کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
Top 20 Sher Series
Top 20 Sher by Asrarul Haq Majaz
Asrarul Haq Majaz ke selected Top 20 sher ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
20
Sher
20
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہوناوغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔ شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لئے اس پرچم کو بلند کرو۔ شفق سوپوری
عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا
آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے
روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے
ہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھی ہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں
سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے
کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا
تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
ترے ماتھے پہ یہ آنچل بہت ہی خوب ہے لیکن تو اس آنچل سے اک پرچم بنا لیتی تو اچھا تھا یہ شعر اسرارالحق مجاز کے مشہور اشعار میں سے ایک ہے۔ ماتھے پہ آنچل ہونے کے کئی معنی ہیں۔ مثلاً شرم وحیا ہونا، اقدار کا پاس ہوناوغیرہ اور ہندوستانی معاشرے میں ان چیزوں کو عورت کا زیور سمجھا جاتا ہے۔مگر جب عورت کے اس زیور کو مرد اساس معاشرے میں عورت کی کمزوری سمجھا جاتا ہے تو عورت کی شخصیت خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ شاعر نے اسی حقیقت کو اپنے شعر کا مضمون بنایا ہے۔ شاعر عورت سے مخاطب ہوکر کہتے ہیں کہ اگرچہ تمہارے ماتھے پر شرم و حیا کا آنچل خوب لگتا ہے مگر اسے اپنی کمزوری مت بنا۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تم اپنے آنچل سے انقلاب کا پرچم بنا اور اپنے حقوق کے لئے اس پرچم کو بلند کرو۔ شفق سوپوری
عشق کا ذوق نظارہ مفت میں بدنام ہے حسن خود بے تاب ہے جلوہ دکھانے کے لیے
دفن کر سکتا ہوں سینے میں تمہارے راز کو اور تم چاہو تو افسانہ بنا سکتا ہوں میں
بہت مشکل ہے دنیا کا سنورنا تری زلفوں کا پیچ و خم نہیں ہے
روئیں نہ ابھی اہل نظر حال پہ میرے ہونا ہے ابھی مجھ کو خراب اور زیادہ
کیا کیا ہوا ہے ہم سے جنوں میں نہ پوچھئے الجھے کبھی زمیں سے کبھی آسماں سے ہم
یہ آنا کوئی آنا ہے کہ بس رسماً چلے آئے یہ ملنا خاک ملنا ہے کہ دل سے دل نہیں ملتا
آنکھ سے آنکھ جب نہیں ملتی دل سے دل ہم کلام ہوتا ہے
روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے
ہائے وہ وقت کہ جب بے پیے مدہوشی تھی ہائے یہ وقت کہ اب پی کے بھی مخمور نہیں
سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے
کیوں جوانی کی مجھے یاد آئی میں نے اک خواب سا دیکھا کیا تھا
تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Top 20 Sher by Asrarul Haq Majaz FAQs
Asrarul Haq Majaz Top 20 me kya milega?
Asrarul Haq Majaz ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.