Poetry Collection

Aasman

Sky is earth’s umbrella, a huge protection spread from end to end like earth itself. It is a visual treat but it is also symbolic of divinity and kindness. Sky, however, has also been used as a symbol of rage and wrath. Poets have used sky in multiple ways. Some examples are here to make this point.

Total

24

Sher

24

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیے

آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا

اگر ہے انسان کا مقدر خود اپنی مٹی کا رزق ہونا تو پھر زمیں پر یہ آسماں کا وجود کس قہر کے لیے ہے

زمین کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

~ Ibn-e-Safi

وہ سو رہا ہے خدا دور آسمانوں میں فرشتے لوریاں گاتے ہیں اس کے کانوں میں

بدلے ہوئے سے لگتے ہیں اب موسموں کے رنگ پڑتا ہے آسمان کا سایا زمین پر

گرے گی کل بھی یہی دھوپ اور یہی شبنم اس آسماں سے نہیں اور کچھ اترنے کا

ترس رہی تھیں یہ آنکھیں کسی کی صورت کو سو ہم بھی دشت میں آب رواں اٹھا لائے

ہزار راستے بدلے ہزار سوانگ رچے مگر ہے رقص میں سر پر اک آسمان وہی

اٹھی ہیں میری خاک سے آفات سب کی سب نازل ہوئی نہ کوئی بلا آسمان سے

یوں جو تکتا ہے آسمان کو تو کوئی رہتا ہے آسمان میں کیا

عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں

اے آسمان تیرے خدا کا نہیں ہے خوف ڈرتے ہیں اے زمین ترے آدمی سے ہم

زمین جب بھی ہوئی کربلا ہمارے لیے تو آسمان سے اترا خدا ہمارے لیے

آسماں اپنے ارادوں میں مگن ہے لیکن آدمی اپنے خیالات لیے پھرتا ہے

رفاقتوں کا مری اس کو دھیان کتنا تھا زمین لے لی مگر آسمان چھوڑ گیا

اگر ہے انسان کا مقدر خود اپنی مٹی کا رزق ہونا تو پھر زمیں پر یہ آسماں کا وجود کس قہر کے لیے ہے

زمین کی کوکھ ہی زخمی نہیں اندھیروں سے ہے آسماں کے بھی سینے پہ آفتاب کا زخم

~ Ibn-e-Safi

وہ سو رہا ہے خدا دور آسمانوں میں فرشتے لوریاں گاتے ہیں اس کے کانوں میں

بدلے ہوئے سے لگتے ہیں اب موسموں کے رنگ پڑتا ہے آسمان کا سایا زمین پر

گرے گی کل بھی یہی دھوپ اور یہی شبنم اس آسماں سے نہیں اور کچھ اترنے کا

ترس رہی تھیں یہ آنکھیں کسی کی صورت کو سو ہم بھی دشت میں آب رواں اٹھا لائے

ہزار راستے بدلے ہزار سوانگ رچے مگر ہے رقص میں سر پر اک آسمان وہی

اٹھی ہیں میری خاک سے آفات سب کی سب نازل ہوئی نہ کوئی بلا آسمان سے

You have reached the end.

Explore Similar Collections

Aasman FAQs

Aasman collection me kya milega?

Aasman se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.