زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا: ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ اب عناصر میں اعتدال کہاں انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ شفق سوپوری
Poetry Collection
Anaasir
Anaasir par curated selection jahan sher, ghazal aur nazm ko readable format me discover kiya ja sakta hai.
Total
13
Sher
13
Featured Picks
Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں
موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا
میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا
اب عناصر میں توازن ڈھونڈنے جائیں کہاں ہم جسے ہم راز سمجھے پاسباں نکلا ترا
عناصر کی کوئی ترتیب قائم رہ نہیں سکتی تغیر غیر فانی ہے تغیر جاودانی ہے
ایک ہستی مری عناصر چار ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے
اختلاط اپنے عناصر میں نہیں جو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے
زمیں نئی تھی عناصر کی خو بدلتی تھی ہوا سے پہلے جزیرے پہ دھوپ چلتی تھی
زندگی کیا ہے عناصر میں ظہور ترتیب موت کیا ہے انہیں اجزا کا پریشاں ہونا چکبست کا یہ شعر بہت مشہور ہے۔ غالب نے کیا خوب کہا تھا: ہو گئے مضمحل قویٰ غالبؔ اب عناصر میں اعتدال کہاں انسانی جسم کچھ عناصر کی ترتیب سے تشکیل پاتا ہے۔ حکماء کی نظر میں وہ عناصر آگ، ہوا، مٹی اور پانی ہے۔ ان عناصر میں جب انتشار پیدا ہوتا ہے تو انسانی جسم اپنا توازن کھو بیٹھتا ہے۔یعنی غالب کی زبان میں جب عناصر میں اعتدال نہیں رہتا تو قویٰ یعنی مختلف قوتیں کمزور ہوجاتی ہیں۔ چکبست اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ جب تک انسانی جسم میں عناصر ترتیب کے ساتھ رہتے ہیں آدمی زندہ رہتا ہے۔ اور جب یہ عناصر پریشان ہوجاتے ہیں یعنی ان میں توزن اور اعتدال نہیں رہتا تو موت واقع ہو جاتی ہے۔ شفق سوپوری
مضمحل ہو گئے قویٰ غالب وہ عناصر میں اعتدال کہاں
موت کی ایک علامت ہے اگر دیکھا جائے روح کا چار عناصر پہ سواری کرنا
میں رات سست عناصر سے تنگ آ گیا تھا مری حیات فسردہ میں رنگ آ گیا تھا
اب عناصر میں توازن ڈھونڈنے جائیں کہاں ہم جسے ہم راز سمجھے پاسباں نکلا ترا
عناصر کی کوئی ترتیب قائم رہ نہیں سکتی تغیر غیر فانی ہے تغیر جاودانی ہے
ایک ہستی مری عناصر چار ہر طرف سے گھری سی رہتی ہے
اختلاط اپنے عناصر میں نہیں جو ہے میرے جسم میں بیگانہ ہے
زمیں نئی تھی عناصر کی خو بدلتی تھی ہوا سے پہلے جزیرے پہ دھوپ چلتی تھی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Anaasir FAQs
Anaasir collection me kya milega?
Anaasir se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.