آنکھوں کا تھا قصور لگ دل کا قصور تھا آیا جو مری سامنے میرا غرور تھا تاریک مثل آہ جو آنکھوں کا نور تھا کیا صبح ہی سے شام بلا کا ظہور تھا حقیقت تھے لگ مجھ سے دور لگ ہے وہ ہے وہ ان سے دور تھا آتا لگ تھا نظر تو نظر کا قصور تھا ہر سمے اک خمار تھا ہر دم سرور تھا بوتل بغل ہے وہ ہے وہ تھی کہ دل نا صبور تھا کوئی تو دردمند دل نا صبور تھا مانا کہ جاناں لگ تھے کوئی جاناں سا ضرور تھا لگتے ہی ساز آرزو ٹوٹ گیا تو شیشہ دل ملتے ہی آنکھ رنگینیوں چور چور تھا ایسا ک ہاں بہار ہے وہ ہے وہ جوش کا خون تمنا شامل کسی کا چشم مست ضرور تھا ساقی کی پلٹی کا کیا کیجیے نقص اتنا سرور تھا کہ مجھے بھی سرور تھا آہ نا مراد جو راستے ہی سے اے باب اثر یہ تو بتا کہ نشتر کتنی دور تھا ج سے دل کو جاناں نے لطف سے اپنا بنا لیا ا سے دل ہے وہ ہے وہ اک چھپا ہوا چشم مے فروش ضرور تھا ا سے بقدر حوصلہ دل سے کوئی لگ بچ سکا سب کو اندھیرا سرور تھا دیکھا تھا کل ج گر کو سر راہ مے کدا ا سے درجہ پی گیا تو تھا کہ نہشے ہے وہ ہے وہ چور ت
Related Ghazal
پاگل کیسے ہوں جاتے ہیں دیکھو ایسے ہوں جاتے ہیں خوابوں کا دھندہ کرتی ہوں کتنے پیسے ہوں جاتے ہیں دنیا سا ہونا مشکل ہے تری چنو ہوں جاتے ہیں مری کام خدا کرتا ہے تری ویسے ہوں جاتے ہیں
Ali Zaryoun
158 likes
ہم نے کب چاہا کہ حقیقت بے وجہ ہمارا ہوں جائے اتنا دکھ جائے کہ آنکھوں کا گزارا ہوں جائے ہم جسے پا سے بٹھا لیں حقیقت بچھڑ جاتا ہے جاناں جسے ہاتھ لگا دو حقیقت تمہارا ہوں جائے جاناں کو لگتا ہے کہ جاناں جیت گئے ہوں مجھ سے ہے یہی بات تو پھروں کھیل دوبارہ ہوں جائے ہے محبت بھی غضب طرز تجارت کہ ی ہاں ہر دکاں دار یہ چاہے کہ خسارہ ہوں جائے
Yasir Khan
92 likes
کسی لبا سے کی خوشبو جب اڑ کے آتی ہے تری بدن کی جدائی بے حد ستاتی ہے تری گلاب ترستے ہیں تیری خوشبو کو تیری سفید چمیلی تجھے بلاتی ہے تری بغیر مجھے چین کیسے پڑتا ہیں مری بغیر تجھے نیند کیسے آتی ہے
Jaun Elia
113 likes
اک پل ہے وہ ہے وہ اک ص گرا کا مزہ ہم سے پوچھیے دو دن کی زندگی کا مزہ ہم سے پوچھیے بھولے ہیں رفتہ رفتہ ا نہیں مدتوں ہے وہ ہے وہ ہم قسطوں ہے وہ ہے وہ خود کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے آغاز کرنے والے کا مزہ آپ جانیے انجام کرنے والے کا مزہ ہم سے پوچھیے جلتے دیوں ہے وہ ہے وہ جلتے گھروں جیسی ذو ک ہاں سرکار روشنی کا مزہ ہم سے پوچھیے حقیقت جان ہی گئے کہ ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ان سے پیار ہے آنکھوں کی مخبری کا مزہ ہم سے پوچھیے ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح ہنسیے م گر ہنسی کا مزہ ہم سے پوچھیے ہم توبہ کر کے مر گئے بے موت اے خمار توہین مے کشی کا مزہ ہم سے پوچھیے
Khumar Barabankvi
95 likes
مری لیے تو عشق کا وعدہ ہے شاعری آدھا سرور جاناں ہوں تو آدھا ہے شاعری رودراکش ہاتھ ہے وہ ہے وہ ہے تو سینے ہے وہ ہے وہ اوم ہے اندھیرا ہے میرا دل مری رادھا ہے شاعری اپنا تو میل جول ہی ب سے عاشقوں سے ہے درویش کا ب سے ایک لبادہ ہے شاعری ہوں آشنا کوئی تو مہ لقا ہے اپنا رنگ بے رموزیوں کے واسطے سادہ ہے شاعری جاناں سامنے ہوں اور مری دسترسی ہے وہ ہے وہ ہوں ا سے سمے مری دل کا ارادہ ہے شاعری بھگوان ہوں خدا ہوں محبت ہوں یا بدن ج سے سمت بھی چلو یہی زادہ ہے شاعری ا سے لیے بھی عشق ہی لکھتا ہوں ہے وہ ہے وہ علی میرا کسی سے آخری وعدہ ہے شاعری
Ali Zaryoun
70 likes
More from Jigar Moradabadi
کیا ت غضب کہ مری روح رواں تک پہنچے پہلے کوئی مری ن غموں کی زبان تک پہنچے جب ہر اک شورش غم ضبط فغاں تک پہنچے پھروں خدا جانے یہ ہنگامہ ک ہاں تک پہنچے آنکھ تک دل سے لگ آئی لگ زبان تک پہنچے بات ج سے کی ہے اسی آفت جاں تک پہنچے تو ج ہاں پر تھا بے حد پہلے وہیں آج بھی ہے دیکھ رندان خوش انفا سے ک ہاں تک پہنچے جو زمانے کو برا کہتے ہیں خود ہیں حقیقت برے کاش یہ بات تری گوش گراں تک پہنچے بڑھ کے رندوں نے قدم حضرت واعظ کے لیے گرتے پڑتے جو در پیر مغاں تک پہنچے تو مری حال پریشاں پہ بے حد طنز لگ کر اپنے گیسو بھی ذرا دیکھ ک ہاں تک پہنچے ان کا جو فرض ہے حقیقت اہل سیاست جانیں میرا پیغام محبت ہے ج ہاں تک پہنچے عشق کی چوٹ دکھانے ہے وہ ہے وہ کہی آتی ہے کچھ اشارے تھے کہ جو لفظ و بیاں تک پہنچے رکے بیتاب تھے جو پردہ فطرت ہے وہ ہے وہ ج گر خود تڑپ کر مری چشم نگراں تک پہنچے
Jigar Moradabadi
1 likes
حقیقت جو روٹھیں یوں منانا چاہیے زندگی سے روٹھ جانا چاہیے ہمت قاتل بڑھانا چاہیے زیر خنجر مسکرانا چاہیے زندگی ہے نام جہد و جنگ کا موت کیا ہے بھول جانا چاہیے ہے انہی دھوکے سے دل کی زندگی جو حسین دھوکہ ہوں خا لگ چاہیے لذتیں ہیں دشمن اوج غصہ کلفتوں سے جی لگانا چاہیے ان سے ملنے کو تو کیا کہیے ج گر خود سے ملنے کو زما لگ چاہیے
Jigar Moradabadi
1 likes
عشق کو بے نقاب ہونا تھا آپ اپنا جواب ہونا تھا مست جام شراب ہونا تھا بے خود اضطراب ہونا تھا تیری آنکھوں کا کچھ قصور نہیں ہاں مجھہی کو خراب ہونا تھا آؤ مل جاؤ مسکرا کے گلے ہوں چکا جو عتاب ہونا تھا کوچہ عشق ہے وہ ہے وہ نکل آیا ج سے کو خا لگ خراب ہونا تھا مست جام شراب خاک ہوتے غرق جام شراب ہونا تھا دل کہ ج سے پر ہیں نقش رنگا رنگ ا سے کو سادہ کتاب ہونا تھا ہم نے ناکامیوں کو ڈھونڈ لیا آخرش کامیاب ہونا تھا ہاں یہ حقیقت لمحہ سکون کہ جسے محشر اضطراب ہونا تھا نگہ یار خود تڑپ اٹھتی شرط اول خراب ہونا تھا کیوں لگ ہوتا ستم بھی بے پایاں کرم بے حساب ہونا تھا کیوں نظر حیرتوں ہے وہ ہے وہ ڈوب گئی موج صد اضطراب ہونا تھا ہوں چکا روز اولیں ہی ج گر ج سے کو جتنا خراب ہونا تھا
Jigar Moradabadi
1 likes
بے کیف دل ہے اور جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ خالی ہے شیشہ اور پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پےہم جو آہ آہ کیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ دولت ہے غم زکات دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ مجبوری غصہ محبت تو دیکھنا جینا نہیں قبول جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ حقیقت دل ک ہاں ہے اب کہ جسے پیار کیجیے مجبوریاں ہیں ساتھ دیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ رخصت ہوئی شباب کے ہمراہ زندگی کہنے کی بات ہے کہ جیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ پہلے شراب آب و زیست تھی اب آب و زیست ہے شراب کوئی پلا رہا ہے پیے جا رہا ہوں ہے وہ ہے وہ
Jigar Moradabadi
1 likes
سبھی شعلہ خو پیاری ہیں ہم م گر سادگی کے مارے ہیں ا سے کی راتوں کا انتقام لگ پوچھ ج سے نے ہن سے ہن سے کے دن گزارے ہیں اے سہاروں کی زندگی والو کتنے انسان بے سہارے ہیں لالا و گل سے تجھ کو کیا نسبت نا مکمل سے استعارے ہیں ہم تو اب ڈوب کر ہی ابھریں گے حقیقت رہیں شاد جو کنارے ہیں شب فرقت بھی جگمگا اٹھی خوشی غم ہیں کہ ماہ پارے ہیں آتش عشق حقیقت جہنم ہے ج سے ہے وہ ہے وہ تعلق کے نظارے ہیں حقیقت ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ ہیں کہ جن کے ہاتھوں نے گیسو زندگی سنواردے ہیں حسن کی بے نیازیاں پہ لگ جا بے اشارے بھی کچھ اشارے ہیں
Jigar Moradabadi
4 likes
Similar Writers
Our suggestions based on Jigar Moradabadi.
Similar Moods
More moods that pair well with Jigar Moradabadi's ghazal.







