nazmKuch Alfaaz

फिर इक दिन ऐसा आएगा आँखों के दीए बुझ जाएँगे हाथों के कँवल कुम्हलाएँगे और बर्ग-ए-ज़बांसे नुत्क़ ओ सदा की हर तितली उड़ जाएगी इक काले समुंदर की तह में कलियों की तरह से खिलती हुई फूलों की तरह से हंसती हुई सारी शक्लें खो जाएंगी ख़ूंकी गर्दिश दिल की धड़कन सब रागनियां सो जाएंगी और नीली फ़ज़ा की मख़मल पर हंसती हुई हीरे की ये कनी ये मेरी जन्नत मेरी ज़मीं इस की सुब्हें इस की शा में बे-जाने हुए बे-समझे हुए इक मुश्त-ए-ग़ुबार-ए-इंसांपर शबनम की तरह रो जाएंगी हर चीज़ भुला दी जाएगी यादों के हसीं बुत-ख़ाने से हर चीज़ उठा दी जाएगी फिर कोई नहीं ये पूछेगा 'सरदार' कहाँ है महफ़िल में लेकिन मैं यहाँ फिर आऊँगा बच्चों के दहन से बोलूंगा चिड़ियों की ज़बां से गाऊंगा जब बीज हंसेंगे धरती में और कोंपलें अपनी उँगली से मिट्टी की तहों को छेड़ेंगी मैं पत्ती पत्ती कली कली अपनी आँखें फिर खोलूंगा सरसब्ज़ हथेली पर ले कर शबनम के क़तरे तौलूंगा मैं रंग-ए-हिना आहंग-ए-ग़ज़ल अंदाज़-ए-सुख़न बन जाऊँगा रुख़्सार-ए-उरूस-ए-नौ की तरह हर आंचल से छिन जाऊँगा जाड़ों की हवाएंदामन में जब फ़स्ल-ए-ख़िज़ांको लाएंगी रह-रौ के जवां क़दमों के तले सूखे हुए पत्तों से मेरे हँसने की सदाएंआएंगी धरती की सुनहरी सब नदियाँ आकाश की नीली सब झीलें हस्ती से मिरी भर जाएंगी और सारा ज़माना देखेगा हर क़िस्सा मिरा अफ़्साना है हर आशिक़ है 'सरदार' यहाँ हर माशूक़ा 'सुलताना' है मैं एक गुरेज़ांलम्हा हूँ अय्याम के अफ़्सूं-ख़ाने में मैं एक तड़पता क़तरा हूँ मसरूफ़-ए-सफ़र जो रहता है माज़ी की सुराही के दिल से मुस्तक़बिल के पैमाने में मैं सोता हूंऔर जागता हूँ और जाग के फिर सो जाता हूँ सदियों का पुराना खेल हूं मैं मैं मर के अमर हो जाता हूँ

Related Nazm

حقیقت لوگ بے حد خوش قسمت تھے جو عشق کو کام سمجھتے تھے یا کام سے کرنے والے کرتے تھے ہم جیتے جی مصروف رہے کچھ عشق کیا کچھ کام کیا کام عشق کے آڑے آتا رہا اور عشق سے کام الجھتا رہا پھروں آخر تنگ آ کر ہم نے دونوں کو ادھورا چھوڑ دیا

Faiz Ahmad Faiz

160 likes

تمہیں اک بات کہنی تھی اجازت ہوں تو کہ دوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ یہ بھیگا بھیگا سا موسم یہ تتلی پھول اور شبنم چمکتے چاند کی باتیں یہ بوندیں اور برساتیں یہ کالی رات کا آنچل ہوا ہے وہ ہے وہ ناچتے بادل دھڑکتے موسموں کا دل مہکتی سرسرا کا دل یہ سب جتنے نظارے ہیں کہو ک سے کے اشارے ہیں سبھی باتیں سنی جاناں نے پھروں آنکھیں پھیر لیں جاناں نے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تب جا کر کہی سمجھا کہ جاناں نے کچھ نہیں سمجھا ہے وہ ہے وہ ہے وہ قصہ بڑھوا کر کے ذرا نیچی نظر کر کے یہ کہتا ہوں ابھی جاناں سے محبت ہوں گئی جاناں سے

Zubair Ali Tabish

117 likes

تمہارا فون آیا ہے عجب سی اوب شامل ہوں گئی ہے روز جینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ پلوں کو دن ہے وہ ہے وہ دن کو کاٹ کر جینا مہینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ محض مایوسیاں جگتی ہیں اب کیسی بھی آہٹ پر ہزاروں الجھنوں کے گھونسلے لٹکے ہیں چوکھٹ پر اچانک سب کی سب یہ چپپیاں اک ساتھ پگھلی ہیں امیدیں سب سمٹ کر ہاتھ بن جانے کو مچلی ہیں میرے کمرے کے سناٹے نے انگڑائی سی دکھتی ہے میری خاموشیوں نے ایک نغمہ گنگنایا ہے تمہارا فون آیا ہے تمہارا فون آیا ہے ستی کا چیترا دکھ جائے چنو روپ باڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ کہ چنو چھٹھ کے موقعے پر جگہ مل جائے گاڑی ہے وہ ہے وہ ہے وہ میری آواز سے جاگے تمہارے بام و در چنو یہ ناممکن سی حسرت ہے خیالی ہے مگر چنو بڑی ناکامیوں کے بعد ہمت کی لہر چنو بڑی بےچینیوں کے بعد راحت کا پہر چنو بڑی گمنامیوں کے بعد شہرت کی مہر چنو صبح اور شام کو سادھے ہوئے اک دوپہر چنو بڑے عنوان کو باندھے ہوئے چھوٹی بہر چنو نئی دلہن کے شرماتے ہوئے شام و سحر چنو ہتھیلی پر رچی مہندی اچانک مسکرائی ہے میری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو کا ستارہ جگمگایا ہے تمہارا

Kumar Vishwas

81 likes

तुम हमारे लिए तुम हमारे लिए अर्चना बन गई हम तुम्हारे लिए एक दर्पण प्रिये तुम मिलो तो सही हाल पूछो मेरा हम न रो दें तो कह देना पत्थर प्रिये प्यार मिलना नहीं था अगर भाग्य में देवताओं ने हम सेे ये छल क्यूँ किया मेरे दिल में भरी रेत ही रेत थी दे के अमृत ये हम को विकल क्यूँ किया अप्सरा हो तो हो पर हमारे लिए तुम ही सुंदर सुकोमल सुघर हो प्रिये देवताओं के गणितीय संसार में ऐसा भी है नहीं कोई अच्छा न था हम अगर इस जनम भी नहीं मिल सके सब कहेंगे यही प्यार सच्चा न था कायरों को कभी प्यार मिलता नहीं फ़ैसला कोई ले लो कि डटकर प्रिये मम्मी कहती थीं चंदा बहुत दूर है चाँद से आगे हम को सितारा लगा यूँँ तो चेहरे ही चेहरे थे दुनिया में पर एक तेरा ही चेहरा पियारा लगा पलकों पे मेरी रख कर क़दम तुम चलो पॉंव में चुभ न जाए कि कंकड़ प्रिये

Rakesh Mahadiuree

24 likes

دوست کے نام خط جاناں نے حال پوچھا ہے حالت محبت ہے وہ ہے وہ ہے وہ حال کا بتانا کیا دل سسک رہا ہوں تو زخم کا چھپانا کیا جاناں جو پوچھ بیٹھے ہوں کچھ تو اب بتانا ہے بات ایک بہانا ہے جاناں نے حال پوچھا ہے اک دیا جلاتا ہوں ٹھیک ہے بتاتا ہوں روز ا سے کی یادوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دور تک چلے جانا جو بھی تھا کہا ا سے نے اپنے ساتھ دہرانا سان سے جب گردشیں تو پھروں اپنی مرتی آنکھوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی شکل لے آنا اور زندگی پانا روز ایسے ہوتا ہے کچھ پرانی میسج ہیں جن ہے وہ ہے وہ ہے وہ ا سے کی باتیں ہیں کچھ طویل صبحے ہیں کچھ اچھی اچھی راتیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے کی باتوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ زندگی گزاری ہے زندگی مٹانے کا حوصلہ نہیں مجھ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ایک ایک لفظ ا سے کا سان سے ہے وہ ہے وہ فقط ہے روح ہے وہ ہے وہ سمویا ہے ا سے کے جتنے میسج ہے روز کھول لیتا ہوں ا سے سے کہ نہیں پاتا خود سے بول لیتا ہوں ا سے کے پیج پر جا کر روز دیکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ آج ک

Ali Zaryoun

70 likes

More from Ali Sardar Jafri

پوچھتا ہے تو کہ کب اور ک سے طرح آتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گود ہے وہ ہے وہ ناکامیوں کے پرورش پاتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف حقیقت مخصوص سینے ہیں مری آرام گاہ آرزو کی طرح رہ جاتی ہے جن ہے وہ ہے وہ گھٹ کے آہ اہل غم کے ساتھ ان کا درد و غم سہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کانپتے ہونٹوں پہ بن کر بد دعا رہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہیں اشاروں پر مری موت و حیات دیکھتی رہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہر سمے نبض کائنات خود فریبی بڑھ کے جب بنتی ہے احسا سے شعور جب جواں ہوتا ہے اہل زر کے تیور ہے وہ ہے وہ غرور کسانوں سے کرتے ہیں جب آدمیت کو جدا جب لہو پیتے ہیں تہذیب و تمدن کے خدا بھوت بن کر ناچتا ہے سر پہ جب قومی نظیر و لے کے مذہب کی سپر آتا ہے جب سرمایہ دار راستے جب بند ہوتے ہیں دعاؤں کے لیے آدمی لڑتا ہے جب جھوٹے خداؤں کے لیے زندگی انساں کی کر دیتا ہے جب انساں حرام جب اسے قانون فطرت کا عطا ہوتا ہے نام اہرمہن پھرتا ہے جب اپنا دہن کھولے ہوئے آ سماں سے موت جب آتی ہے پر تولے ہوئے جب بیوقوفی کی نگا ہوں سے تھمتا

Ali Sardar Jafri

1 likes

سال نو یہ ک سے نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کو تمنا رقص کرتی ہے تخیّل گنگناتا ہے تصور اک نئے احسا سے کی جنت ہے وہ ہے وہ لے آیا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہے جبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پر ضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہے شفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کی سریا کی جبیں زہرہ کا آرِز تیمتماتا ہے پرانی سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں نئے دن کا نیا سورج پیام عشق پر اٹھتا آتا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پھروں نئے سر سے نیا رخت سفر باندھا خوشی ہے وہ ہے وہ ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہے ہزاروں خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جہان آرزو کا ذرہ ذرہ گنگناتا ہے نومی گرا ڈال کر آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنکھیں مسکراتی ہیں زما لگ جنبش مژگاں سے افسانے سناتا ہے مسرت کے جواں ملاح کشتی لے کے نکلے ہیں غموں کے نا خداوں کا سفی لگ ڈگمگاتا ہے خوشی مجھ کو بھی ہے لیکن ہے وہ ہے وہ یہ محسو سے کرتا ہوں مسرت کے ا سے آئینے ہے وہ ہے وہ غم بھی جھلمیلاتا ہے <

Ali Sardar Jafri

4 likes

ग़ुलाम तुम भी थे यारों ग़ुलाम हम भी थे नहा के ख़ून में आई थी फ़स्ले-आज़ादी मज़ा तो तब था कि जब मिल कर इलाज-ए-जां करते ख़ुद अपने हाथ से तामीर-ए-गुलसितां करते हमारे दर्द में तुम और तुम्हारे दर्द में हम शरीक़ होते तो जश्न-ए-आशियां करते तुम आओ गुलशन-ए-लाहौर से चमन बर्दोश हम आएँ सुब्ह-ए-बनारस की रौशनी ले कर हिमालय की हवाओं की ताज़गी ले कर और उस के बा'द ये पूछें कौन दुश्मन है ?

Ali Sardar Jafri

1 likes

اٹھو ہند کے باغبانو اٹھو اٹھو انقلابی جوانو اٹھو بیوقوفی اٹھو کام گارو اٹھو نئی زندگی کے شرارو اٹھو اٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سے اٹھو خاک بنگال و کشمیر سے اٹھو وا گرا و دشت و کوہسار سے اٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سے اٹھو مالوے اور میوات سے مہاراشٹر اور گجرات سے اودھ کے چمن سے چہکتے اٹھو گلوں کی طرح سے مہکتے اٹھو اٹھو کھل گیا تو پرچم انقلاب نکلتا ہے ج سے طرح سے آفتاب اٹھو چنو دریا ہے وہ ہے وہ اٹھتی ہے موج اٹھو چنو آندھی کی بڑھتی ہے فوج اٹھو برق کی طرح ہنستے ہوئے کڑکتے گرجتے برستے ہوئے غلامی کی زنجیر کو توڑ دو زمانے کی رفتار کو موڑ دو

Ali Sardar Jafri

14 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's nazm.