nazmKuch Alfaaz

اٹھو ہند کے باغبانو اٹھو اٹھو انقلابی جوانو اٹھو بیوقوفی اٹھو کام گارو اٹھو نئی زندگی کے شرارو اٹھو اٹھو کھیلتے اپنی زنجیر سے اٹھو خاک بنگال و کشمیر سے اٹھو وا گرا و دشت و کوہسار سے اٹھو سندھ و پنجاب و ملبار سے اٹھو مالوے اور میوات سے مہاراشٹر اور گجرات سے اودھ کے چمن سے چہکتے اٹھو گلوں کی طرح سے مہکتے اٹھو اٹھو کھل گیا تو پرچم انقلاب نکلتا ہے ج سے طرح سے آفتاب اٹھو چنو دریا ہے وہ ہے وہ اٹھتی ہے موج اٹھو چنو آندھی کی بڑھتی ہے فوج اٹھو برق کی طرح ہنستے ہوئے کڑکتے گرجتے برستے ہوئے غلامی کی زنجیر کو توڑ دو زمانے کی رفتار کو موڑ دو

Related Nazm

محبوب کو مشورہ دن مہینے سال گزرے جاناں ابھی بسری نہیں ہوں لوگ پھروں کیوں کہ رہے ہیں جاناں کے اب میری نہیں ہوں لوگ پاگل ہیں بیچارے جانتے یہ کچھ نہیں ہیں کہ چکا ہوں جاناں ہوں میری مانتے یہ کچھ نہیں ہیں جاناں نہ آ کر کہو نا کچھ ابھی بدلا نہیں ہیں ہے وہ ہے وہ ہے وہ فقط ناراض ہوں ہے وہ ہے وہ نے ابھی چھوڑا نہیں ہے جاناں نہیں آئی تو پھروں یہ پرسن کے انبار دیں گے پوچھ کر کے یہ تجھے مجھ سے مجھہی کو مار دیں گے پھروں تمہارے پا سے رونے کا سبب جاناں کو ملےگا سوچنا پھروں کیا کبھی حقیقت پیار اب جاناں کو ملےگا سوچ کر کے پھروں مجھے اک دن بہت پچھتاؤگی جاناں پھروں اکیلے اک قدم چلنے سے بھی گھبراؤگی جاناں کیا پتا گھنگرو کی آواز سے جھنجھلا اٹھو جاناں ہاتھ کے کنگن کی کھنکھن سن کہیں پگلا اٹھو جاناں اس کا کا لیے ہے وہ ہے وہ اک پتنگے پھروں سے تمہیں سمجھا رہا ہوں بات مانو لوٹ آؤ ہے وہ ہے وہ تمہیں بتلا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ابھی بھی کہ رہا ہوں کچھ ابھی بگڑا نہیں ہے پیار سے بڑھکر ہمارے بیچ کا جھگڑا نہیں ہے

Aditya Kaushal

6 likes

دولت نا عطا کرنا مولا شہرت نا عطا کرنا مولا ب سے اتنا عطا کرنا چاہے جنت نا عطا کرنا مولا شمہ وطن کی لو پر جب قربان پتنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ب سے ایک صدا ہی سنیں صدا برفیلی مست ہواؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ ب سے ایک دعا ہی اٹھے صدا جلتے تپتے صحراؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ جیتے جی ا سے مان رکھیں مر کر مریادہ یاد رہے ہم رہیں کبھی نا رہیں م گر ا سے کی سج دھج آباد رہے جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں گیتا کا گیان سنے نا سنیں ا سے دھرتی کا یشگان سنیں ہم سبد کیرتن سن نا سکیں بھارت ماں کا جےگان سنیں परवरदिगार,मैं تری دوار پر لے پکار یہ آیا ہوں چاہے اذان نا سنیں کان پر جے جے ہندوستان سنیں جن من ہے وہ ہے وہ اچھل دیش پریم کا جلدھی ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں ہونٹوں پر گنگا ہوں ہاتھوں ہے وہ ہے وہ ترنگا ہوں

Kumar Vishwas

66 likes

لبریز ہے شراب حقیقت سے جام ہند سب فلسفی ہیں خطہ مغرب کے رام ہند یہ ہندیوں کی فکر فلک ر سے کا ہے اثر رفعت ہے وہ ہے وہ آ سماں سے بھی اونچا ہے بام ہند ا سے دی سے ہے وہ ہے وہ ہوئے ہیں ہزاروں ملک سرشت مشہور جن کے دم سے ہے دنیا ہے وہ ہے وہ نام ہند ہے رام کے وجود پہ ہندوستان کو ناز اہل نظر سمجھتے ہیں ا سے کو امام ہند اعزاز ا سے چراغ ہدایت کا ہے یہی روشن تر از سحر ہے زمانے ہے وہ ہے وہ شام ہند تلوار کا دھنی تھا شجاعت ہے وہ ہے وہ فرد تھا پاکیزگی ہے وہ ہے وہ جوش محبت ہے وہ ہے وہ فرد تھا

Allama Iqbal

3 likes

ناقو سے سے غرض ہے لگ زار اذان سے ہے مجھ کو ا گر ہے عشق تو ہندوستان سے ہے تہذیب ہند کا نہیں چشمہ ا گر ازل یہ موج رنگ رنگ پھروں آئی ک ہاں سے ہے زرے ہے وہ ہے وہ گر تڑپ ہے تو ا سے عرض پاک سے سورج ہے وہ ہے وہ روشنی ہے تو ا سے آ سماں سے ہے ہے ا سے کے دم سے گرمی ہنگامہ ج ہاں مغرب کی ساری رونق اسی اک دکان سے ہے

Zafar Ali Khan

2 likes

ایک دن ایک دن جاناں اٹھوگی بستر سے تمہیں میرا خیال آئےگا اور یاد آوےگی عشق دل مری محبت مری باتیں کیسے ایک بے وجہ نے تمہیں چاہا تھا بےانتہا اور پھروں جاناں مری تصویر دیکھوگی تمہاری آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنسو ہوں گے جاناں چاہ کر بھی مجھے بھلا نہیں پاؤ گی ابھی تو جاناں مقر جاوگی م گر ا سے سمے کدھر جاوگی گھر کی در و دیوار دیکھوگی مری تصویریں بنتی نظر آوےگی عشق دل دہلیز سے مری صدائیں آوےگی عشق دل جاناں مری یادوں ہے وہ ہے وہ خود کو تنہا پاؤ گی اور سوچوگی اپنے ا سے انداز پر ج سے طرح جاناں نے مجھے رولایا ستایا م گر تب ہے وہ ہے وہ و ہاں نہیں ر ہوں گا پھولوں کی خوشبوؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بارش کی بوندوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صبح کی چائے ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجھے دیکھوگی مجھے ہی پاؤ گی ہر بے وجہ ہے وہ ہے وہ میرا چہرہ گزارش نگا ہوں ہے وہ ہے وہ مری خوابوں کا پہرہ ہوگا ذہن ہے وہ ہے وہ ب سے مری خیال آئیں گے مری پاک محبت ہوں گی اور تمہارا دل ا سے سمے جاناں سے سوال پوچھےگا کیا کمی تھی ا سے ہے وہ ہے وہ ہے وہ ج

Prit

5 likes

More from Ali Sardar Jafri

سال نو یہ ک سے نے فون پہ دی سال نو کی تہنیت مجھ کو تمنا رقص کرتی ہے تخیّل گنگناتا ہے تصور اک نئے احسا سے کی جنت ہے وہ ہے وہ لے آیا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی رنگین چہرہ مسکراتا ہے جبیں کی چھوٹ پڑتی ہے فلک کے ماہ پاروں پر ضیا پھیلی ہوئی ہے سارا عالم جگمگاتا ہے شفق کے نور سے روشن ہیں محرابیں فضاؤں کی سریا کی جبیں زہرہ کا آرِز تیمتماتا ہے پرانی سال کی ٹھٹھری ہوئی پرچھائیاں سمٹیں نئے دن کا نیا سورج پیام عشق پر اٹھتا آتا ہے ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے پھروں نئے سر سے نیا رخت سفر باندھا خوشی ہے وہ ہے وہ ہر قدم پر آفتاب آنکھیں بچھاتا ہے ہزاروں خواہشیں انگڑائیاں لیتی ہیں سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ جہان آرزو کا ذرہ ذرہ گنگناتا ہے نومی گرا ڈال کر آنکھوں ہے وہ ہے وہ آنکھیں مسکراتی ہیں زما لگ جنبش مژگاں سے افسانے سناتا ہے مسرت کے جواں ملاح کشتی لے کے نکلے ہیں غموں کے نا خداوں کا سفی لگ ڈگمگاتا ہے خوشی مجھ کو بھی ہے لیکن ہے وہ ہے وہ یہ محسو سے کرتا ہوں مسرت کے ا سے آئینے ہے وہ ہے وہ غم بھی جھلمیلاتا ہے <

Ali Sardar Jafri

4 likes

پوچھتا ہے تو کہ کب اور ک سے طرح آتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ گود ہے وہ ہے وہ ناکامیوں کے پرورش پاتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ صرف حقیقت مخصوص سینے ہیں مری آرام گاہ آرزو کی طرح رہ جاتی ہے جن ہے وہ ہے وہ گھٹ کے آہ اہل غم کے ساتھ ان کا درد و غم سہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ کانپتے ہونٹوں پہ بن کر بد دعا رہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رقص کرتی ہیں اشاروں پر مری موت و حیات دیکھتی رہتی ہوں ہے وہ ہے وہ ہر سمے نبض کائنات خود فریبی بڑھ کے جب بنتی ہے احسا سے شعور جب جواں ہوتا ہے اہل زر کے تیور ہے وہ ہے وہ غرور کسانوں سے کرتے ہیں جب آدمیت کو جدا جب لہو پیتے ہیں تہذیب و تمدن کے خدا بھوت بن کر ناچتا ہے سر پہ جب قومی نظیر و لے کے مذہب کی سپر آتا ہے جب سرمایہ دار راستے جب بند ہوتے ہیں دعاؤں کے لیے آدمی لڑتا ہے جب جھوٹے خداؤں کے لیے زندگی انساں کی کر دیتا ہے جب انساں حرام جب اسے قانون فطرت کا عطا ہوتا ہے نام اہرمہن پھرتا ہے جب اپنا دہن کھولے ہوئے آ سماں سے موت جب آتی ہے پر تولے ہوئے جب بیوقوفی کی نگا ہوں سے تھمتا

Ali Sardar Jafri

1 likes

ग़ुलाम तुम भी थे यारों ग़ुलाम हम भी थे नहा के ख़ून में आई थी फ़स्ले-आज़ादी मज़ा तो तब था कि जब मिल कर इलाज-ए-जां करते ख़ुद अपने हाथ से तामीर-ए-गुलसितां करते हमारे दर्द में तुम और तुम्हारे दर्द में हम शरीक़ होते तो जश्न-ए-आशियां करते तुम आओ गुलशन-ए-लाहौर से चमन बर्दोश हम आएँ सुब्ह-ए-बनारस की रौशनी ले कर हिमालय की हवाओं की ताज़गी ले कर और उस के बा'द ये पूछें कौन दुश्मन है ?

Ali Sardar Jafri

1 likes

फिर इक दिन ऐसा आएगा आँखों के दीए बुझ जाएँगे हाथों के कँवल कुम्हलाएँगे और बर्ग-ए-ज़बांसे नुत्क़ ओ सदा की हर तितली उड़ जाएगी इक काले समुंदर की तह में कलियों की तरह से खिलती हुई फूलों की तरह से हंसती हुई सारी शक्लें खो जाएंगी ख़ूंकी गर्दिश दिल की धड़कन सब रागनियां सो जाएंगी और नीली फ़ज़ा की मख़मल पर हंसती हुई हीरे की ये कनी ये मेरी जन्नत मेरी ज़मीं इस की सुब्हें इस की शा में बे-जाने हुए बे-समझे हुए इक मुश्त-ए-ग़ुबार-ए-इंसांपर शबनम की तरह रो जाएंगी हर चीज़ भुला दी जाएगी यादों के हसीं बुत-ख़ाने से हर चीज़ उठा दी जाएगी फिर कोई नहीं ये पूछेगा 'सरदार' कहाँ है महफ़िल में लेकिन मैं यहाँ फिर आऊँगा बच्चों के दहन से बोलूंगा चिड़ियों की ज़बां से गाऊंगा जब बीज हंसेंगे धरती में और कोंपलें अपनी उँगली से मिट्टी की तहों को छेड़ेंगी मैं पत्ती पत्ती कली कली अपनी आँखें फिर खोलूंगा सरसब्ज़ हथेली पर ले कर शबनम के क़तरे तौलूंगा मैं रंग-ए-हिना आहंग-ए-ग़ज़ल अंदाज़-ए-सुख़न बन जाऊँगा रुख़्सार-ए-उरूस-ए-नौ की तरह हर आंचल से छिन जाऊँगा जाड़ों की हवाएंदामन में जब फ़स्ल-ए-ख़िज़ांको लाएंगी रह-रौ के जवां क़दमों के तले सूखे हुए पत्तों से मेरे हँसने की सदाएंआएंगी धरती की सुनहरी सब नदियाँ आकाश की नीली सब झीलें हस्ती से मिरी भर जाएंगी और सारा ज़माना देखेगा हर क़िस्सा मिरा अफ़्साना है हर आशिक़ है 'सरदार' यहाँ हर माशूक़ा 'सुलताना' है मैं एक गुरेज़ांलम्हा हूँ अय्याम के अफ़्सूं-ख़ाने में मैं एक तड़पता क़तरा हूँ मसरूफ़-ए-सफ़र जो रहता है माज़ी की सुराही के दिल से मुस्तक़बिल के पैमाने में मैं सोता हूंऔर जागता हूँ और जाग के फिर सो जाता हूँ सदियों का पुराना खेल हूं मैं मैं मर के अमर हो जाता हूँ

Ali Sardar Jafri

4 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Ali Sardar Jafri.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Ali Sardar Jafri's nazm.