر اور اپنی بھی نگا ہوں سے چھپانے کے لیے کامیابی کو تری تری فتوحات تری عزت کو حقیقت تری نام تری شہرت کو اپنے ہونے کا سبب جانتا تھا ہے وجود ا سے کا جدا تجھ سے یہ کب مانتا تھا حقیقت م گر پرخطر راستوں سے آج نکل آیا ہے سمے نے تری برابر لگ صحیح کچھ لگ کچھ اپنا کرم ا سے پہ بھی فرمایا ہے اب اسے تیری ضرورت ہی نہیں ج سے کا دعویٰ تھا کبھی اب حقیقت عقیدت ہی نہیں تیری ت
Related Nazm
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
پانی کون پکڑ سکتا ہے جب وہ اس دنیا کے شور اور خموشی سے قطع تعلق ہوکر انگلش میں غصہ کرتی ہے میں تو ڈر جاتا ہوں لیکن کمرے کی دیواریں ہنسنے لگتی ہیں وہ اک ایسی آگ ہے جسے صرف دہکنے سے مطلب ہے وہ اک ایسا پھول ہے جس پر اپنی خوشبو بوجھ بنی ہے وہ اک ایسا خواب ہے جس کو دیکھنے والا خود مشکل میں پڑ سکتا ہے اس کو چھونے کی خواہش تو ٹھیک ہے لیکن پانی کون پکڑ سکتا ہے وہ رنگوں سے فرماؤ ہے بلکہ ہر اک رنگ کے شجرے تک سے فرماؤ ہے اس کو علم ہے کن خوابوں سے آنکھیں نیلی پڑھ سکتی ہیں ہم نے جن کو نفرت سے بادہ آشامی کیا وہ ان پیلے پھولوں کی عزت کرتی ہے کبھی کبھی وہ اپنے ہاتھ میں پہنچاتا لے کر ایسی سطرے کھینچتی ہے سب کچھ سیدھا ہو جاتا ہے وہ چاہے تو ہر اک چیز کو اس کے اصل میں لا سکتی ہے صرف اسی کے ہاتھوں سے ساری دنیا ترتیب میں آ سکتی ہے ہر پتھر اس پاؤں سے ٹکرانے کی خواہش میں زندہ ہے لیکن یہ تو اسی ادھورے پن کا جہاں ہے ہر پنجرے میں ایسے قیدی کب ہوتے ہیں ہر کپڑے کی قسمت میں وہ جسم کہاں ہے میری بے مقصد باتوں سے تنگ بھی آ جاتی ہے تو م
Tehzeeb Hafi
88 likes
مرد محبت ا سے کی ڈکشنری ہے وہ ہے وہ مرد کا زار نامرد لکھا ہوا ہے خوش قسمت مرد اور عورتیں ایک دوسرے کے دل کی پسند ہوتے ہیں ا سے کی بد قسمتی کی پوشاک پر سب سے بڑا داغ یہی ہے کے حقیقت کچھ نامردوں کے نچلے حصے کو پسند ہے سوائے ایک مرد کے سوائے ایک بے وجہ کے اسے کسی مرد کے دل نے نہیں چاہا ج سے نے اسے ا سے لمحے بھی صرف دیکھا جو لمحہ مرد اور نامرد ہونے کا فیصلہ کر دیا کرتا ہے مرد اپنی محبت کے لیے بے شمار نظ ہے وہ ہے وہ ہے وہ لکھ سکتا ہے م گر ایک بار بھی اپنی محبت کو گالی نہیں دے سکتا بھلے ا سے کی محبوبہ جسم فروش ہی کیوں نا ہوں مرد کے لیے دیوی ہوتی ہے عظیم لڑ کیوں اور عزت مند مردوں کے دل سلامت رہیں جو دھوکے کی تلواروں سے کاٹ دیے گئے م گر اپنی محبت کی بے حرمتی پر تیار لگ ہوا ایک مرد کا لہو لہان دل جسے بد دعا کی پوری اجازت ہے حقیقت پھروں بھی دعا ہے وہ ہے وہ یہی کہتا ہے مولا اسے ا سے کے نام کا سایہ نصیب کر حقیقت سمجھ سکے کہ محبت اور مرد کی میم ایک ہی مٹی سے بنی ہے محبت اور مرد کے سات حروف مل کر ساتھ بناتے ہیں لیکن اسے یہ رمز کوئی م
Ali Zaryoun
14 likes
اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے ا سے کے سائے ہے وہ ہے وہ صدا پیار کے چرچے ہوں گے ختم جو ہوں لگ سکےگی حقیقت کہانی دی ہے اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل تاج حقیقت شمع ہے الفت کے صنم خانے کی ج سے کے پروانوں ہے وہ ہے وہ مفل سے بھی ہیں منصفی بھی ہیں سنگ مرمر ہے وہ ہے وہ سمائے ہوئے خوابوں کی قسم مرحلے پیار کے آساں بھی ہیں دشوار بھی ہیں دل کو اک خون تمنا ارادوں کو جوانی دی ہے اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل تاج اک زندہ تصور ہے کسی شاعر کا ا سے کا افسا لگ حقیقت کے سوا کچھ بھی نہیں ا سے کے آغوش ہے وہ ہے وہ آ کر یہ گماں ہوتا ہے زندگی چنو محبت کے سوا کچھ بھی نہیں تاج نے پیار کی موجوں کو روانی دی ہے اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل یہ حسین رات یہ مہکی ہوئی پر نور فضا ہوں اجازت تو یہ دل عشق کا اظہار کرے عشق انسان کو انسان بنا دیتا ہے ک سے کی ہمت ہے محبت سے جو انکار کرے آج تقدیر نے یہ رات سہانی دی ہے اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل ساری دنیا کو محبت کی نشانی دی ہے اک شہنشاہ
Shakeel Badayuni
11 likes
مجھ سے پہلے مجھ سے پہلے تجھے ج سے بے وجہ نے چاہا ا سے نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہوں ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیرے کو سجا رکھا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مانا کہ حقیقت بیگا لگ پیمان وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ شاید اب لوٹ کے آئی لگ تری محفل ہے وہ ہے وہ ہے وہ اور کوئی دکھ لگ رولائے تجھے تنہائی ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے مانا کہ شب و روز کے آوارگان غم ہے وہ ہے وہ ہے وہ سمے ہر غم کو بھلا دیتا ہے رفتہ رفتہ چاہے امید کی شمعیں ہوں کہ یادوں کے چراغ مستقل بود بجھا دیتا ہے رفتہ رفتہ پھروں بھی ماضی کا خیال آتا ہے گاہے گاہے مدتیں درد کی لو کم تو نہیں کر سکتیں زخم بھر جائیں م گر داغ تو رہ جاتا ہے دوریوں سے کبھی یادیں تو نہیں مر سکتیں یہ بھی ممکن ہے کہ اک دن حقیقت پشیمان ہوں کر تری پا سے آئی زمانے سے کنارہ کر لے تو کہ معصوم بھی ہے زود فراموش بھی ہے ا سے کی پیمان شکن کو بھی بے شرط کر لے اور ہے وہ ہے وہ ج سے نے تجھے اپنا مسیحا سمجھا ایک ز
Ahmad Faraz
10 likes
More from Javed Akhtar
مری رستے ہے وہ ہے وہ اک موڑ تھا اور ا سے موڑ پر پیڑ تھا ایک برگد کا اونچا شوالہ ج سے کے سائے ہے وہ ہے وہ میرا بے حد سمے بیتا ہے لیکن ہمیشہ یہی ہے وہ ہے وہ نے سوچا کہ رستے ہے وہ ہے وہ یہ موڑ ہی ا سے لیے ہے کہ یہ پیڑ ہے عمر کی آندھیوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت پیڑ ایک دن گر گیا تو ہے موڑ لیکن ہے اب تک وہیں کا وہیں دیکھتا ہوں تو آگے بھی رستے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے موڑ ہی موڑ ہیں پیڑ کوئی نہیں راستوں ہے وہ ہے وہ مجھے یوں تو مل جاتے ہیں مہرباں پھروں بھی ہر موڑ پر پوچھتا ہے یہ دل حقیقت جو اک چھاؤں تھی کھو گئی ہے ک ہاں
Javed Akhtar
0 likes
عجیب قصہ ہے جب یہ دنیا سمجھ رہی تھی جاناں اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ اپنی دنیا ہے وہ ہے وہ جی رہا ہوں تو ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی تھی جو کہ مری بھی تھی تمہاری بھی تھی ج ہاں فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کے خواب جاگتے تھے ج ہاں ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی سرگوشیاں گھلی تھیں ج ہاں کے پھولوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دونوں کی آرزو کے سب رنگ کھیل رہے تھے ج ہاں پہ دونوں کی جرأتوں کے ہزار چشمے عرو سے دہر رہے تھے لگ رلا تھے لگ رنج و غم تھے سکون کا گہرا اک سمندر تھا اور ہم تھے عجیب قصہ ہے ساری دنیا نے جب یہ جانا کہ ہم نے ساری نگا ہوں سے دور ایک دنیا بسائی ہے تو ہر ایک ابرو نے چنو ہم پر کمان تانی تمام پیشانیوں پہ ابھریں غم اور نبھائیے کی گہری شکنیں کسی کے لہجے سے تلخی چھلکی کسی کی باتوں ہے وہ ہے وہ ترشی آئی کسی نے چاہا کہ کوئی دیوار ہی اٹھا دے کسی نے چاہا ہماری دنیا ہی حقیقت مٹا دے م گر زمانے کو شفت تھا زما لگ ہارا یہ ساری دنیا کو ماننا ہی پڑا ہ
Javed Akhtar
0 likes
दिल वो सहरा था कि जिस सहरा में हसरतें रेत के टीलों की तरह रहती थीं जब हवादिस की हवा उन को मिटाने के लिए चलती थी यहाँ मिटती थीं कहीं और उभर आती थीं शक्ल खोते ही नई शक्ल में ढल जाती थीं दिल के सहरा पे मगर अब की बार सानेहा गुज़रा कुछ ऐसा कि सुनाए न बने आँधी वो आई कि सारे टीले ऐसे बिखरे कि कहीं और उभर ही न सके यूँँ मिटे हैं कि कहीं और बनाए न बने अब कहीं टीले नहीं रेत नहीं रेत का ज़र्रा नहीं दिल में अब कुछ नहीं दिल को सहरा भी अगर कहिए तो कैसे कहिए
Javed Akhtar
1 likes
ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت تمام حیرت تمام حیرت یہ کیا تماشا یہ کیا سماں ہے یہ کیا عیاں ہے یہ کیا ن ہاں ہے اتھاہ میک اپ ہے اک خلا کا لگ جانے کب سے لگ جانے کب تک ک ہاں تلک ہے ہماری دی کی انتہا ہے جسے سمجھتے ہیں ہم فلک ہے یہ رات کا چھلنی چھلنی سا کالا آ سماں ہے کہ ج سے ہے وہ ہے وہ جگنو کی شکل ہے وہ ہے وہ ہے وہ بے شمار سورج پگھل رہے ہیں شہاب ثاقب ہے یا ہمیشہ کی ٹھنڈی کالی فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ چنو آگ کے تیر چل رہے ہیں کروڑ ہا نوری برسوں کے فاصلوں ہے وہ ہے وہ پھیلی یہ کہکشائیں خلا گھیرے ہیں یا خلاوں کی قید ہے وہ ہے وہ ہے یہ کون ک سے کو لیے چلا ہے ہر ایک لمحہ کروڑوں میلوں کی جو مسافت ہے ان کو آخر ک ہاں ہے جانا ا گر ہے ان کا کہی کوئی آخری ہری تو حقیقت ک ہاں ہے ج ہاں کہی ہے سوال یہ ہے و ہاں سے آگے کوئی ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے کوئی فلک ہے ا گر نہیں ہے تو یہ نہیں کتنی دور تک ہے ہے وہ ہے وہ ہے وہ کتنی صدیوں سے تک رہا ہوں یہ کائنات اور ا سے کی وسعت<
Javed Akhtar
0 likes
گھر ہے وہ ہے وہ بیٹھے ہوئے کیا لکھتے ہوں باہر نکلو دیکھو کیا حال ہے دنیا کا یہ کیا عالم ہے سونی آنکھیں ہیں سبھی خوشیوں سے خالی چنو آؤ ان آنکھوں ہے وہ ہے وہ خوشیوں کی چمک ہم لکھ دیں یہ جو ماتھے ہیں اداسی کی لکیروں کے تلے آؤ ان ماتھوں پہ قسمت کی دمک ہم لکھ دیں چہروں سے گہری یہ بیتابی مٹا کے آؤ ان پہ امید کی اک اجلی کرن ہم لکھ دیں دور تک جو ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ویرانے نظر آتے ہیں آؤ ویرانوں پر اب ایک چمن ہم لکھ دیں لفظ در لفظ سمندر سا بہے موج ب موج بہر نغمات ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہر کوہ ستم حل ہوں جائے دنیا دنیا لگ رہے ایک غزل ہوں جائے
Javed Akhtar
1 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Javed Akhtar.
Similar Moods
More moods that pair well with Javed Akhtar's nazm.







