پوچھتا ہے تو کہ کب اور ک سے طرح آتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گود ہے وہ ہے وہ ناکامیوں کے پرورش پاتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف حقیقت مخصوص سینے ہیں مری آرام گاہ آرزو کی طرح رہ جاتی ہے جن ہے وہ ہے وہ گھٹ کے آہ اہل غم کے ساتھ ان کا درد و غم سہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کانپتے ہونٹوں پہ بن کر بد دعا رہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہیں اشاروں پر مری موت و حیات دیکھتی رہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہر سمے نبض کائنات خود فریبی بڑھ کے جب بنتی ہے احسا سے شعور جب جواں ہوتا ہے اہل زر کے تیور ہے وہ ہے وہ غرور کسانوں سے کرتے ہیں جب آدمیت کو جدا جب لہو پیتے ہیں تہذیب و تمدن کے خدا بھوت بن کر ناچتا ہے سر پہ جب قومی نظیر و لے کے مذہب کی سپر آتا ہے جب سرمایہ دار راستے جب بند ہوتے ہیں دعاؤں کے لیے آدمی لڑتا ہے جب جھوٹے خداؤں کے لیے زندگی انساں کی کر دیتا ہے جب انساں حرام جب اسے قانون فطرت کا عطا ہوتا ہے نام اہرمہن پھرتا ہے جب اپنا دہن کھولے ہوئے آ سماں سے موت جب آتی ہے پر تولے ہوئے جب بیوقوفی کی نگا ہوں سے تھمتا
Related Nazm
بھلی سی ایک شکل تھی بھلے دنوں کی بات ہے بھلی سی ایک شکل تھی نہ یہ کہ حسن تام ہوں نہ دیکھنے ہے وہ ہے وہ آم سی نہ یہ کہ حقیقت چلے تو کہکشاں سی رہگزر لگے مگر حقیقت ساتھ ہوں تو پھروں بھلا بھلا سفر لگے کوئی بھی رت ہوں اس کا کی چھب فضا کا رنگ روپ تھی حقیقت گرمیوں کی چھاؤں تھی حقیقت سردیوں کی دھوپ تھی نہ مدتوں جدا رہے نہ ساتھ صبح و شام ہوں نہ رشتہ وفا پہ ضد نہ یہ کہ اجازت عام ہوں نہ ایسی خوش لباسیاں کہ سادگی گلہ کرے نہ اتنی بے تکلفی کہ آئینہ حیا کرے نہ اختلاط ہے وہ ہے وہ حقیقت رم کہ بد مزہ ہوں خواہشیں نہ اس کا دودمان سپردگی کہ زچ کریں نوازشیں نہ کرنے والے جنون کی کہ زندگی عذاب ہوں نہ اس کا دودمان کٹھور پن کہ دوستی خراب ہوں کبھی تو بات بھی خفی کبھی سکوت بھی سخن کبھی تو کشت زعفران کبھی اداسیوں کا بن سنا ہے ایک عمر ہے معاملات دل کی بھی وصال جاں فزا تو کیا فراق جاں گسل کی بھی سو ایک روز کیا ہوا وفا پہ بحث چھڑ گئی ہے وہ ہے وہ ہے وہ عشق کو فدا کہوں حقیقت
Ahmad Faraz
111 likes
تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے
Zubair Ali Tabish
117 likes
ہے وہ ہے وہ سگریٹ تو نہیں پیتا م گر ہر آنے والے سے پوچھ لیتا ہوں کہ ماچ سے ہے بے حد کچھ ہے جسے ہے وہ ہے وہ پھونک دینا چاہتا ہوں
Gulzar
107 likes
دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک
Ali Zaryoun
70 likes
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے تیری صورت سے ہے عالم ہے وہ ہے وہ بہاروں کو ثبات تیری آنکھوں کے سوا دنیا ہے وہ ہے وہ رکھا کیا ہے تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہوں جائے یوں لگ تھا ہے وہ ہے وہ نے فقط چاہا تھا یوں ہوں جائے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا ان گنت صدیوں کے تاریک بہیما لگ طلسم ریشم و اطلَ سے و کمخواب ہے وہ ہے وہ بنوائے ہوئے جا بجا بکتے ہوئے کوچہ و بازار ہے وہ ہے وہ جسم خاک ہے وہ ہے وہ لُتھڑے ہوئے خون ہے وہ ہے وہ نہلائے ہوئے جسم نکلے ہوئے امراض کے تنوروں سے پیپ بہتی ہوئی گلتے ہوئے ناسوروں سے لوٹ جاتی ہے ادھر کو بھی نظر کیا کیجے اب بھی دلکش ہے ترا حسن م گر کیا کیجے اور بھی دکھ ہیں زمانے ہے وہ ہے وہ محبت کے سوا راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب لگ مانگ
Faiz Ahmad Faiz
73 likes
More from Ali Sardar Jafri
سال نو یہ ک سے نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کو تمنا رقص کرتی ہے تخیّل گنگناتا ہے تصور اک نئے احسا سے کی جنت ہے وہ ہے وہ لے آیا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہے جبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پر ضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہے شفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کی سریا کی جبیں زہرہ کا آرِز تیمتماتا ہے پرانی سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں نئے دن کا نیا سورج پیام عشق پر اٹھتا آتا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پھروں نئے سر سے نیا رخت سفر باندھا خوشی ہے وہ ہے وہ ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہے ہزاروں خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جہان آرزو کا ذرہ ذرہ گنگناتا ہے نومی گرا ڈال کر آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنکھیں مسکراتی ہیں زما لگ جنبش مژگاں سے افسانے سناتا ہے مسرت کے جواں ملاح کشتی لے کے نکلے ہیں غموں کے نا خداوں کا سفی لگ ڈگمگاتا ہے خوشی مجھ کو بھی ہے لیکن ہے وہ ہے وہ یہ محسو سے کرتا ہوں مسرت کے ا سے آئینے ہے وہ ہے وہ غم بھی جھلمیلاتا ہے <
Ali Sardar Jafri
4 likes
اٹھو ہند کے باغبانو اٹھو اٹھو انقلابی جوانو اٹھو بیوقوفی اٹھو کام گارو اٹھو نئی زندگی کے شرارو اٹھو اٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سے اٹھو خاک بنگال و کشمیر سے اٹھو وا گرا و دشت و کوہسار سے اٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سے اٹھو مالوے اور میوات سے مہاراشٹر اور گجرات سے اودھ کے چمن سے چہکتے اٹھو گلوں کی طرح سے مہکتے اٹھو اٹھو کھل گیا تو پرچم انقلاب نکلتا ہے ج سے طرح سے آفتاب اٹھو چنو دریا ہے وہ ہے وہ اٹھتی ہے موج اٹھو چنو آندھی کی بڑھتی ہے فوج اٹھو برق کی طرح ہنستے ہوئے کڑکتے گرجتے برستے ہوئے غلامی کی زنجیر کو توڑ دو زمانے کی رفتار کو موڑ دو
Ali Sardar Jafri
14 likes
ग़ुलाम तुम भी थे यारों ग़ुलाम हम भी थे नहा के ख़ून में आई थी फ़स्ले-आज़ादी मज़ा तो तब था कि जब मिल कर इलाज-ए-जां करते ख़ुद अपने हाथ से तामीर-ए-गुलसितां करते हमारे दर्द में तुम और तुम्हारे दर्द में हम शरीक़ होते तो जश्न-ए-आशियां करते तुम आओ गुलशन-ए-लाहौर से चमन बर्दोश हम आएँ सुब्ह-ए-बनारस की रौशनी ले कर हिमालय की हवाओं की ताज़गी ले कर और उस के बा'द ये पूछें कौन दुश्मन है ?
Ali Sardar Jafri
1 likes
फिर इक दिन ऐसा आएगा आँखों के दीए बुझ जाएँगे हाथों के कँवल कुम्हलाएँगे और बर्ग-ए-ज़बांसे नुत्क़ ओ सदा की हर तितली उड़ जाएगी इक काले समुंदर की तह में कलियों की तरह से खिलती हुई फूलों की तरह से हंसती हुई सारी शक्लें खो जाएंगी ख़ूंकी गर्दिश दिल की धड़कन सब रागनियां सो जाएंगी और नीली फ़ज़ा की मख़मल पर हंसती हुई हीरे की ये कनी ये मेरी जन्नत मेरी ज़मीं इस की सुब्हें इस की शा में बे-जाने हुए बे-समझे हुए इक मुश्त-ए-ग़ुबार-ए-इंसांपर शबनम की तरह रो जाएंगी हर चीज़ भुला दी जाएगी यादों के हसीं बुत-ख़ाने से हर चीज़ उठा दी जाएगी फिर कोई नहीं ये पूछेगा 'सरदार' कहाँ है महफ़िल में लेकिन मैं यहाँ फिर आऊँगा बच्चों के दहन से बोलूंगा चिड़ियों की ज़बां से गाऊंगा जब बीज हंसेंगे धरती में और कोंपलें अपनी उँगली से मिट्टी की तहों को छेड़ेंगी मैं पत्ती पत्ती कली कली अपनी आँखें फिर खोलूंगा सरसब्ज़ हथेली पर ले कर शबनम के क़तरे तौलूंगा मैं रंग-ए-हिना आहंग-ए-ग़ज़ल अंदाज़-ए-सुख़न बन जाऊँगा रुख़्सार-ए-उरूस-ए-नौ की तरह हर आंचल से छिन जाऊँगा जाड़ों की हवाएंदामन में जब फ़स्ल-ए-ख़िज़ांको लाएंगी रह-रौ के जवां क़दमों के तले सूखे हुए पत्तों से मेरे हँसने की सदाएंआएंगी धरती की सुनहरी सब नदियाँ आकाश की नीली सब झीलें हस्ती से मिरी भर जाएंगी और सारा ज़माना देखेगा हर क़िस्सा मिरा अफ़्साना है हर आशिक़ है 'सरदार' यहाँ हर माशूक़ा 'सुलताना' है मैं एक गुरेज़ांलम्हा हूँ अय्याम के अफ़्सूं-ख़ाने में मैं एक तड़पता क़तरा हूँ मसरूफ़-ए-सफ़र जो रहता है माज़ी की सुराही के दिल से मुस्तक़बिल के पैमाने में मैं सोता हूंऔर जागता हूँ और जाग के फिर सो जाता हूँ सदियों का पुराना खेल हूं मैं मैं मर के अमर हो जाता हूँ
Ali Sardar Jafri
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.
Similar Moods
More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's nazm.







