Poetry Collection

WhatsApp

This tag features verses frequently shared by Urdu shayari enthusiasts across WhatsApp, a widely popular social messaging platform.

Total

32

Sher

31

Ghazal

1

Featured Picks

Is collection se writer-diverse top picks for quick reading.

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

یہ نہ تھی ہماری قسمت کہ وصال یار ہوتا اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا

ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں رو پا رہے ہیں آپ بدھائی ہے روئیے

لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں

جانے کیا کچھ ہو چھپا تم میں محبت کے سوا ہم تسلی کے لئے پھر سے کھگالیں گے تمہیں

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

سنا ہے اس کے شبستاں سے متصل ہے بہشت مکیں ادھر کے بھی جلوے ادھر کے دیکھتے ہیں

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

تم آئے ہو نہ شب انتظار گزری ہے تلاش میں ہے سحر بار بار گزری ہے

اس شعر کو اکثر شارحین اور ناقدین نے ترقی پسند فکر کے آئینے میں دیکھا ہے۔ ان کی نظر میں ’’تم‘‘ انقلاب ، شبِ انتظار کشمکش اور استحصال اور تلاش جستجو کی علامت ہے۔ اس اعتبار سے شعر کا مضمون یہ بنتا ہے کہ انقلاب کے کوشاں لوگوں نے استحصالی عناصر کے خلاف ہر چند کی بہت سعی کی مگر ہر دور اپنے ساتھ نئے استحصالی عناصر کو لاتا ہے۔ مگر چونکہ فیض نے اپنی شاعری میں اردو شاعری کی رویت سے بغاوت نہیں کی اور روایتی تلازمات کو ہی برتا ہے اس لئے اس شعر کو اگر ترقی پسند سوچ کے دائرے سے نکال کر بھی دیکھاجائے تو اس میں ایک عاشق اپنے محبوب سے کہتا ہے کہ نہ تم آئے اور نہ انتظار کی رات گزری۔ اگرچہ دستور یہ ہے کہ ہر رات کی صبح ہوتی ہے مگر صبح کے بار بار آنے کے باوجود انتظار کی رات ختم نہیں ہوئی۔ شفق سوپوری

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا دل کے جانے کا نہایت غم رہا

ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو

حالت حال سے بیگانہ بنا رکھا ہے خود کو ماضی کا نہاں خانہ بنا رکھا ہے

پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا

جو گزاری نہ جا سکی ہم سے ہم نے وہ زندگی گزاری ہے

رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ آ پھر سے مجھے چھوڑ کے جانے کے لیے آ

کسی کو گھر سے نکلتے ہی مل گئی منزل کوئی ہماری طرح عمر بھر سفر میں رہا

دنیا نے تیری یاد سے بیگانہ کر دیا تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے

محبت اب نہیں ہوگی یہ کچھ دن بعد میں ہوگی گزر جائیں گے جب یہ دن یہ ان کی یاد میں ہوگی

مجھ سے بچھڑ کے تو بھی تو روئے گا عمر بھر یہ سوچ لے کہ میں بھی تری خواہشوں میں ہوں

ٹھیک ہے خود کو ہم بدلتے ہیں شکریہ مشورت کا چلتے ہیں

میں اب ہر شخص سے اکتا چکا ہوں فقط کچھ دوست ہیں اور دوست بھی کیا

ہم ہیں اسیر ضبط اجازت نہیں ہمیں رو پا رہے ہیں آپ بدھائی ہے روئیے

جیسی اب ہے ایسی حالت میں نہیں رہ سکتا میں ہمیشہ تو محبت میں نہیں رہ سکتا

لایا ہے مرا شوق مجھے پردے سے باہر میں ورنہ وہی خلوتیٔ راز نہاں ہوں

غم رہا جب تک کہ دم میں دم رہا دل کے جانے کا نہایت غم رہا

ہم ترا ہجر منانے کے لیے نکلے ہیں شہر میں آگ لگانے کے لیے نکلے ہیں

بس محبت بس محبت بس محبت جان من باقی سب جذبات کا اظہار کم کر دیجیے

رکھی ہوئی ہے دونوں کی بنیاد ریت پر صحرائے بے کراں کو سمندر لکھیں گے ہم

پہلے صحرا سے مجھے لایا سمندر کی طرف ناؤ پر کاغذ کی پھر مجھ کو سوار اس نے کیا

میری کوشش تو یہی ہے کہ یہ معصوم رہے اور دل ہے کہ سمجھ دار ہوا جاتا ہے

Explore Similar Collections

WhatsApp FAQs

WhatsApp collection me kya milega?

WhatsApp se related curated sher, selected ghazal excerpts aur context-friendly reading flow milega.

Kya is page ki links internal hain?

Haan, collection links, writer links aur detail links sab Kuch Alfaaz ke internal routes par map kiye gaye hain.

Collection ko kaise explore karein?

Type filter (Sher/Ghazal/Nazm), featured picks aur similar collections rail use karke fast discovery kar sakte hain.