ghazalKuch Alfaaz

آنکھوں ہے وہ ہے وہ جل رہا ہے بچیں شورش نہیں دھواںاٹھتا تو ہے گھٹا سا برستا نہیں دھواں پلکوں کے ڈھانپنے سے بھی رکتا نہیں دھواںکتنی انڈیلیں آنکھیں بچیں شورش نہیں دھواں آنکھوں سے آنسوؤں کے مراسم پرانی ہیں مہمان یہ گھر ہے وہ ہے وہ آئیں تو چبھتا نہیں دھواں چولہے نہیں جلائے کہ بستی ہی جل گئی کچھ روز ہوں گئے ہیں اب اٹھتا نہیں دھواں کالی لکیرے کھینچ رہا ہے فضاؤں ہے وہ ہے وہ ہے وہ بورا گیا تو ہے منا سے کیوں کھلتا نہیں دھواں آنکھوں کے پونہچنے سے لگا آگ کا پتا یوں چہرہ پھیر لینے سے چھپتا نہیں دھواں چنگاری اک اٹک سی گئی مری سینے ہے وہ ہے وہ ہے وہ تھوڑا سا آ کے پھونک دو اڑتا نہیں دھواں

Gulzar1 Likes

Related Ghazal

چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں سارے مرد ایک چنو ہیں جاناں نے کیسے کہ ڈالا ہے وہ ہے وہ ہے وہ بھی تو ایک مرد ہوں جاناں کو خود سے بہتر مانتا ہوں ہے وہ ہے وہ ہے وہ نے ا سے سے پیار کیا ہے ملکیت کا دعویٰ نہیں حقیقت ج سے کے بھی ساتھ ہے ہے وہ ہے وہ اس کا کو بھی اپنا مانتا ہوں چادر کی عزت کرتا ہوں اور پردے کو مانتا ہوں ہر پردہ پردہ نہیں ہوتا اتنا ہے وہ ہے وہ بھی جانتا ہوں

Ali Zaryoun

105 likes

پوچھ لیتے حقیقت ب سے مزاج میرا کتنا آسان تھا علاج میرا چارہ گر کی نظر بتاتی ہے حال اچھا نہیں ہے آج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ تو رہتا ہوں دشت ہے وہ ہے وہ مصروف قی سے کرتا ہے کام کاج میرا کوئی کاسا مدد کو بھیج اللہ مری ب سے ہے وہ ہے وہ نہیں ہے تاج میرا ہے وہ ہے وہ ہے وہ محبت کی بادشاہت ہوں مجھ پہ چلتا نہیں ہے راج میرا

Fahmi Badayuni

96 likes

چلا ہے سلسلہ کیسا یہ راتوں کو منانے کا تمہیں حق دے دیا ک سے نے دیوں کے دل دکھانے کا ارادہ چھوڑیے اپنی حدوں سے دور جانے کا زما لگ ہے زمانے کی نگا ہوں ہے وہ ہے وہ لگ آنے کا ک ہاں کی دوستی کن دوستوں کی بات کرتے ہوں میاں دشمن نہیں ملتا کوئی اب تو ٹھکانے کا نگا ہوں ہے وہ ہے وہ کوئی بھی دوسرا چہرہ نہیں آیا بھروسا ہی کچھ ایسا تھا تمہارے لوٹ آنے کا یہ ہے وہ ہے وہ ہی تھا بچا کے خود کو لے آیا کنارے تک سمندر نے بے حد موقع دیا تھا ڈوب جانے کا

Waseem Barelvi

103 likes

حقیقت بےوفا ہے تو کیا مت کہو برا اس کا کو کہ جو ہوا سو ہوا خوش رکھے خدا اس کا کو نظر لگ آئی تو ا سے کی تلاش ہے وہ ہے وہ رہنا کہی ملے تو پلٹ کر لگ دیکھنا اس کا کو حقیقت سادہ خوں تھا زمانے کے خم سمجھتا کیا ہوا کے ساتھ چلا لے اڑی ہوا اس کا کو حقیقت اپنے بارے ہے وہ ہے وہ کتنا ہے خوش گماں دیکھو جب اس کا کو ہے وہ ہے وہ بھی لگ دیکھوں تو دیکھنا اس کا کو

Naseer Turabi

244 likes

تماشا دیر و حرم دیکھتے ہیں تجھے ہر بہانے سے ہم دیکھتے ہیں ہماری طرف اب حقیقت کم دیکھتے ہیں حقیقت نظریں نہیں جن کو ہم دیکھتے ہیں زمانے کے کیا کیا ستم دیکھتے ہیں ہ ہے وہ ہے وہ ہے وہ جانتے ہیں جو ہم دیکھتے ہیں

Dagh Dehlvi

84 likes

More from Gulzar

ऐसा ख़ामोश तो मंज़र न फ़ना का होता मेरी तस्वीर भी गिरती तो छनाका होता यूँँ भी इक बार तो होता कि समुंदर बहता कोई एहसास तो दरिया की अना का होता साँस मौसम की भी कुछ देर को चलने लगती कोई झोंका तिरी पलकों की हवा का होता काँच के पार तिरे हाथ नज़र आते हैं काश ख़ुशबू की तरह रंग हिना का होता क्यूँँ मिरी शक्ल पहन लेता है छुपने के लिए एक चेहरा कोई अपना भी ख़ुदा का होता

Gulzar

3 likes

ذکر آئی تو مری لب سے دعائیں نکلیں شمع جلتی ہے تو لازم ہے شعائیں نکلیں سمے کی قابو سے کٹ جاتے ہیں سب کے سینے چاند کا چھلکا اتر جائے تو قاشیں نکلیں دفن ہوں جائیں کہ زرخیز ز ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگتی ہے کل اسی مٹی سے شاید مری شاخیں نکلیں چند امیدیں نچوڑی تھیں تو آہیں ٹپکیں دل کو پگھلائیں تو ہوں سکتا ہے سانسیں نکلیں غار کے منا پہ رکھا رہنے دو سنگ خورشید غار ہے وہ ہے وہ ہاتھ لگ ڈالو کہی راتیں نکلیں

Gulzar

2 likes

تجھ کو دیکھا ہے جو دریا نے ادھر آتے ہوئے کچھ بھنور ڈوب گئے پانی ہے وہ ہے وہ چھینا جھپٹی ہوئے ہم نے تو رات کو دانتوں سے پکڑ کر رکھا ہوںگا ہے وہ ہے وہ پیام عشق کھلتا گیا تو جاتے ہوئے ہے وہ ہے وہ ہے وہ لگ مرجھاتے تو اڑائے کیسے کٹےگی تیری شوخ پتے نے کہا شاخ سے بلکتی ہوئے حسرتیں اپنی یتیموں لگ داڑھیاں کی طرح ہم کو آواز ہی دے لیتے ذرا جاتے ہوئے سی لیے ہونٹ حقیقت پاکیزہ نگاہیں سن کر میلی ہوں جاتی ہے آواز بھی دہراتے ہوئے

Gulzar

1 likes

او سے پڑی تھی رات بے حد اور کہرا تھا گرمائش پر سیلی سی خموشی ہے وہ ہے وہ آواز سنی فرمائش پر فاصلے ہیں بھی اور نہیں بھی ناپا تولا کچھ بھی نہیں لوگ ب زید رہتے ہیں پھروں بھی رشتوں کی پیمائش پر منا موڑا اور دیکھا کتنی دور کھڑے تھے ہم دونوں آپ بےخوف تھے ہم سے ب سے اک کروٹ کی گنجائش پر کاغذ کا اک چاند لگا کر رات اندھیری کھڑکی پر دل ہے وہ ہے وہ کتنے خوش تھے اپنی فرقت کی آرائش پر دل کا حجرہ کتنی بار اجڑا بھی اور بسایا بھی ساری عمر ک ہاں ٹھہرا ہے کوئی ایک رہائش پر دھوپ اور چھاؤں بانٹ کے جاناں نے آنگن ہے وہ ہے وہ دیوار چنی کیا اتنا آسان ہے زندہ رہنا ا سے آسائش پر شاید تین نجومی مری موت پہ آ کر پہنچیں گے ایسا ہی اک بار ہوا تھا عیسی کی پیدائش پر

Gulzar

1 likes

تنکہ تنکہ کانٹے گرفت ساری رات کٹائی کی کیوں اتنی لمبی ہوتی ہے چاندنی رات جدائی کی نیند ہے وہ ہے وہ کوئی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا ہے کال کوئیں ہے وہ ہے وہ گونجتی ہے آواز کسی سودائی کی سینے ہے وہ ہے وہ دل کی آہٹ چنو کوئی جاسو سے چلے ہر سائے کا پیچھا کرنا عادت ہے ہر جائی کی آنکھوں اور کانوں ہے وہ ہے وہ کچھ سناٹے سے بھر جاتے ہیں کیا جاناں نے اڑتی دیکھی ہے ریت کبھی تنہائی کی تاروں کی روشن فصلیں اور چاند کی ایک درانتی تھی ساہو نے گروی رکھ لی تھی مری رات کٹائی کی

Gulzar

0 likes

Similar Writers

View All ›

Our suggestions based on Gulzar.

Similar Moods

View All ›

More moods that pair well with Gulzar's ghazal.