ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
Top 20 Sher Series
Top 20 Sher by Dagh Dehlvi
Dagh Dehlvi ke selected Top 20 sher ek clean reading flow me, writer aur full-detail links ke saath.
Total
19
Sher
19
Featured Picks
Series se pehle kuch standout sher padhein.
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا
لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے
دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہے
ہزاروں کام محبت میں ہیں مزے کے داغؔ جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
وفا کریں گے نباہیں گے بات مانیں گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ یہ کلام کس کا تھا
اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغؔ ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
سب لوگ جدھر وہ ہیں ادھر دیکھ رہے ہیں ہم دیکھنے والوں کی نظر دیکھ رہے ہیں
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں
شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو خوشی کی بزم میں کیا کام جلنے والوں کا شبِ وصال یعنی محبوب سے ملاقات کی رات۔ گل کرنا یعنی بجھا دینا۔ اس شعر میں شبِ وصال کی مناسبت سے چراغ اور چراغ کی مناسبت سے گل کرنا۔ اور ’خوشی کی بزم میں‘ کی رعایت سے جلنے والے داغ دہلوی کی مضمون آفرینی کی عمدہ مثال ہے۔ شعر میں کئی کردار ہیں۔ ایک شعری کردار، دوسرا وہ( ایک یا بہت سے) جن سے شعری کردار مخاطب ہے۔ شعر میں جو طنز یہ لہجہ ہے اس نے مجموعی صورت حال کو مزید دلچسپ بنا دیا ہے۔اور جب ’ان چراغوں کو‘ کہا تو گویا کچھ مخصوص چراغوں کی طرف اشارہ کیا۔ شعر کے قریب کے معنی تو یہ ہیں کہ عاشق و معشوق کے ملن کی رات ہے، اس لئے چراغوں کو بجھا دو کیونکہ ایسی راتوں میں جلنے والوں کا کام نہیں۔ چراغ بجھانے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی تھی کہ ملن کی رات میں جو بھی ہو وہ پردے میں رہے مگر جب یہ کہا کہ جلنے والوں کا کیا کام ہے تو شعر کا مفہوم ہی بدل دیا۔ دراصل جلنے والے استعارہ ہیں ان لوگوں کا جو شعری کردار اور اس کے محبوب کے ملن پر جلتے ہیں اور حسد کرتے ہیں۔ اسی لئے کہا ہے کہ ان حسد کرنے والوں کو اس بزم سے اٹھا دو۔
غضب کیا ترے وعدے پہ اعتبار کیا تمام رات قیامت کا انتظار کیا
لپٹ جاتے ہیں وہ بجلی کے ڈر سے الٰہی یہ گھٹا دو دن تو برسے
رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں ادھر جاتا ہے دیکھیں یا ادھر پروانہ آتا ہے
دی شب وصل موذن نے اذاں پچھلی رات ہائے کم بخت کو کس وقت خدا یاد آیا
چپ چاپ سنتی رہتی ہے پہروں شب فراق تصویر یار کو ہے مری گفتگو پسند
رہا نہ دل میں وہ بے درد اور درد رہا مقیم کون ہوا ہے مقام کس کا تھا
فلک دیتا ہے جن کو عیش ان کو غم بھی ہوتے ہیں جہاں بجتے ہیں نقارے وہاں ماتم بھی ہوتے ہے
You have reached the end.
Explore Similar Collections
Top 20 Sher by Dagh Dehlvi FAQs
Dagh Dehlvi Top 20 me kya milega?
Dagh Dehlvi ke selected sher readable cards, internal detail links, aur writer discovery ke saath milenge.
Kya is page ki links internal hain?
Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.
Collection ko kaise explore karein?
Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.